🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَلَاقِ عَلَى التَّقْصِيرِ
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4539
عَنِ ابْنِ قَارِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ) ) قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ( (وَالْمُقَصِّرِينَ) ) يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوَسِّعُ يَدَهُ
۔ سیدنا قارب بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والے کو بھی بخش دے۔ سفیان اپنے ہاتھ کے ساتھ کمی اور قلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن جب (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر منڈوانے والوں کی بات کر رہے تھے) تو وہ اپنے ہاتھ سے وسعت کا اشارہ کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4539]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 1135، والحميدي في ’’مسنده‘‘: 931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27744»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے الفاظ اور ان کی مقدار تو ہمارے سامنے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے دو تین مرتبہ اور تقصیر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول الذکر لوگوں کے لیے بڑی رغبت کے ساتھ اور وسعت ِ قلبی سے دعا کر رہے تھے، لیکن مؤخر الذکر افراد کے لیے سادہ سے الفاظ میں دعائیہ کلمات کہہ دیئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ الْحَلْقُ، اِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔)) … ”عورتوں پر سر کا مونڈنا نہیں ہے، بلکہ عورتوں پر صرف تقصیر ہے۔“ (ابوداود: ۱۹۸۵) عام اہل علم کا خیال ہے کہ عورتوں کو انگلیوں کے اوپر والے پوروں کے برابر بال ترشوا لینے چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 1135
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ الْإِفَاضَةِ عَنْ مِنَى لِلطَّوَافِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ الْمُسَمَّى بِطَوَافِ الْإِفَاضَةِ أَوْ
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4540
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنَى
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر کو طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس لوٹ آئے اور نمازِ ظہر منی میں ادا کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4540]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم:1308، وأخرجه البخاري: 1732 موقوفا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4898»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے واپس آ کر مِنٰی میں نمازِ ظہر ادا کی، لیکن صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیثیوں ہے: ((ثُمَّ رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَفَاضَ اِلَی الْبَیْتِ فَصَلّٰی الظُّھْرَ بِمَکَّۃَ)) … پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور (مِنٰی سے مکہ پہنچ کر) طوافِ افاضہ کیا اور مکہ میں ہی نمازِ طہر ادا کی۔ امام نووینے ان دو احادیث میں جمع تطبیق دیتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال سے پہلے طوافِ افاضہ کیا، پھر نمازِ ظہر کو اس کے پہلے وقت میں مکہ میں ہی ادا کیا، لیکن پھر جب مِنٰی کی طرف واپس گئے اور دیکھا کہ صحابہ نے ابھی تک نمازِ ظہر ادا نہیں کی، جبکہ انھوں نے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ نماز پڑھائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو نفل نماز پڑھائی، (بعض صحابہ نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہی نمازِ ظہر ہے) اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایک دفعہ اسی طرح نمازِ خوف پڑھائی تھی،یعنی ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرضی نماز تھی اور دوسرے گروہ پھر دو رکعتیں پڑھائی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفلی نماز تھی۔ (شرح مسلم للنووی: ۸/۱۹۳)امام ابن منذر نے بھی اسی قسم کی بات کی ہے، لیکن امام شوکانی کی جمع تطبیق کی پیش کردہ صورت قدرے مختلف ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں ہی نمازِ ظہر ادا کر لی،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنٰی واپس پہنچے تو دیکھا کہ صحابہ باجماعت نمازِ ظہر ادا کر رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ نفل کی نیت سے داخل ہوگئے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ جو آدمی پہلے نماز پڑھ چکا ہو، اگر وہ جماعت کو پا لے تو (نفل کی نیت سے) دوبارہ نماز پڑھ لے۔ (نیل الاوطار: ۵/۱۳۱)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم:1308
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4541
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنَى لَيْلًا
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو منی سے آ کر طوافِ افاضہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4541]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشاھد، وھذا الحديث اسناده ضعيف، ابوالزبير محمد بن مسلم موصوف بالتدليس وقد عنعن، لكن تابعه محمد بن طارق،ولكنه عن طاؤوس مرسل۔ أخرجه ابوداود: 2000، والترمذي: 920، وابن ماجه: 3059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2611»

