🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4568
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ؟) ) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ( (أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ( (أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ( (أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟) ) قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ: ( (فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ أَمْ لَا كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَلَّغْتُ؟) ) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ) )
۔ بو نضرہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر تقویٰ کے ساتھ۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: آج حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے خون، مال اور عزت کو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کردیا ہے، جیسے اس ماہ میں اور اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچادیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگو ں تک پہنچادیں، جو یہا ں موجود نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4568]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23885»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا ابتدائی حصہ انتہائی قابل غور ہے۔ لوگوں نے حسب و نسب، حسن و جمال، عہدہ و منصب، سیاست و سیادت، مال و دولت، بھاری تنخواہوں والی نوکریوں، دنیوی تعلیم کی ڈگریوں اور اس قسم کے دوسرے اسبابِ دنیا کو اعزاز کی علامت سمجھ رکھا ہے، بلکہ بعض شیطان تو بدمعاشی، بغاوت، ظلم، ڈاکہ زنی اور قتل تک کے جرائم کو اپنے لیے عزت کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے آپ کو ظاہری طور پر معزز اور بڑا ثابت کرنے کی کوشش کی اور باطن کی اصلاح کو بھول گئے، جبکہ شریعت کا قانون یہ تھا کہ اگر باطن کی اصلاح کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی روشنی میں ظاہر کو درست رکھا جائے تو ایسی عزتیں ملتی ہیں کہ انسان اپنی سوچوںکے مطابق ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، لیکن کاش کہ ہماری مزاج شریعت کو اپنی مجبوری سمجھتے۔ جبکہ شریعت ِ مطہرہ کی روشنی میں اِن سب امور و اسباب میں آزمائش کا عنصر پایا جاتا ہے، رہا مسئلہ مقام ومرتبہ اور فضیلت و عظمت کا تو وہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کا عملی طور پر لحاظ رکھنے میں پایا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4569
عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ (وَفِي لَفْظٍ: فِي أَيَّامِ الْحَجِّ) فَقَالَ: ( (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ) )
۔ سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام حج کے دوران ایام تشریق میں خطبہ دیا اورفرمایا: جنت میں صرف وہ آدمی داخل ہو گا جو مسلمان ہوگا اور یہ (ایام تشریق کے) ایام کھانے پینے کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15506»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 1720
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4570
عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنَى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا قَالَ: إِبْرَاهِيمُ وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: عِنْدَ الْجَمْرَةِ
۔ بنو بکر کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور ہم سواری کے سامنے جمرہ کے قریب کھڑے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23532»
وضاحت: فوائد: … ان خطابات کا مناسک ِ حج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد تبلیغ کرنا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۵۱)۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1952
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ نُزُولِ الْمُحَصَّبِ إِذَا نَفَرَ مِنْ مِنًى
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4571
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنَى: ( (نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ) ) يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو دن کے شروع میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں تھے: ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں کفار نے مسلمانوں کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی،اس کی تفصیل یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ اس وقت تک نہ نکاح کریں گے اور نہ خریدو فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے حوالے نہیں کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1590، ومسلم: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7239»
وضاحت: فوائد: … ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔ اس حدیث کے مطابق تو یہ ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ بنتی ہے، جب کہ تیرہ ذوالحجہ تک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مِنٰی میں قیام کرنا تھا، اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ غَدًا کا اطلاق موجودہ دن کے متصل بعد والے دن پر ہوتا ہے، لیکن عربوں نے وسعت اختیار کی اور اس لفظ کا اطلاق آنے والے کسی بھی وقت پر بھی کر دیا اور یہاںیہی معنی مقصود ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق کے بعد مِنٰی سے روانہ ہوناتھا۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے پتہ چلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے اہتمام اور عزم کے ساتھ وادیٔ محصب میں قیام کیا تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کا اظہار اور غلبہ تھا، یہ قیاماتفاقی طور پر نہ تھا۔ آنے والی احادیث میں اس وادی میں قیام کے متعلق سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس کی جو آراء بیان کی گئی ہیں، وہ ان ہستیوں کا ذاتی فہم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کو مذکورہ بالا حدیث کا علم نہ ہو سکا تھا، باب کے آخر میں مزید بحث کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1590
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4572
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ عُمْرَتِهَا بَعْدَ الْحَجِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: ( (اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ لِتَقْضِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ) ) قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي (وَفِي لَفْظٍ) قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے والے بعد اپنے عمرے کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی بہن (عائشہ) کے ہمراہ جاؤ اور ان کو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کراؤ، تاکہ یہ اپنا عمرہ ادا کر لے،پھر اس کو میرے پاس واپس لے آنا، لیکن اس سے پہلے کہ میں حصبہ والی رات گزار لوں، (یعنی راتوں رات واپس آ جانا)۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں صرف میری وجہ سے قیام کیا تھا۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوکر وادی محصّب میں جاکر ٹھہرے، اللہ کی قسم! آپ نے صرف میری وجہ سے وہاں قیام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن محمد بن عقيل ضعيفيعتبر به، ولم يتابع ھنا۔ أخرجه البزار: 1085، والطبراني في الاوسط: 1172، وأخرجه البخاري: 1787، ومسلم: 1211بغير ھذا السياق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24995»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4573
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وادیٔ ابطح میں ٹھہرنا سنت نہیں ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف اس لئے وہاں ٹھہرے تھے کہ اس میں (مدینہ کی طرف روانگی کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہولت تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1765، ومسلم: 1311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26452»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1765
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4574
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وادیٔ محصّب میں قیام کرنے کی شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے،یہ تو محض ایک مقام ہے، جہاں اللہ کے رسول نے قیام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1766، ومسلم: 1312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1925»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1766
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4575
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ: إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وادیٔ ابطح (یعنی وادیٔ محصّب) میں قیام کو کوئی شرعی حیثیت نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ تواس کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے وہاں (اتفاقی طور پر) قیام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن ارطاة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3289»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4576
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ أَيْ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادیٔ محصّب میں ادا کیں اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طوافِ وداع کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1768، ومسلم: 1310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5892»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1768
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4577
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
۔ بکر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وادیٔ بطحاء میں کچھ دیر سوتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4577]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4828»
وضاحت: فوائد: … وادیٔ بطحاء سے مراد وادیٔ محصب ہی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4828
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں