الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ النَّحْرِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالْإِفَاضَةِ بَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
حدیث نمبر: 4548
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ؟ قَالَ: ( (فَلَا حَرَجَ فَاحْلِقْ) ) ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ فَقَالَ: ( (لَا حَرَجَ فَانْحَرْ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: میں جمرہ کی رمی اور طواف افاضہ تو کر چکا ہوں، لیکن ابھی تک میں نے سر نہیں منڈوایا اور دوسرے کپڑے پہن لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے،اب سر منڈوالو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں رمی اور سر منڈوانے سے فارغ ہو گیا ہوں اور دوسرا لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، اب قربانی کر لو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4548]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 564»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4549
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنَى قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ: ( (اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ) ) قَالَ: ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ( (فَارْمِ وَلَا حَرَجَ) ) قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ( (اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ) ) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ( (ارْمِ وَلَا حَرَجَ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں اپنی سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سمجھتا تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈاناہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے منڈوا لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ذبح کرلو، اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ ذبح کرنا رمی سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اب رمی کرلو۔ اس روز جس شخص نے ان امور کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔ عبدالرزاق راوی نے کہا: ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈوانا ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے سر منڈٖوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 124، 1737، 6665، ومسلم: 1306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6887»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 124
حدیث نمبر: 4550
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ( (لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ) ) حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ: ( (لَا حَرَجَ) ) ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ( (لَا حَرَجَ) ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَرَفَةُ مَوْقِفٌ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیوں سے فارغ ہو کر لوگوں کے لیے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی امر کی تقدیم وتاخیرکے بارے میں جو سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔‘ یہاں تک کہ ایک آدمی نے آکر کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ بعد ازاں ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا عرفہ وقوف کی جگہ ہے، سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے اور سارا منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور قربان گاہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4550]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرج القطعة الاولي منه ابن ماجه: 305، والقطعة الثانية منه ابوداود: 1937، وھذه القطعة الثانية مذكوره في حديث طويل، أخرجه مسلم: 1218 عن جابر رضي الله عنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14552»
وضاحت: فوائد: … دس ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر کل چار امور سرانجام دیئے جاتے ہیں، ان کی مسنون ترتیبیہ ہے:
۱۔ جمرۂـ عقبہ کی رمی ۲۔ہدی ذبح یا نحر کرنا ۳۔ حجامت بنوانا، تحلیق کی جائے یا تقصیر ۴۔ طوافِ افاضہ
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ افعال اس ترتیب کے ساتھ سرانجام نہ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہو یا بھول کر یا جہالت کی وجہ سے۔ درج بالا احادیث سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
مسنون ترتیب کی بہرحال اہمیت ہے، اس لیے قصداً تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، ہاں بھولنے یا بے علمی کی وجہ سے ترتیب بدل جائے تو الگ بات ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۱۔ جمرۂـ عقبہ کی رمی ۲۔ہدی ذبح یا نحر کرنا ۳۔ حجامت بنوانا، تحلیق کی جائے یا تقصیر ۴۔ طوافِ افاضہ
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ افعال اس ترتیب کے ساتھ سرانجام نہ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہو یا بھول کر یا جہالت کی وجہ سے۔ درج بالا احادیث سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
مسنون ترتیب کی بہرحال اہمیت ہے، اس لیے قصداً تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، ہاں بھولنے یا بے علمی کی وجہ سے ترتیب بدل جائے تو الگ بات ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرج القطعة الاولي منه ابن ماجه: 305
33. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
حدیث نمبر: 4551
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: ( (أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟) ) فَقَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا قَالَ: ( (فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟) ) قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا قَالَ: ( (أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟) ) قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا قَالَ: ( (فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا هَلْ بَلَّغْتُ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: ( (اَللَّهُمَّ اشْهَدْ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس ذوالحجہ کو خطبہ دیا اور فرمایا: کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والاہے؟ صحابہ نے کہا: آج کا یعنی دس ذوالحجہ کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس مہینہ کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ ذوالحجہ کا مہینہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا شہر سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارا یہ شہریعنی مکہ مکرمہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے تم لوگوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15053»
وضاحت: فوائد: … وعظ و نصیحت کے لیے اس قسم کے خطابات اور دروس کا اہتمام کیا گیا، کیونکہیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا سب سے بڑا اجتماع تھا، اور شرعی احکام کی تبلیغ کا سنہری موقع تھا، کیونکہ اس اجتماع میں شرکت کرنے والوںکی بھاری اکثریت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طویل صحبت سے محروم تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حجۃ الوداع کے موقع پر اس حقیقت کا اظہار بھی کر چکے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے اور ایسے ہی ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً (۹۰) دنوں کے بعد خالقِ حقیقی کو جا ملے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/27
حدیث نمبر: 4552
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ: ( (أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ: ( (فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ: ( (إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا) ) ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ( (اَللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟) ) مِرَارًا قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ: ( (أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر میں اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالی کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1739، 7079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2036»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایتیہ وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلمان کے جان و مال اور عزت و حرمت کاکم از کم اس قدر پاس و لحاظ رکھیں کہ وہ ہماری کسی کاروائی کی وجہ سے متاثر نہ ہوں، کتنے خوبصورت اور واشگاف انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مختلف سوالات کر کے تمہید باندھی اور پھر بار بار مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حرمت کی وضاحت فرمائی۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مال اور عزت کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے عام مسلمان قتل کے جرم سے محفوظ رہتے ہیں، اگرچہ قتل و غارت گری بھی عام ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں صحیح بخاری: (۱۷۳۹) میں عربی الفاظ یہ ہیں انہا لوصیتہ، الی امتہ کہ یہ (کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوںتک میری باتیں پہنچائیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے لئے
وصیت تھی۔(عبداللہ رفیق)
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں صحیح بخاری: (۱۷۳۹) میں عربی الفاظ یہ ہیں انہا لوصیتہ، الی امتہ کہ یہ (کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوںتک میری باتیں پہنچائیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے لئے
وصیت تھی۔(عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1739
حدیث نمبر: 4553
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنَى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ وَقَالَ: ( (لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ) ) قَالَ: وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنَى حَتَّى سَمِعُوهُ فِي مَنَازِلِهِمْ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (ارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) )
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو منیٰ میں خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ان کو ان کی جگہ پر بٹھانے کے لیے فرمایا: مہاجرین یہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ نے قبلے کی طرف اشارہ کیا، انصار یہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلے کی بائیں جانب اشارہ کیا اور باقی لوگ ان کے ارد گرد بیٹھ جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حج کے مناسک کی تعلیم دی، اللہ تعالی نے منیٰ والوں کے کان اس حد تک کھول دیئے کہ انھوں نے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے بیٹھے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن لیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث: «ضعيف دون قوله: ارموا الجمرة بمثل حصي الخذف فھو صحيح لغيره۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23564»
الحكم على الحديث:
ضعيف دون قوله: ارموا الجمرة بمثل حصي الخذف فھو صحيح لغيره ۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1951
حدیث نمبر: 4554
عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي مُرْدِفِي خَلْفَهُ عَلَى حِمَارٍ وَأَنَا صَغِيرٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنَى عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ
۔ سیدنا ہرماس بن زیاد باھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں چھوٹا تھا اور مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے گدھے پر سوار کیا ہوا تھا، اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منی میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4554]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20334»
وضاحت: فوائد: … عضباء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوئے ہوں۔ عضبا، کا اصل معنی تو فوائد میں ذکر ہوا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے کان کیے ہوئے تھے۔ یعنی وہ اسم بامسمیٰ تھییا اس کا صرف نام یہ تھا، حقیقت میں وہ ایسی نہیں تھی۔ دوسری رائے زیادہ مشہور ہے۔ دیکھیں، نہایہ فی غریب الحدیث: ۲۵۱۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1954
حدیث نمبر: 4555
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنَى
۔ (دوسری سند) سیدنا ہرماس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دس ذوالحجہ کو منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4555]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16064»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16064
حدیث نمبر: 4556
عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَتِي هَذِهِ حَسِبْتُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مُخَضَّرَمَةٍ فَقَالَ: ( (هَذَا يَوْمُ النَّحْرِ وَهَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ) )
۔ مُرّۃطیّب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی نے مجھے میرے اس کمرے میں حدیث بیان کی اور اس نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو سرخ رنگ والی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دیا، اس اونٹنی کا کان کٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں یہ بھی فرمایا تھا: آج قربانی کا دن ہے اور یہ حج اکبر کا دن ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4556]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3057، والنسائي في الكبري: 4099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15981»
وضاحت: فوائد: … ہر حج کو حج اکبر اور ہر عمرہ کو حج اصغر کہتے ہیں اور حج کو حج اصغر یعنی عمرہ سے ممتاز رکھنے کے لیے حج اکبر کہا جاتا ہے، نیز دس ذوالحجہ کو حج اکبر کا دن اس لیے کہا جاتا ہے کہ حج کے زیادہ ارکان اسی دن کو ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف عوامی نظریہ ہے کہ جو حج جمعہ والے دن آ جائے، وہ حج اکبر ہوتا ہے، یہ نظریہ بے اصل ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں۔ سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی حِیْنَ ارْتَفَعَ الضُّحٰی عَلٰی بَغْلَۃٍ شَھْبَائَ وَعَلِیٌّ رضی اللہ عنہ یُعَبِّرُ عَنْہُ وَالنَّاسُ بَیْنَ قَائِمٍ وَ قَاعِدٍ)) … میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید خچر پر سوار ہو کر لوگوں کو مِنٰی میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، یہ چاشت کا وقت تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو آگے پہنچا رہے تھے، جبکہ بعض لوگ کھڑے تھے اور بعض بیٹھے ہوئے تھے۔
(سنن ابو داود: ۱۹۵۶)
فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو لوگوں کی تعلیم و تربیت اور احکامِ شرعیہ کی تبلیغ کے لیے خطبے کا اہتمام کیا۔
(سنن ابو داود: ۱۹۵۶)
فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو لوگوں کی تعلیم و تربیت اور احکامِ شرعیہ کی تبلیغ کے لیے خطبے کا اہتمام کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3057
34. الْمَبِيتُ بِمِنًى لَيَالِي مِنِّي وَرَمْيُ الْجِمَارِ فِي أَيَّامِهَا وَغَيْرُ ذَلِكَ بَابُ وَقْتِ رَمْيِ
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 4557
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنَى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن کے آخر میں طواف افاضہ کیا، جب نمازِ ظہر پڑھی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ کو واپس چلے گئے اور ایام تشریق منیٰ میں گزارے، زوال آفتاب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمروں کی رمی کرتے تھے، ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پکارتے، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہو کر طویل دعائیں کرتے اور گڑگڑاتے۔ پھر تیسرے جمرہ (جمرۂ عقبہ) کی رمی کرکے وہاں کھڑے نہ ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4557]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25099»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کب کیا تھا، حدیث نمبر (۴۵۴۰ تا ۴۵۴۳)) اور ان کے فوائدمیں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1973