الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ أَمْرِ الْمُتَمَتِّعِ بِالتَّحَلُّلِ بَعْدَ السَّعْيِ وَالْحَلْقِ أَوْ التَّقْصِيرِ إِلَّا مَنْ سَاقَ هَدْيًا.
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
حدیث نمبر: 4409
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: ( (إِنِّي قَدْ قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ) )
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کے بعد احرام کھول رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہیں ہو رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس قربانی کا جانور ہے اور میں نے اسے قلادہ ڈالا ہوا ہے اور اپنے سر کو لیپ کیا ہوا ہے، لہٰذا حج سے فارغ ہونے تک حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26956»
وضاحت: فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران کر رہے تھے، اس لیے اس حدیث کا معنییہ ہو گا: اے اللہ کے رسول! آپ حج کے ساتھ جو عمرہ کر رہے ہیں، اس سے حلال کیوں نہیں ہو رہے؟
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26956
حدیث نمبر: 4410
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ وَأَهْدَى، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ، قُلْنَ: مَا لَكَ أَنْتَ لَا تَحِلُّ؟ قَالَ: ( (إِنِّي قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِي وَأَحْلِقَ رَأْسِي) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کو لیپ دیا تھا اور قربانی کا جانور بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: کیا بات ہے کہ آپ خود تو احرام نہیں کھو ل رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال چکا ہوں اور سر کو لیپ کر رکھا ہے، لہٰذا میں جب تک حج اور سر منڈوانے سے فارغ نہ ہو جاؤں، اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1566، 4398، ومسلم: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6068»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1566
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4411
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهَلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ: ( (أَحِلُّوا) ) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: ( (حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ) ) قَالَ: فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ خَلَفٌ: وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ: يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنَى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ: فَقَالَ فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ) ) ثُمَّ قَالَ: ( (إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ) ) قَالَ: ( (فَخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ) ) قَالَ: فَأَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ، الْجَزُورُ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةُ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سارے کے سارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد دودورکعت نماز پڑھی، پھر ہم نے صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بال کٹوانے کاحکم دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہوجاؤ یعنی احرام کھول دو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز کے لیے حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز حلال سمجھو جو احرام کے بغیر حلال ہوتی ہے، مثلاً خوشبو اور بیوی وغیرہ۔ پس عورتوں سے مجامعت کی گئی اور خوشبوئیں مہک اٹھیں۔خلف کہتے ہیں:جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی کہ بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے بارے میں کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم منیٰ کی طرف جارہے ہوں گے تو ہماری شرم گاہیں منی ٹپکا رہی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: تمہاری باتیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں، میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بات کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر پہلے معلوم ہو جاتی تو میں سرے سے قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایاہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حج کے احکام ومسائل سیکھ لو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس لوگ حلال ہوگئے اور اسی حالت پر برقرار رہے، یہاں تک کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آ گیا اور وہ منیٰ کو جانے لگے تو انہوں نے حج کا احرام باندھا، جو لوگ صاحبِ استطاعت تھے انہوں نے قربانی کی اور جو لوگ صاحب استطاعت نہ تھے انہوں نے قربانی کے عوض دس روزے رکھے اور آپ نے صحابہ کو اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور حج قران والوں کے لئے بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4411]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، ومسلم: 1216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15006»
وضاحت: فوائد: … صرف عمرہ کا تلبیہ کہنے والے صحابہ بھی موجود تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ سارے لوگ حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے، اس کو اکثریت پر یا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے علم پر محمول کیا جائے گا۔ اس معاملے میںصحابہ کی کل تین قسمیں تھیں: کسی نے حج اور عمرے دونوںکا، کسی نے صرف حج کا اور کسی نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا تھا۔ حج قران کرنے والے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں اور پھر (۱۰) ذوالحجہ کو صرف طواف افاضہ کرتے ہیں، اس طرح ان کی طوافِ قدوم کے بعد والی سعی اور طواف افاضہ ان کو حج اور عمرہ دونوں سے کفایت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حج کی نیت کو عمرہ کی نیت میں تبدیل کر دینا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1557
حدیث نمبر: 4412
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ: فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: ( (اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً) ) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟ قَالَ: ( (انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا، فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانًا فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللَّهُ؟ قَالَ: ( (وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ فَلَا أُتْبَعُ) )
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ حج کیلئے روانہ ہوئے، ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو حج کا احرام باندھا تھا، اب ہم اسے عمرہ کا احرام کیسے قراردیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جو حکم دے رہاہوں، اس پر غور کرو اور اسے سر انجام دو۔ لیکن لوگوں نے پھر وہی بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضب ناک ہوگئے اور غصہ کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غضب کے آثاردیکھے تو کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے ناراض کر دیا،اللہ اس پر ناراض ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ناراض کیوں نہ ہوں، بات یہ ہے کہ میں کوئی حکم دیتا ہوں اور میری پیروی نہیں کی جاتی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4412]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماع ابي بكر بن عياش من ابي اسحاق السبيعي ليس بذاك القوي، ثم ان ابا اسحاق لم يصرح بسماعه من البرائ۔۔ أخرجه ابن ماجه: 2982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18722»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4413
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ، فَقَالَ: ( (وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ) ) (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِيَ حَتَّى أَشْتَرِيهِ ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا أَحَلُّوا) ) قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسِبُ)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4413]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25939»
وضاحت: فوائد: … قارئین کرام! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اس امت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کا سب سے زیادہ حق ادا کرنے والے صحابۂ کرام ہی تھے، اس حقیقت کی غمازی کرنے والی اَن گنت مثالیں موجود ہیں۔تو پھر مذکورہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر ان کے متردد ہونے کا کیا معنی و مفہوم ہے، کچھ دوسری احادیث میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ توڑ دیا تھا، لیکن بعض صحابہ تردّد میں پڑ گئے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کی مجبوری کو مد نظر رکھ کر محض ان کو رخصت دی ہے، جبکہ اُن کا نظریہیہ ہوتا تھا کہ وہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس رخصت کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسئلے کی پوری وضاحت کرتے کہ یہ صرف رخصت والی بات نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ جن صحابہ کو حج کے موقع پر عمرہ ادائیگی کے بعد احرام کھولنے میں تردّد ہوا تھا، وہی بعد میں اسی حج تمتع کا فتوی دیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1211
حدیث نمبر: 4414
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرَ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ لِصُبْحِ) رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: ( (الْحِلُّ كُلُّهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لئے وہ لوگ مہینوں میں تقدیم وتاخیر کرتے اور محرم کو صفرقراردیتے اور وہ کہا کرتے تھے:جب سفر کی وجہ سے اونٹوں کو آئے ہوئے زخم درست ہوجائیں، راستوں سے قافلوں کی آمدورفت کے نشانات مٹ جائیں اور صفر کامہینہ گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ چارذوالحجہ کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے پہنچے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے حج کی بجائے عمرہ کا احرام قراردیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔ لیکن انھوں نے تو اس بات کو بہت بڑا خیال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پرحلال ہونا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2274»
وضاحت: فوائد: … دورِ جاہلیت کے لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے حرمت والے مہینوں میں تقدیم و تاخیر کر لیتے تھے، اس کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ سال کو تیرہ مہینوں کا تصور کر لیتے ہوئے صفر کو سال کا اور اشہر الحج کا آخری مہینہ قرار دیتے تھے، اس طرح حج کے بعد حج کے مہینوں کے چالیس پچاس دن بچ جاتے تھے اور اتنے عرصے میں اونٹوں کے زخم مندمل ہو جاتے تھے۔ ان الفاظ کی مزید شرح حدیث نمبر (۴۱۰۶) میں گزر چکی ہے۔ دورِ جاہلیت میں حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا جرم سمجھا جاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو ردّ کر دیا اور سال کے بارہ مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کو جائز قرار دیا، حرمت والا مہینہ ہو یا کوئی اور۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2274
حدیث نمبر: 4415
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحِجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَ: فَلُبِسَتِ الْقُمُصُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتِ النِّسَاءُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چارذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، لوگ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ قراردیں اور جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ اپنے احرام ہی میں رہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: چنانچہ قمیصیں پہن لی گئیں، خوشبوئیں مہک اٹھیں اور بیویوں سے مجامعت کی گئی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2641»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 4416
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلِّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3172»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1241
حدیث نمبر: 4417
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدِ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ، وَصَارَتْ عُمْرَةً كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث: «عبد الله بن ميمون الرقي شيخ احمد لم يذكروه بجرح ولا تعديل، وباقي رجاله ثقات۔ أخرجه الطبراني: 11483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2223»
وضاحت: فوائد: … دراصل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ حج افراد کرنے واالا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کوحکم دیا تھا، یہاں وہ اسی رائے کو بیان کر رہے ہیں۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متفق نہیںہیں۔
الحكم على الحديث:
عبد الله بن ميمون الرقي شيخ احمد لم يذكروه بجرح ولا تعديل
حدیث نمبر: 4418
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلِّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ) )
۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1564، 3832، ومسلم: 1239، 1240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2360»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1564