🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4419
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي تَفَشَّتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَإِنْ رَغِمْتُمْ) قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی یہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2513»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1244
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4420
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَا هَا عُمْرَةً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناده ضعيف۔ أخرجه مسلم: 1238مثله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27456»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4421
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَقَالَ: ( (لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَلَكِنِّي سُقْتُ الْهُدْيَ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ قراردیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر پہلے آ جاتا تو میں بھی اس کو عمرہ بنا دیتا، لیکن میں اپنے ہمراہ قربانی کا جانور لایا ہوں اور میں نے حج و عمرہ کو جمع کر رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه جهالة۔ أخرجه ابويعلي: 4345، والبطراني في ’’الاوسط‘‘: 1073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13849»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4422
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ: ( (اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ) ) قَالَ: فَجَعَلْنَا هَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنَى
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیں کھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11027»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً، ثُمَّ قَالَ: ( (لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا، وَلَكِنْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) ) ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِمَا أَهْلَلْتَ؟) ) قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ، قَالَ: فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي، قَالَ: وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 932،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2287»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4424
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسَبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، … الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمارا خیال صرف یہ تھا کہ ہم حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں، لیکن جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو یہ اعلان کیاگیا: تم میں سے جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں اور جن کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں، وہ احرام کی حالت میں رہیں۔ پس جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ عمرہ کرکے حلال ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سو اونٹ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، …۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4424]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، واخرجه مسلم: 1213، 1216، 2648 مفرقا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15007»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4425
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4425]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه بنحوه وباختصار البخاري: 4353، 4354، ومسلم: 1232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4822»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه بنحوه وباختصار البخاري: 4353
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4426
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْ لَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ) ) وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَافَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (لَا بَلْ لِلْأَبَدِ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور اس کا تلبیہ پکارا،صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے ہمراہ بھی قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے (احرام باندھتے وقت یوں) کہا تھا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا احرام باندھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے تلبیہ یا احرام کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف اور سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، البتہ جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ حلال نہیں ہوسکتے۔ لیکن لوگ کہنے لگے: کیا ہم منیٰ کی طرف اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرم گاہوں سے منی کے قطرات ٹپکتے ہوں گے؟ جب ان کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے اب آیا ہے، اگر یہ پہلے آ یا ہوتا تو میں قربانی کا جانورساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ اسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو حیض شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے تمام مناسک ادا کئے تھے، صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب وہ حیض سے پاک ہو گئی تھیں تب طواف کیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ، حج اور عمرہ دوعبادتیں کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں (اور ان کو عمرہ کروا کر لائیں) چنانچہ سیدہ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمرۃ عقبہ کے قریب ملاقات ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت رمی کررہے تھے، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! (کیا حج کے دنوں میں عمرہ کرنا) صرف آپ کے ساتھ اسی سال کیلئے مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ حکم ہمیشہ کیلئے ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230، واخرجه مسلم: 1213 بقصة عائشة منه فقط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14330»
وضاحت: فوائد: … سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کچھ دوسرے صحابہ کے پاس بھی ہدی کے جانور تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے، سیدنا جابر اپنے علم کے مطابق بات کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1651
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4427
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: ( (مَا يُبْكِيكِ؟) ) قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ، قَالَ: ( (لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟) ) يَعْنِي حِضْتِ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي) ) فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ( (اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ) ) وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَذَوِي الْيَسَّارَةِ، قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ، فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ يَعْنِي طُفْتُ، قَالَتْ: فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنِّي أَنْعُسُ فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، حَتَّى جَاءَ بِيَ التَّنْعِيمَ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم صرف حج کا تذکرہ کر رہے تھے، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رورہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رورہی ہو؟ میں نے عرض کیا: کاش! میں اس سال حج کے لئے نہ آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر یہ چیز لکھ دی ہے، تم وہ تمام مناسک اداکرو جو حاجی لوگ ادا کریں، البتہ تم اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کروجب تک حیض سے پاک نہ ہوجاؤ۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم ان مناسک کوعمرہ بنالو، جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ سب حلال ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ،اور دیگر صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ لوگ بعد میں حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے۔ میں دس ذوالحجہ کو حیض سے پاک ہوئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں طواف افاضہ کرآؤں۔ پھر ہمارے پاس گائے کا گوشت لایاگیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتانے والوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات تھی (اور لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپسی کے موقع پر وادیٔ حصبہ میں ٹھہرے) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!لوگ حج اور عمرہ کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھا کر (عمرہ کرا کر لائے)، مجھے خوب یا دہے میں نو عمر تھی اور جب مجھے اونگھ آ جاتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو جالگتا تھا، بہرحال میرے بھائی مجھے تنعیم لے گئے، اور میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا،یہ اس عمرہ کے عوض تھاجو لوگ کرچکے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4427]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 305، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26875»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 305
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4428
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِيهِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: ( (بَلْ لَنَا خَاصَّةً) )
۔ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا، کیایہ حکم صرف ہمارے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال الحارث بن بلال۔ أخرجه ابوداود: 1808، وابن ماجه: 2984، والنسائي: 5/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15947»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال الحارث بن بلال۔ أخرجه ابوداود: 1808
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں