الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ الْبَدْءِ بِالصَّفَا فِي الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَحُكْمِ الْمَشْيِ وَالرَّمَلِ فِيهِ)
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4399
عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5265»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ جَوَازِ الرُّكُوبِ فِي الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَاجَةٍ
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4400
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی سواری پر سوار ہوکر کی تھی تاکہ لوگ اچھی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سب لوگوں کی اچھی طرح رہنمائی کر سکیں، اور تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کریں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چھائے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14468»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4401
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِي عَنِ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا مَاذَا؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے صفا مروہ کی سعی کے موقع پر سوار ہونے کے متعلق بتلائیں، کیونکہ آپ کی قوم تو اسے سنت سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے۔ میں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، سارے لوگ بھی آ گئے، حتی کہ نوجوان لڑکیاں بھی آگئیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کسی کو مارا نہیں جاتا تھا، (لیکن ہجوم بھی بہت زیادہ تھا) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف اور سعی سواری پر کی تھی، ورنہ آپ کو زیادہ پسند یہی تھا کہ آپ سواری سے نیچے اتر کر یہ عمل کرتے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3492»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ الْوُقُوفِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالذِّكْرِ عِنْدَ ذَلِكَ
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4402
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا وَيَقُولُ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) ) يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صفا کے اوپر جاکر کھڑے ہوتے تو تین دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے،پھر تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے اور ہر دفعہ دعا بھی کرتے تھے، پھر مروہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی عمل دوہراتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15238»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4403
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ عُمَرُ يَأْمُرُ بِالْمَقَامِ عَلَيْهِمَا مِنْ حَيْثُ يَرَاهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا اور مروہ کے اوپر جاکر کھڑے ہوجاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان دونوں کے اوپر جاکر ایسی جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیاکرتے تھے، جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5669»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4404
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} ثُمَّ قَالَ: ( (نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ) ) فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَصَدَقَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ) ) ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ، ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْـمَـرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} (صفااور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی مقام سے ابتدا کریں گے کہ اللہ تعالی نے جس کا ذکر پہلے کیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں دعائیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اتر آئے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے درمیان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوڑنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ جب وادی کو عبور کرکے مروہ کے اوپر چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلنا شروع کر دیا اور جب مروہ کے اوپر پہنچ گئے اور بیت اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بھی وہی عمل کیا، جو صفا پر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14493»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہٖاَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَیْہِ حَتّٰی نَظَرَ اِلَی الْبَیْتِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ فَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُوْ مَا شَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّدْعُوَ)) … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ نظر آنے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور اتنی دعا کی، جتنی اللہ تعالی کو منظور تھی۔ (صحیح مسلم)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ سعی کرنے والا صفا پر چڑھے اور جہاں سے بیت اللہ نظرآئے وہاں کھڑا ہو جائے اور ”اَللّٰہُ اَکْبَرُ“ کہہ کر یہ دعا پڑے: ”لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔“ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، یہ عمل تین دفعہ دوہرائے اور صفا مروہ سے ہر چکر شروع کرتے وقت یہی عمل کرے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ سعی کرنے والا صفا پر چڑھے اور جہاں سے بیت اللہ نظرآئے وہاں کھڑا ہو جائے اور ”اَللّٰہُ اَکْبَرُ“ کہہ کر یہ دعا پڑے: ”لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔“ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، یہ عمل تین دفعہ دوہرائے اور صفا مروہ سے ہر چکر شروع کرتے وقت یہی عمل کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ أَمْرِ الْمُتَمَتِّعِ بِالتَّحَلُّلِ بَعْدَ السَّعْيِ وَالْحَلْقِ أَوْ التَّقْصِيرِ إِلَّا مَنْ سَاقَ هَدْيًا.
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
حدیث نمبر: 4405
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَقَالَ: ( (مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ) ) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض افراد نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور بعض افراد نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے، لیکن قربانی کا جانور ان کے ساتھ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1562، 4408، 7229، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25388»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے ”اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں“ کا مصداق وہ لوگ ہیں، جن کے پاس قربانی کے جانور تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4406
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ( (وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَّرَ أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا) )
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جس نے عمرے کا احرام باندھاہے اور اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا لئے ہیں، وہ احرام کی پابندی سے آزاد ہوگیا ہے اور وہ دوبارہ حج کے لیے نئے سرے سے احرام باندھے گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25609»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4407
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے موقع پر ان کو حلال ہو جانے کا حکم دیاتھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1697، 4398، ومسلم: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26967»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4408
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُّ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو عمرہ کے بعد حلال ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اورمیں نے اپنے بالوں کو لیپ کر رکھا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کرلوں، حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26969»
الحكم على الحديث: صحیح