الحكم على الحديث:
صحيح بالشاھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4542
(وَعَنْهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَارَ الْبَيْتَ لَيْلًا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو بیت اللہ کا طوافِ زیارت کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4542]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26238»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26238
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
(وَعَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر کے طواف کو رات تک مؤخر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4543]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2612»
وضاحت: فوائد: … تعارض کی ایک شکل پھر پیدا ہوگئی ہے اور وہ اس طرح کہ اس باب کی پہلی روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا تھا، لیکن اِن روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ طواف رات کو کیا تھا۔ اس تعارض کو اس طرح دور کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی زوال سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا تھا، لیکن امہات المؤمنین کو یہ طواف کروانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تھے، اس تطبیق کی تائید سنن بیہقی کی اس روایت سے ہوتی ہے: ((وَزَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَعَ نِسَائِہٖلَیْلًا)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو اپنی بیویوں کے ساتھ طوافِ زیارت کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2612
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ: فَصَارَ إِلَيَّ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصِينَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: ( (هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟) ) قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ) ) قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِّمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ فَإِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ عُدْتُّمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یوم النحر کی شام کو میری رات ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس آنا تھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آ گئے، اتنے میں سیدنا وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آگئے، جبکہ ان کے ساتھ آلِ ابو امیہ کا ایک آدمی بھی تھا، ان دونوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوعبد اللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر قمیص اتار دو۔ انھوں نے بھی سر کی جانب سے قمیص اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی سر کی طرف سے قمیص اتار دی، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن میں ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب تم لوگ جمرہ کی رمی کر لو تو تم حلال ہو جاؤ گئے، یعنی تم کو جن امور سے (احرام کی وجہ سے) منع کر دیا تھا، وہ جائز ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، لیکن جب تم شام تک بیت اللہ کا طواف ہی نہ کر سکو تو تم احرام کی اسی حالت میں لوٹ آؤ گے، جو جمرہ کی رمی سے پہلے تھی،یہاں تک کہ تم یہ طواف کر لو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27065»

الحكم على الحديث:
قال الالباني: حسن صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1999
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544M
قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ: أَبُو عُبَيْدَةَ وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَاشَةُ! مَالَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ: كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ
۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں: میری پڑوسن سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے کہا: بنو اسد کے کچھ افراد سمیت سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ میرے پاس سے نکلے، ان لوگوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور یہیوم النحر کی شام تھی، لیکن جب عشاء کے وقت یہ لوگ واپس آئے تو انھون نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے عکاشہ! کیا ہوا تم لوگوں کو، جب تم نکلے تھے تو تم نے قمیصیں پہنیں ہوئی تھیں اور جب لوٹے ہو تو تم نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اس دس ذوالحجہ کے دن کو ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم جمرہ کی رمی کر لیں تو (احرام کی وجہ سے) ممنوعہ چیزیں ہمارے لیے حلال ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، وہ طوافِ افاضہ کے بعد حلال ہوں گی، لیکن اگر اس طرح ہو جائے کہ شام تک ہم طواف نہ کر سکیں تو ہم احرام کی اسی حالت میں واپس آ جائیں گے، جس میں ہم جمرہ کی رمی سے پہلے تھے، پھر بیت اللہ کا طواف کر لینے تک احرام کی حالت میں ہی ٹھہریں گے۔ چونکہ ہم نے طواف نہیں کیا تھا، اس لیے ہم نے اپنی قمیصیں اس طرح کر لی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4544M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة لم يذكره احد بجرح ولا تعديل، وقد روي عنه جمع، وقال ابن حجر: مقبول، وقد اضطرب فيه۔ أخرجه الحاكم: 1/ 489، والبيھقي: 5/ 137، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27066»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ”أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَیْسٍ“، مجمع الزوائد میں مسند احمد کے حوالے یہ الفاظ اس طرح ہیں: ”خَیْرًایَا اُمَّ قَیْس“، اورسنن بیہقی کی روایت کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں اور معنی بھی ان ہی الفاظ کے ساتھ درست بنتا ہے۔ معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اصل الفاظ تو ”خَیْرًایَا اُمَّ قَیْسٍ“ ہی تھے، کسی لکھنے والے سے غلطی ہو گئی اور اس نے ”أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَیْسٍ“ کے الفاظ لکھ دیئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہم نے ان ہی الفاظ کے مطابق ترجمہ کر دیا ہے۔ اس حدیث میںجو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ اس سے سابق حدیث کی بنا پر صحیح ہے۔ آخری دو احادیث میں جو مسئلہ بیان کیا گیا، سارے کے سارے حجاج کرام اس سے غافل ہیں، الا ماشاء اللہ، اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ حرمین شریفین میں حج و عمرہ کے موضوع پر لکھی گئی جتنی پاکٹ سائز کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں، ان میں یہ مسئلہ بیان نہیں کیا گیا اور وہ مسئلہ یہ ہے: جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد میاں بیوی کے خاص تعلق کے علاوہ احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن اگر کوئی آدمی شام تک طوافِ افاضہ نہ کر سکے تو یہ طواف مکمل کرنے تک احرام کی تمام پابندیاں دوبارہ عائد ہو جاتی ہیں، جن میں سب سے مشکل پابندییہ ہوتی ہے کہ شلوار قمیضیا عام لباس اتار کر احرام والی دو چادریں پہنی جائیں، کیونکہ حجاج کرام کا سامان ان کی رہائش گاہوں میںیا مِنٰی میں پڑا ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو شام سے پہلے طوافِ افاضہ مکمل نہ کر لینے کا شبہ ہو تو وہ احرام کی چادریں اپنے ساتھ رکھے یا سرے سے طواف کر لینے تک احرام والا لباس ہی نہ اتارے۔ آخری دو احادیث میں لفظ ”مَسَائ“ استعمال ہوا ہے، ہم نے جس کا معنی ”شام“ کیا ہے، حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق زوال آفتاب کے بعد سے لے کر سخت اندھیرا ہو جانے تک ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث میں اس سے مراد رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ اور رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے، حدیث نمبر (۴۵۴۴)کے ابتدائی حصے سے حافظ ابن حجر کے رجحان کو تقویت ملتی ہے، نیز حدیث نمبر (۴۵۴۴م) کے طحاوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَّمْ یُفِضْ اِلَی الْبَیْتِ مِنْ عَشِیَّۃِ ھٰذِہٖفَلْیَدَعِ الثِّیَابَ وَالطِّیْبَ۔)) … ”جو اس دن کے ”عَشِیّۃ“ کو طواف نہ کر سکا، تو وہ کپڑے اتار دے اور خوشبو کو ترک کر دے۔ “یہاں ”عَشِیّۃ“ سے مراد زوال آفتاب سے غروبِ آفتاب کا وقت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
طواف افاضہ حج کا رکن ہے، اس کی ادائیگی کا افضل طریقہیہ ہے کہ جمرۂ عقبہ کی رمی، قربانی اور حجامت کے بعد اور زوال سے پہلے پہلے یہ طواف کر لیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا۔ طوف زیارت جلد از جلد ادا کر لیا جائے، بوجہ عذر یہ طواف (۱۳) ذوالحجہ غروبِ آفتاب تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، اس طواف کے بعد آدمی مکمل طور پر حلال ہو جاتا ہے، یعنی بیویوں سے ہم بستری بھی کر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ النَّحْرِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالْإِفَاضَةِ بَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ( (لَا حَرَجَ) ) وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ( (لَا حَرَجَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃالوداع کے موقع پر ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی سے قبل سر منڈوالیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی نے کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا اشارہ کیا۔ اس دن ان امور کی تقدیم وتاخیر کے متعلق جس نے جو بھی بات دریافت کی، اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 84، 1723، 1734، 1735، ومسلم: 1307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2648»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 84
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4546
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الذَّبْحِ وَالرَّمْيِ وَالْحَلْقِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ: ( (لَا حَرَجَ) )
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربانی، رمی اور سر منڈوانے کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2338»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: ( (لَا حَرَجَ) )
۔ (تیسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناسکِ حج کی تقدیم وتاخیرکے متعلق جو سوال بھی کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1858»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1858
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں