🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. الْمَبِيتُ بِمِنًى لَيَالِي مِنِّي وَرَمْيُ الْجِمَارِ فِي أَيَّامِهَا وَغَيْرُ ذَلِكَ بَابُ وَقْتِ رَمْيِ
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4558
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال آفتاب کے وقت یا زوال کے بعد جمروں کی رمی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4558]
تخریج الحدیث: «حسن، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 3054، والترمذي: 898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2231»
وضاحت: فوائد: … دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر کے بعد والے دنوں میںزوالِ آفتاب کے بعد رمی کی ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4559
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جمرے کی بہ نسبت دوسرے جمرے کے پاس دعا کے لئے زیادہ دیر ٹھہرتے تھے اور پھر جمرۂ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کرتے، لیکن اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4559]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6669»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4560
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْأُولَى الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي فَيَقِفُ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَرْمِي الثَّانِيَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي فَيَقِفُ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَمْضِي حَتَّى يَأْتِيَ الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيها بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا
۔ امام زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف والے پہلے جمرہ کی رمی کرتے تو اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد بائیں جانب مڑتے اور وادی میں قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھاکر دعا کرتے اور کافی دیر تک دعا کرتے رہتے، اس کے بعد آپ دوسرے جمرے کی رمی کرتے، اس کو بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی میں قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے،بعد ازاں آگے بڑھتے اور جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچ کر اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور وہاں سے واپس پلٹ آتے اور اس جمرہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری نے کہا: میں نے سالم سے سنا، وہ یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی اسی طرح ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4560]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1751، 1752، 1753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6404»
وضاحت: فوائد: … مسجد سے مراد مسجد ِ خیف ہے، یعنییہ جمرہ باقی جمروں کی بہ نسبت اس مسجد کے قریب ہے۔ دعا کرنے کے لیے آج کل آسانی کے ساتھ ان جہتوں کا تعین کیا جا سکتا ہے، اب جمروں کی رمی کے لیے مختلف منزلیں بنا دی گئی ہیں اور ساری جگہ ہموار کر دی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4561
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنَى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: ( (لَا إِنَّمَا هُوَ مُنَاخٌ لِمَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم آپ کے لئے منیٰ میں گھر یا کوئی خیمہ نہ لگا دیں، جو آپ کو دھوپ سے بچائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، منی تو اس آدمی کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے، جو وہاں پہلے پہنچ جائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4561]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وتفرد به ابراهيم بن مھاجر، وھو ضعيف، ووالدةيوسف بن ماھك، وھي مسيكة المكية، مجھولة۔ أخرجه ابوداود: 2019، والترمذي: 881، وابن ماجه: 3006، 3007، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26057»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ مبارکہ میں بیان کردہ احکام واضح ہیں کہ تشریق والے ایام مِنٰی میں گزارے جائیں اور ان تینوں دنوںمیں زوالِ آفتاب کے بعد رمی کی جائے، جبکہ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس رک کر اور قبلہ رخ ہو کر گڑگڑا کر طویل دعا کی جائے اور اس مقصد کے لیے جمرۂ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرا جائے، نیز ان دنوں میں کثرتِ ذکر کا اہتمام کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ} … اور اللہ تعالی کییاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۳) ان دنوں سے مراد ایامِ مِنٰی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ الرُّخْصَةِ لِرُعَاءِ الْإِبِلِ فِي جَمْعِ رَمْيِ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَفِي الْمَبِيتِ بِمَكَّةَ أَيَّامٍ
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اورضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4562
عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِيهِ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ فَيَرْمُوا فِي أَحَدِهِمَا (قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ فِي الْآخِرِ مِنْهُمَا) ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ
۔ سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دے دی کہ وہ (منی سے باہر) راتیں گزار سکتے ہیں اور وہ دس ذوالحجہ کو رمی کر کے چلے جائیں، اس کے بعد آکر دو دن کی رمی ایک دن میں کرلیں اور پھر روانگی والے دن رمی کریں۔ مالک راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ (دس ذوالحجہ کے بعد) دوسرے دن (یعنی بارہ ذوالحجہ کو رمی کریں گے)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4562]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 955، وابن ماجه: 3037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24183»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 955
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4563
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَتَعَاقَبُوا فَيَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَدَعُوا يَوْمًا وَلَيْلَةً ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ باریاں مقرر کرلیں، دس ذوالحجہ کو رمی کر لیں، اس کے بعد ایک دن رات کا وقفہ کر کے اگلے دن آ کر رمی کرلیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4563]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24184»
وضاحت: فوائد: … اگر چرواہے کو کوئی متبادل چیز مل سکتی ہو، مثلا رات کو واپس آ جانا آسان ہو یا کسی غیر حاجی شخص سے اجرت پر یا بغیر اجرت کے تعاون لینا ممکن ہو یا مِنٰی سے ہی جانوروں کا چارہ خریدا جا سکتا ہو، جبکہ مالک کو ایسے معاوِن کے سلسلے میں امن ہو یا کسی اور جگہ سے چارہ خریدنے کی استطاعت ہو تو چرواہے کا عذر ختم ہو جائے گا اور وہ مِنٰی میں ہی رات گزارے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24184
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4564
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنَى مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ فَرَخَّصَ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلانے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت طلب کی وہ ایام منیٰ والی راتیں مکہ میں گزار لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4564]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1634، 1643، ومسلم: 1315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4691»
وضاحت: فوائد: … عبد ِ مناف، حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری ادا کرتے تھے، ان کے بعد بالترتیب بنو ہاشم، عبد المطلب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ ذمہ داری ادا کی، جب مکہ مکرمہ پر اسلام غالب آیا تو اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہی پانی پلانے کے والی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عہدہ ان کے پاس ہیرہنے دیا۔ ذہن نشین کر لیں کہ یہ صرف شرف ہی نہیں تھا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک، جب اس سرزمین میں جدید مشینیں نہیں تھیں،یہ زیادہ ضروری بھی تھا کہ کسی ایک بندے کو حجاج کرام کو پانی پلانے کا منتظم بنا دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عذر کی بنا پر مِنٰی والی راتیں مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت دی۔ پانی پلانے کی جو صورتحال آج موجود ہے، بکثرت ٹونٹیاں لگا دی گئی ہیں، خود کار مشینیں کام کر رہی ہیں، جن کا خراب ہونا انتہائی نادر ہے، ایسی صورت میں صرف ضروری مسئول اور ملازم کو مستثنی کیا جائے گا۔ حرم مکی کے یا دوسرے ملازموں کی بھییہی صورتحال ہو گی کہ اگر مِنٰی میں راتیں گزارنے کی وجہ سے ان کی ڈیوٹی متأثر ہوتی ہو یا ان کو چھٹی نہ ملتی ہو توو ہ اپنے کام جاری رکھیں اور چرواہوں کی طرح رمی کر لیں۔ اسی طرح دوسرے معذور حضرات کا بھییہی حکم ہو گا، مثلا ایسا مریض کہ جس کا ہسپتال میںرہنا ضروری ہو، لیکنیہ ساری رخصتیں ان لوگوںکے لیے ہیں جو مِنٰی والے ایام سے پہلے والے ارکان ادا کر چکے ہوں۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْیَوْمَیْنِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی} … اور اللہ تعالیٰ کییاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں،یہ پرہیز گار کے لیے ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۳) جمرات کو کنکریاں مارنا تین دن افضل ہیں،یعنی (۱۱، ۱۲، ۱۳) ذوالحجہ کے دن، لیکن اگر کوئی آدمی دو دن (اا، ۱۲ ذوالحجہ) کو کنکریاں مار کر مِنٰی سے واپس آ جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى وَعَدَمِ جَوَازِ صِيَامِهَا أَيَّامَهَا
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4565
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعتیں یعنی قصر نمازیں ادا کیں، کاش ان چار رکعتوں کے بدلے میں میری دو رکعتیں قبول کر لی جائیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4565]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1084، ومسلم: 695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3953»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1084
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4566
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منی میں دو رکعتیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4566]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 3/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12491»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 3/ 120
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4567
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَنَادَيَا: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور سیدنا اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کو ایام تشریق کے دوران یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ صرف مومن جنت میں جائے گا اور ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4567]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15886»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۳۸۶۰)کے باب میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ایام تشریق میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ حج تمتع کرنے والا شخص، جو قربانی نہ کر سکتا ہو، ان دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ یہ حقیقت تو بلا شک و شبہ ہے کہ عہد ِ نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں مِنی میں قصر نماز کی وجہ سفر تھی اور یہ قصر حج کی مناسبت کی وجہ سے نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنٰی میں مکمل نماز کیوں پڑھائی اور قصر نماز کے لیے جس حد بندی کا تعین کیا جاتا ہے، کیا مِنٰی اس کا مصداق بنتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں مسئلوں پر حدیث نمبر (۲۳۵۷) کے باب اور اس میں مذکورہ احادیث کے فوائد میں سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے، قارئین خود مطالعہ کر لیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1142
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں