🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4706
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ
۔ عباس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سے زائد دنوں تک قربانی کا گوشت حرام قرار دیا تھا؟ انھوں نے کہا: نہیں، دراصل بات یہ تھی کہ کم لوگ قربانی کیا کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا تاکہ قربانی کرنے والے نہ کرنے والوں کو گوشت کھلائیں، ہم نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم اپنی قربانیوں کا پنڈلی کا پتلا حصہ محفوظ کر لیتے اور پھر اس کو دس دس دنوں کے بعد کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث الآتي، أخرجه الترمذي: 1511، والنسائي: 7/ 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25214»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4707
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) عباس بن ربیعہ کہتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم صرف ان دنوں میں دیا تھا، جن میں لوگ بھوک میں مبتلا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ غنی لوگ فقیروں کو کھلائیں، ہم خود پنڈلی کا پتلا حصہ محفوظ کر لیتے اور پندرہ دنوں کے بعد کھاتے تھے۔ میں نے کہا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا؟ تو وہ ہنس پڑیں اور انھوں کہا تھا: آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لگاتار تین دن سالن والی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کو جا ملے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4707]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5423، 5438، 6687 (24962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25475»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5423
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4708
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ فَقَالَ لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
۔ یزید بن ابی یزید انصاری اپنی بیوی سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی سفر سے ہمارے پاس واپس آئے، ہم نے ان کو قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: میں اس وقت تک یہ نہیں کھاؤں گا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ نہیں لوں گا، پھر جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس گوشت کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25733»
وضاحت: فوائد: … یعنی قربانی کا گوشت پورا سال کھایا جا سکتا ہے، گوشت کو خشک کر کے کئی مہینوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4709
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
۔ ام سلیمان کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع تو کیا تھا، لیکن بعد میں رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو اپنی قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ نے ان سے روکا تھا پھر ان کے متعلق رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4709]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26947»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4710
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ قَالَ فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسِلْقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا فَقُلْتُ لَهَا أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ فَقَالَتْ مِنْ ضَحَايَانَا قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَوَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ فَقَدْ صَدَقَتْ قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو تین سے زائد دنوں تک قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پھر میں ایک سفر میں چلا گیا، جب اپنی بیوی کے پاس واپس آیا، ابھی تک عید الاضحی کو کچھ دن ہی گزرے تھے، تو میری بیوی نے چقندر پکا کر پیش کی اور اس میں گوشت کے پارچے تھے، میں نے کہا: یہ پارچے کہاں سے آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہماری قربانیوں کا گوشت ہے، میں نے کہا: وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تین سے زائد دنوں تک کھانے سے منع نہیں کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد لوگوں کو رخصت دے دی تھی، میں نے اپنی بیوی کی تصدیق نہ کی اور اپنے بھائی سیدنا قتادہ بن نعمان بدری رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرنے کے لیے ان کی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے جواباً یہ پیغام دیا کہ تم اپنا کھانا کھا لو، تمہاری بیوی سچ کہہ رہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز کی رخصت دے دی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4710]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 9/ 292، والطبراني في الكبير: 19/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16315»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4711
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَانْبِذُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کر سکتے ہو اور میں نے تم کو تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، اب تم ذخیرہ کر سکتے ہو، اسی طرح میں نے تم کو کچھ مخصوص برتنوں سے منع کیا تھا، اب تم ان میں نبیذ بنا سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیزسے بچو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4711]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5299، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 1571، 3388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4319»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4712
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ ثُمَّ قَالَ لِي يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! اس بکری کا گوشت سنبھال لو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ گوشت کھلاتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4712]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22785»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میں یہ حکم دیتا ہوں کہ کھاؤ، زادِ راہ کے طور پر لے جاؤ اور ذخیرہ کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4713]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23393»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4714
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قَالَ فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم صرف مِنٰی کے تین دنوں تک قربانی کا گوشت کھاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت دے دی اور فرمایا: کھاؤ اور زادِ راہ کے طور پر لے جاؤ۔ پس ہم نے کھایا اور زادِ راہ کے طور پر لے گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4714]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1719، ومسلم: 1972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14465»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ جب تک آدمی چاہے قربانی کا گوشت استعمال کر سکتا ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کی کچھ مقدار مستحق افراد کو دے دے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1719
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ بِوَصِيَّةٍ مِنْهُ وَمَنْ أَذِنَ فِي انْتِهَابِ أُضْحِيَةٍ -
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4715
عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ
۔ حنش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي الحسنائ، وشريكُ النخعي سييء الحفظ، أخرجه أبوداود: 2790، والترمذي: 1495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1286»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن کسی بھی نیک کام کی وصیت کی جا سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي الحسنائ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں