🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بَعْدَهُمَا
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4389
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّائِبِ كَانَ يَقُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشَّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ، فَقُلْتُ، يَعْنِي الْقَائِلُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ هَاهُنَا أَوْ يُصَلِّي هَاهُنَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَيُصَلِّي
۔ محمد بن عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سائب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھام کر لے جاتے اور حطیم کی طرف بیت اللہ کے دروازہ کے قریب تیسرے روز ان کے پاس لے جاکرکھڑا کردیتے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن سائب سے کہتے: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام پر کھڑے ہوکر نماز ادا فرمایا کرتے تھے؟ وہ کہتے: جی ہاں، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وہاں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4389]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن عبد الله بن السائب، واختلفت الرواية عن السائب بن عمر۔ أخرجه ابوداود: 1900، والنسائي: 5/ 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15466»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4390
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ إِنَّ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} قَالَتْ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
۔ جنابِ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ کیا آپ نے اس آیت پر غور نہیں کیا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) اللہ کی قسم! اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: بھانجے!تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، اگر بات اسی طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہوتو اس آیت کی عبارت یوں ہوتی فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا (اس پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف نہ کرے)۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ آیت تو اس لئے نازل ہوئی تھی کہ انصار کا یہ قبیلہ اسلام سے قبل منات نامی بت کے لئے احرام باندھا کرتا تھا اور یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی پوجا کیاکرتے تھے،اس منات کے لئے احرام باندھنے والے لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، جب ان لوگوں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سعی کو ترک کرے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4390]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1643، 4861، ومسلم: 1277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26430»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفامروہ کی سعی کے بارے میں کہا: ((مَا اَتَمَّ اللّٰہُ حَجَّ امْرِیئٍ وَلَا عُمْرَتَہٗلَمْیَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔)) … اللہ تعالی اس بندے کا حج اور عمرہ پورا نہیں کرے گا، جو صفا مروہ کی سعی نہیں کرے گا۔ عروہ نے آیت کے الفاظ ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں سے یہ اندازہ لگایا کہ سعی کوئی مباح عمل ہے، اگر واجب ہوتی تو اس آیت کے الفاظ اس طرح نہ ہوتے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، جو تیز فہم، گہری معرفت اور لطافت ِ علم سے متصف تھیں، نے وضاحت کی کہ آیت میں تو طواف کرنے والے سے گناہ کی نفی کی گئی ہے، پھر انھوں نے بتایا کہ اس آیت سے نہ سعی کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور نہ عدم وجوب، پھر انھوں نے شانِ نزول اور اس سیاق کی حکمت کی وضاحت کر دی۔ مکہ مکرمہ سے سمندر کی جانب قدید کے قریب ایک جگہ کا نام مُشلَّل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ وُجُوبِ الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ
صفا مروہ کی سعی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4391
عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْزِئَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلْنَا عَلَى دَارِ أَبِي حُسَيْنٍ فِي نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: هُوَ يَسْعَى يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَهُوَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: ( (اسْعَوْا إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ) )
۔ سیدہ حبیبہ بنت ابو تجزء ہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم کچھ قریشی خواتین دارِابی حسین میں گئیں اور دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا مروہ کی سعی کررہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر دوڑ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اڑ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ سے فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو فرض کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4391]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه وشاھده۔ أخرجه الشافعي في ’’المسند‘‘: 1/ 351، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 573، والدارقطني في ’’السنن‘‘: 2/ 256، والبيھقي: 5/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4392
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ وَرَاءَهُمْ وَهُوَ يَسْعَى حَتَّى أَرَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ وَهُوَ يَقُولُ: ( (اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ) )
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پیچھے اس قدر دوڑ رہے تھے کہ تیز چلنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادراڑ رہی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے دکھائی دے رہے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے یہ فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کوفرض کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4392]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27912»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حج و عمرہ میں سعی کرنا فرض ہے اور یہ رکن ہے، اس کے بغیر حج و عمرہ کی تکمیل نہیں ہو گی اور کسی قربانی وغیرہ سے اس کی تلافی نہیں ہو گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام اسحاق اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا یہی مسلک تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4393
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ: ( (نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام سے نکل کر یہ کہتے ہوئے صفا کی طرف جارہے تھے: ہم بھی سعی میں اسی مقام سے ابتدا کریں گے، جس سے اللہ تعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء کی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4393]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15237»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اور پھر فرمایا: ہم بھی اس (پہاڑی) سے آغاز کریں گے، جس سے اللہ تعالی نے ابتداء کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پر چڑھ گئے۔ چونکہ اللہ تعالی نے آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا ذکر کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صفا سے سعی کی ابتدا کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ الْبَدْءِ بِالصَّفَا فِي الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَحُكْمِ الْمَشْيِ وَالرَّمَلِ فِيهِ)
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4394
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى حَتَّى إِذَا نَصَبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صفا سے نیچے اترکر وادی کے درمیان پہنچ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوڑتے، یہاں تک کہ وادی کو عبور کر جاتے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4394]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 5/ 243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15239»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4395
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والی جگہ میں یوں سعی کرتے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کو گھٹنوں تک اوپر کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4395]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 597»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4396
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ (ابْنِ عُثْمَانَ) أَنَّهَا أَبْصَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَدِ انْكَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ) يَقُولُ: ( (لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا) )
۔ شیبہ بن عثمان کی ام ولد (سیدہ تملک عبدریہ) رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان اس طرح سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کپڑا گھٹنوں سے ہٹ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اس وادی کو دوڑ کر ہی عبور کیاجائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4396]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ابن ماجه: 2987، والنسائي: 5/242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27823»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4397
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْخَةٍ وَهُوَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا) )
۔ (دوسری سند) ایک عورت (یعنی سیدہ تملک رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے دروازے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی میں دوڑرہے تھے اور فرما رہے تھے: اس وادی سے دوڑ کر ہی گزرا جائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4397]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27824»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4398
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ
۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4398]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1904، والترمذي: 864، النسائي: 5/ 242، وابن ماجه: 2988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4993»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں