🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ نُزُولِ الْمُحَصَّبِ إِذَا نَفَرَ مِنْ مِنًى
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4578
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَزَلُوا الْمُحَصَّبَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ سب حضرات وادی محصّب میں ٹھہرا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4578]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6223»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ النُّزُوْلُ بِــ(الْأَبْطَحِ) عَشِیَّۃَ النَّفَرِ)) (ادائے حج کے بعد) روانگی کی شام کو ابطح وادی میں قیام کرنا سنت ہے۔ (معجم اوسط: ۱/۱۹۸/۲ـ ۱۹۹/۱، صحیحہ: ۲۶۷۵) امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جونہی (المعجم الأوسط) کا مصوّر نسخہ مجھے ملا تو میں نے اس حدیث کی تخریج پیش کرنے میں جلدی کی، کیونکہیہ حدیث بڑی عظیم الشان تھی اور بہت کم مخرجین نے اس کو بیان کیا اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کی درج ذیل روایت کا قویشاہد ہے: نافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے یہ مسلک وصول کیا ہو گا، اس طرح ان کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی شاہد کی وجہ سے قوی ہو جائے گی۔ اور یہ حقیقت اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ ابن عمر کیرائے کی بہ نسبت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کییہ رائے وادی ٔ محصّب میں قیام کرنے پر قوی دلالت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہیہ بات معروف ہے کہ سیدنا ابن عمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے کے بہت زیادہ پابند تھے، حتی کی ان امور میں بھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتفاقاً صادر ہوتے تھے، نہ کہ قصداً۔ اس دعوے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، امام منذری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ترغیب کے شروع میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ رہا مسئلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا، تو وہ تو آثار کی پیروی کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن جب وہ بالجزم اس رائے کا اظہار کریں گے کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے تو دل مطمئن ہو کر اس امر کی طرف مائل ہو گا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایسی سنت ہے، جس کا التزام کرنا مقصود ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم منی میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ((نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَیْف بِنَی کَنَانَۃُ حَیْثُ تَقَاسَمُوا عَلٰی الْکُفْرِ۔)) … ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انھوں نے کفر پر ایک دوسرے سے معاہدہ کیا تھا۔ (بخاری، مسلم)
چونکہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ معاہدہ پاس کیا تھا کہ وہ اُن سے نکاح کریں گے نہ خرید و فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے سپرد نہ کردیں۔ خیف بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی۔ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (زاد المعاد) میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر اسلام کے شعائر کا اظہار کیا جائے، جہاں کافروں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کفر کے شعائر کا اظہار کیا تھا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفر و شرک کے مقامات پر توحید کے شعائر کا قیام عمل میں لاتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد ِ طائف، لات و عزی کے مقام پر تعمیر کی جائے۔رہا مسئلہ صحیح مسلم کی اس روایت کا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وادی ٔ ابطح (وادیٔ محصّب) میں اترنا سنت نہیں ہے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پڑاؤ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔محققین نے اِ ن روایات کے دو جوابات دیے ہیں: (۱)مثبت کو منفی کرنے والے پر مقدّم کیا جاتا ہے، (۲) سرے سے ان دو میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ نفی کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر اترنا حج کے مناسک میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے اور ثابت کرنے والوں نے چاہا ہے کہ تمام افعال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جائے، وہ بھی اس چیز کو لازم نہیں قرار دیتے۔ مکہ کی وادی کے بہاؤ کی جگہ کو ابطح کہتے ہیں، اس کی جمع بطاح اور اباطح آتی ہے۔ اسی سے قریش البطاح کہا جاتا ہے، یعنی وہ لوگ جو مکہ کی ابطح وادیوں میں اترتے تھے۔ وادیٔ محصّب میں اترنے کو تَحْصِیب کہتے ہیں،یہ وہ گھاٹی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان ابطح کی طرف نکلتی ہے، یہی خیف بنی کنانہ بھی ہے۔
(صحیحہ: ۲۶۷۵)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6223
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ كَمْ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ؟
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا
۔ سائب بن یزید سے روایت ہے وہ علاء بن خضرمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکہ سے ہجرت کرکے جانے والا آدمی مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرسکتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3933، ومسلم: 1352، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19194»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یُقِیْمُ الْمُھَاجِرُ بِمَکَّۃَ، بَعْدَ قَضَائِ نُسُکِہٖ،ثَـلَاثًا۔)) کَأَنَّہٗیَقُوْلُ: لَایَزِیْدُ عَلَیْھَا)) … مہاجر لوگ مناسک ِ حج ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتے ہیں۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے تھے کہ مہاجر اس مقدار سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتے۔ اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ جو لوگ فتح مکہ سے قبل مکہ سے ہجرت کر کے چلے گئے تھے، ان کے لیے مکہ میں اقامت اختیار کرنا حرام تھا، البتہ حج اور عمرہ کے ارادے سے آ سکتے تھے، لیکن ان کو بھی فراغت کے بعد صرف تین دنوں تک اس شہر میں رہنے کی رخصت تھی، اس سے زیادہ وہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ہمارا مقصود یہ ہے کہ یہی مہاجرین حجۃ الوداع کے موقع پر دس دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہے، اگر منی، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ کو علیحدہ سفر تسلیم کیا جائے تو وہ چار ذوالحجہ سے آٹھ ذوالحجہ تک تو مکہ مکرمہ میں ہی رہے اور قصر کرتے رہے، لیکن ان کا مقصد ادائیگی ٔ حج تھا، جو ابھی تک ادا نہیں ہوا تھا، اس لیے ان کو مسافر ہی سمجھا گیا، اور یہی صحابہ کرام فتح مکہ کے موقع پر انیس دنوں کے لیے اسی شہر میں رہے، لیکن ان کے لیے اتنی مدت رہنا بھی ضروری تھا۔ جب وہ مناسک ِ حج سے فارغ ہو گئے اور رہنے یا جانے کا اختیار مل گیا تو ان کو صرف تین دنوں کی مہلت دی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اس مدت سے زیادہ مکہ مکرمہ میں رہے تو وہ اس کے مقیم بن جائیں گے اور ان کی ہجرت کالعدم ہو جائے گی۔ اس کا مفہومیہ ہوا کہ کسی عذر یا مجبوری کی بنا پر کسی علاقے میں ٹھہرنا اور بات ہے اور اختیاری طور پر قیام کرنا اور بات ہے، اِ ن دونوں حالتوں پرمختلف احکام مرتّب ہوں گے۔ مہاجر صحابی سیّدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع کے موقع پر بیمار ہو گئے اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ فوت ہو جائیں گے، … … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِیْ ھِجْرَتَھُمْ، وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی أَعْقَابِھِمْ، لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔)) یَرْثِیْ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ تُوُفِّیَ بِمَکَّۃَ)) … اے اللہ! میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت کو جاری کر دے اور ان کو ان کی ایڑھیوں کے بل نہ لوٹا دے، لیکن بے چارہ سعد بن خولہ۔ (آخری جملے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے غم کا اظہار کر رہے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔ اس حدیث کا حکم صرف ان صحابہ کے لیے تھا، جو اللہ تعالی کے لیے مکہ مکرمہ کو چھوڑ گئے تھے، فتح مکہ کے بعد تو اس شہر سے ہجرت کر جانے کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ ایک مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی شہر سے اسی طرح ہجرت کرتا ہے، جیسے صحابۂ کرام نے مکہ مکرمہ سے کی تھی اور پھر وہی شہر دار الاسلام بن جاتا ہے تو کیا وہ شخص اس شہر میں اقامت اختیار کر سکتا ہے؟ ظاہر بات تو یہی ہے کہ جو آدمی اللہ تعالی کے لیے کسی شہر سے ہجرت کر جائے، اس کو دوبارہ وہاں بسیرا نہیں کرنا چاہیے، واللہ اعلم بالصواب۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید کرنا درست ہے کہ اگر کوئی آدمی گھر سے دور کسی مقام پر اختیاری طور پر تین سے زیادہ دنوں تک قیام کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مقیم سمجھے اور پوری نماز پڑھے، واللہ اعلم بالصواب۔اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۲۳۷۶) اور اس کے فوائد دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3933
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ وَالدُّعَاءِ عِنْدَ الْمُلْتَزَمِ
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان¤طوافِ وِداع: … وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4580
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَنْفِرْ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مناسکِ حج کے بعد لوگ منیٰ سے ہی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہورہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنے گھرکو نہ جائے جب تک وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر لے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4580]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1755، ومسلم: 1327،1328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1936»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1755
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4581
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ تَحِيضُ؟ قَالَ: لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ قُلْتُ: كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرَبْتَ عَنْ يَدَيَّ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ مَا أُخَالِفَ
۔ سیدنا حارث بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ایک عورت طواف افاضہ کر چکنے کے بعد حائضہ ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے کہا: اس کا آخری عمل تو بیت اللہ کا طواف (یعنی طواف وداع) ہی ہونا چاہیے۔ میں (حارث رضی اللہ عنہ)نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فتوی دیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں، جو بات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر چکا ہے، مجھ سے بھی پوچھتا ہے تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2004، والترمذي: 946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15519»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4582
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ) ) فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: خَرَرْتَ مِنْ يَدَيَّ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَمْ تُحَدِّثْنِي (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ
۔ (دوسری سند) (سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ: جو آدمی حج یا عمرہ کرے تو (روانگی سے قبل) اس کا آخری عمل بیت اللہ کا وداع ہونا چاہیے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا ناس ہو جائے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہوئی ہے اور پھر ہمیں اس کے بارے میں بتلاتا نہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15521»
وضاحت: فوائد: … لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی عورت طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو جائے اور پھر اسے اسی حالت میں گھر لوٹنا پڑے، تو وہ طوافِ وداع کے بغیر بھی جا سکے گی، اگلی حدیث سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہی راجح ہے۔ ممکن ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس رخصت والی حدیث کا علم نہ ہو، وگرنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے کے زیادہ حقدار تھے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15521
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4583
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ إِنْ كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حائضہ کو طوافِ وداع کے بغیر ہی (اپنے وطن کو) واپس چلے جانے کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ وہ پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4583]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 329، 1760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3505»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ ہمیں روکنے والی ہو گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! انھوں نے حیض سے پہلے طوافِ افاضہ تو کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چل پڑے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، دیکھیں حدیث نمبر ۴۵۹۰)
یہ احادیث طوافِ وداع کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، اس سے صرف وہ عورت مستثنی ہے، جو روانگی کے وقت حائضہ ہو، لیکن اس سے پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ امام شوکانی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طواف کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے چھوڑ کر چلے جانے سے منع بھی کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھییہ طواف کیا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ امور وجوب کا فائدہ دیتے ہیں۔ (نیل الاوطار: ۵/ ۱۵۱)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 329
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4584
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُلْتَزِمًا الْبَيْتَ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ مُلْتَزِمِينَ الْبَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجراسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان والی جگہ پر بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے دیکھا اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4584]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي۔ أخرجه ابوداود: 1898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15637»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ((کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَضَعُ صَدْرَہٗوَوَجْھَہٗوِذِرَاعَیْہِ وَکَفَّیْہِ بَیْنَ الرَّکُنِ وَالْبَابِ،یَعْنِیْ: فِیْ الطَّوَافِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ طواف اپنا سینہ، چہرہ اور دونوں بازو اور دونوں ہتھیلیاں رکن اور دروازے کے درمیان رکھتے تھے۔ (ابوداود: ۱۸۹۹، ابن ماجہ: ۲۹۶۲، صححہ الالبانی فی الصحیحۃ: ۲۱۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((اَلْمُلْتَزَمُ مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ)) … حجر اسود اور دروازے کے درمیان ملتزم ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۹۰۴۷)
ازرقی نے کہا: یہ کل چار ہاتھ جگہ بنتی ہے۔ معلوم ہوا کہ سینہ، چہرہ، دونوں بازو اور دونوں ہتھیلیاں ملتزم پر رکھنا مستحب عمل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي ۔ أخرجه ابوداود: 1898
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب
حج کے مسائل
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: Q4585]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ الْفَوَاتِ وَالْإِحْصَارِ وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنْ
فوت اور احصار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4585
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي (الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو النَّصَرِيُّ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى) ) قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِذَكَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَا: صَدَقَ
۔ سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا، لیکن اگلے سال اس پر دوسرا حج ہو گا۔ عکرمہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انھوں نے کہا: جی اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4585]
تخریج الحدیث: «أِسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 1862، وابن ماجه: 30770، والنسائي: 5/198، والترمذي: 940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15823»
وضاحت: فوائد: … احصار سے مراد یہ ہے کہ کہ محرم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، خواہ دشمن رکاوٹ ڈال دے، جیسے عمرۂ حدیبیہ میں ہوا یا کوئی مرض وغیرہ انسان کو اس قدر لاچار کر دے کہ وہ سفر جاری نہ رکھ سکے۔ ہر دو صورتوں میں اگر ساتھ قربانی کا جانور ہو تو اسے ذبح کردیا جائے گا اور اگر اسے حرم بھیجا جا سکا تو بھیج دیا جائے گا، جانور کو ذبح کرنے کے بعد وہ حجامت وغیرہ کروائے اور حلال ہو جائے، اگر وہ فرض حج ہو تو آئندہ پھر کرے، بشرطیکہ استطاعت رکھتا ہو، ورنہ معاف ہے، یہی حکم عمرے کا ہے۔

الحكم على الحديث:
أِسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. فَصْلٌ مِنْهُ فِي تَحَلُّلِ الْمُحْصَرِ عَنِ الْعُمْرَةِ بِالنَّحْرِ ثُمَّ الْحَلْقِ حَيْثُ أُحْصِرَ مِنْ حَلَّ أَوْ
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے¤عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4586
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ: وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے نکلے، قریش کے کافر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر اپنی ہدی کو نحر کیا اور سر منڈوایا اور ان کافروں سے یہ طے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگلے سال عمرہ کریں گے، تلوار کے علاوہ اسلحہ اٹھا کر نہیں لائیں گے اور اتنی دیر مکہ میں قیام کریں گے، جتنا قریشی چاہیں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے سال عمرہ کیا، کافروں سے کی گئی مصالحت کے مطابق داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکل جانے کا کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4586]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2701، 4252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں مُحْصَر کے افعال کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں