الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. فَصْلٌ مِنْهُ فِي تَحَلُّلِ الْمُحْصَرِ عَنِ الْعُمْرَةِ بِالنَّحْرِ ثُمَّ الْحَلْقِ حَيْثُ أُحْصِرَ مِنْ حَلَّ أَوْ
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے¤عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
حدیث نمبر: 4587
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ قَالَا: قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِالْعُمْرَةِ حَلَقَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَتِهِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ وَنَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کو قلادہ ڈالا اور ذوالحلیفہ کے مقام پر اس کا شعار کیا اور عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمنڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: «أِسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مختصرا البخاري: 1811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128»
الحكم على الحديث:
أِسناده صحيح علي شرط الشيخين
44. بَابُ حُكْمِ مَنْ حَاضَتْ بَعْدَ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
حدیث نمبر: 4588
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الزِّيَارَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَالَ زَيْدٌ: يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ تَنْفِرُ إِنْ شَاءَتْ فَقَالَ الْأَنْصَارُ: لَا نُتَابِعُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا فَقَالَ: وَاسْأَلُوا صَاحِبَتَكُمْ (أُمَّ سُلَيْمٍ) فَقَالَتْ: حِضْتُ بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْفِرْ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: الْخَيْبَةُ لَكِ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلْنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ) )
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، جو طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہو جاتی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: روانگی سے پہلے اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہی ہو گا، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر اس نے نحر والے دن طواف کر لیا ہو تو جب چاہے روانہ ہو سکتی ہے، انصاریوں نے اس اختلاف کو دیکھ کر کہا: اے ابن عباس! ہم تیری پیروی نہیں کریں گے، کیونکہ تو زید کے مخالف ہے، انھوں نے کہا: تم لوگ اپنے خاندان کی خاتون سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے بھی نحر والے دن بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد حیض آیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (طواف وداع کے بغیر) روانہ ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: خسارہ ہو تیرے لیے، بیشک تو ہم کو روکنے والی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ روانہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1758، 1759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27978»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو خاص کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بھی طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ روانہ ہو جائیں اور طواف وداع کو ترک کر دیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1758
حدیث نمبر: 4589
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ
۔ طاؤوس کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم یہ فتوی دیتے ہو کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کیے بغیر جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تم یہ فتوی نہ دو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تم نہیں مانتے تو فلاں انصاری خاتون سے پوچھ لو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس چیز کا حکم دیا تھا؟ سیدنا زید وہاں سے ہنستے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ پڑے: میرا یہی خیال ہے کہ تو نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4589]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3256»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1328
حدیث نمبر: 4590
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَحَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟) ) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ( (فَانْفِرِي إِذًا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الواداع سے فارغ ہو کر) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمزدہ ہو کر کھڑی ہیں، دراصل ان کو حیض آ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا بانجھ خاتون، سر منڈی اے! تو ہمیں روکنے والی ہے؟ اچھا کیا تو نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر روانہ ہو جا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5329، 6157، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25942»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5329
حدیث نمبر: 4591
وَعَنْهَا مِنْ طَريقٍ ثَانٍ قَالَتْ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيْدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ فَقِيْلَ لَهُ: إِنَّهَا حَائِضٌ، فَقَالَ: عَقْرٰي، أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ قَالُوْا: إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، فَنَفَرَ بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم۔قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ: مَا سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ۔ يَعْنِي الأَ وْزَاعِيْ۔ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيْمَ إِلاَّ مَرَّةً۔
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف ِ افاضہ کر لیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ وہ کچھ کرنا چاہا جو خاوند اپنی بیوی سے کرتا ہے (راوی کی مراد حق زوجیت کی ادائیگی تھی)، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ تو حائضہ ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او بانجھ خاتون، کیا یہ ہم کو روک لے گی۔ پھر لوگوں نے بتایا کہ سیدہ نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا تھا، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سمیت روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 1733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15519»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4592
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيْقٍ ثَالثٍ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ قُلْتُ: حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَ: فَلْتَنْفِرْ إِذًا أَوْ قَالَ: فَلَا إِذًا۔
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طوافِ زیارت کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی حیض کی بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہم کو روکنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی وہ طواف ِ افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہوئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ جا سکتی ہیں، ایک روایت میں ہے: تو پھر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4592]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول والثاني، أِسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 9057، والطبراني: 18/ 743، وابويعلي: 6733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15521»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خاتون نے طواف ِ افاضہ کر لیا ہو تو حیض کی وجہ سے طواف ِ وداع چھوڑ کر اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہو سکتی ہے، اگر کسی عورت نے حیض کی وجہ سے ابھی تک طوافِ افاضہ ہی نہ کیا ہو تو وہ حیض ختم ہونے تک طواف ِ افاضہ کے لیے انتظار کرے گی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول والثاني
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِي الصَّلَاةِ فِيهَا
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
حدیث نمبر: 4593
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، وَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ حِيْنَ دَخَلَهُ، وَلٰكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتلایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے اندر نماز نہیں پڑھی، البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے تو بیت اللہ کے دروازے کے پاس نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث: «أِسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 9057، والطبراني: 18/ 743، وابويعلي: 6733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3505»
الحكم على الحديث:
أِسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 4594
عَن ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلّٰي فِي الْبَيْتِ۔ قَالَ: وَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ: لَمْ يُصَلِّ فِيْهِ، وَلٰكِنَّهُ كَبَّرَ فِيْ نَوَاحِيْهِ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے کونوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4594]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 397، 1167، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15637»
وضاحت: فوائد: … سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتلایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھی تھی، اس بنا پر انھوں نے بھی یہی دعوی کیا تھا، نیز صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کونوں میں دعا وغیرہ کی، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 397
حدیث نمبر: 4595
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: صَلَّي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15823»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4596
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِيْ وَ هُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَ هُوَ حَزِيْنٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّكَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِيْ وَ أَنْتَ قَرِيْرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، وَ رَجَعْتَ وَ أَنْتَ حَزِيْنٌ؟ فَقَالَ: إِنِّيْ أَخَافُ أَنْ أَكُوْنَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِيْ مِنْ بَعْدِيْ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں سکون تھا اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے، لیکن جب واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمزدہ تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے توآپ کی آنکھوں میں سرور تھا اور آپ کی طبیعت خوشگوار تھی، لیکن اب آپ غمزدہ ہو کر لوٹے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ڈر لگ رہا ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دینے والا کام کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4596]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2029، والترمذي: 873، وابن ماجه: 3064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره