🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ طَوَافِ أَهْلِ مَكَّةَ وَأُمُورٍ جَاءَتْ فِي الطَّوَافِ وَالْكَلَامِ فِيهِ
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اس کو کھینچ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1621، 6702، 6703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3442»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4381
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: ( (قُدْهُ بِيَدِهِ) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ کا ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا، جس نے رسی وغیرہ کے ساتھ اپنا ہاتھ دوسرے آدمی کے ساتھ باندھا ہواتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر چلو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3443»
وضاحت: فوائد: … تکریم انسانیت کا سبق دیا جا رہا ہے، اگر کسی انسان کو اس طرح پکڑنے کی ضرورت ہو تو اس کو ہاتھ سے پکڑنا چاہیے، رسی وغیرہ تو جانوروں کو ڈالی جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ دورانِ طواف خیر و بھلائی والی باتیں کی جا سکتی ہیں، حدیث نمبر (۴۳۲۶)کے فوائد میں اس موضوع سے متعلقہ مزید دلائل گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا يُقَالُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الطَّوَافِ وَعِنْدَ الِاسْتِلَامِ وَمَا كَانَ يَقُولُهُ أَهْلُ
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور¤دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بَيْنَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْحَجَرِ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}
۔ سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن یمانی اورحجراسود کے درمیان یہ دعا پڑھ رہے تھے: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِـرَۃِ حَسَنَـۃً وَقِـنَا عَذَابَ النَّارِ} (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھی بھلائی نصیب فرمانا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما)۔ (سورۂ بقرہ:۲۰۱) [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4382]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 1892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15474»
وضاحت: فوائد: … طواف کے دوران رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیانیہ دعا بطورِ خاص پڑھنی چاہیے، چکر کے باقی حصے میں کوئی بھی ذکر اور دعا کی جا سکتی ہے اور درود و سلام بھی پڑھا جا سکتا ہے، کسی چکر کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، چونکہ طواف کو نماز کہا گیا ہے اور ساری کی ساری نماز ذکر پر مشتمل ہے، اس لیے طواف میں بھی کثرت کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4383
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1573، ومسلم: 1259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4628»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۳۵۵) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لینا۔حجر اسود کا استلام کرتے وقت یہ الفاظ کہنے چاہئیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4384
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی،یہ سارے امور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی خاطر مشروع کئے گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والصحيح وقفه۔ أخرجه ابوداود: 1888، والترمذي: 902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25592»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4385
عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا الطَّوَفُ صَلَاةٌ، فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ) )
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طواف نماز ہی ہے، اس لیے جب تم طواف کرو تو کم باتیں کیا کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 5/222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16729»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4386
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الْيَوْمُ قَرْنَا عَيْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَا
۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4386]
تخریج الحدیث: «اثر في اسناده وھم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27681»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بَعْدَهُمَا
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4387
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: اسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعَةً، حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى} فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ، وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجراسود کا استلام کیا،اس کے بعد طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، طواف سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} (اورتم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھو) (سورۂ بقرہ: ۱۲۵) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دورکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی تھی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ حجراسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے، …۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4387]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14493»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4388
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا فَقَالَ: ( (أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4388]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15314»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کی دو رکعتوںکے بعد اور زمزم کا پانی پینے کے بعد دودفعہ حجر اسود کا استلام کیا، لیکن اس روایت کے علاوہ صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سمیت باقی تمام روایات میں طواف کی دو رکعتوں کے بعد ایک دفعہ استلام کرنے اور اس کے بعد صفا مروہ کی سعی شروع کر دینے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم۔
اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4388M
وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کے بعدمقام ابراہیم کے قریب دورکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا اور صفا کی طرف چلے گئے، …۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4388M]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1691، ومسلم: 1227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6247»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں