🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. بَابُ وَقْتِ الذَّبْحِ
ذبح کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4696
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ هَذَا يَوْمًا الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھروں کے پاس سے گزرے اور ہمارے ہاں ہنڈیوں کی ایسی بو محسوس کی، جیسے گوشت بھونا جا رہا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کس نے ذبح کر دیا ہے؟ ہمارا ایک آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے، جس میں عام کھانا پسند نہیں کیا جاتا، اس لیے میں نے قربانی کا جانور ذبح کر دیا ہے، تاکہ خود بھی کھاؤں اورہمسائیوں کو بھی کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ قربانی کر۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اب تو میرے پاس صرف بھیڑ نسل کا جذعہ ہے یا اس کا ایک سال سے کم عمر کا جانور ہے، اس نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو اس کو ہی ذبح کر دے، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4696]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: من الضأن أو حَمَل وھو خطأ وقع في الرواية، أخرجه ابن ماجه: 3154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21014»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: من الضأن أو حَمَل وھو خطأ وقع في الرواية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4697
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ثُمَّ يَذْبَحُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میرے باپ نے نمازِ عید کی ادائیگی سے پہلے قربانی ذبح کر دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ سے کہہ کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ قربانی کرے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4697]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6596»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4698
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 1126، وابن حبان: 3854، والبيھقي: 9/295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16873»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے (سلسلہ صحیحہ: ۲۴۷۶) میں اس حدیث کے طرق و شواہد پر عمدہ اور مفصل بحث کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث سیدنا جبیر بن مطعم، سیدنا ابو سعید خدری یا سیدناابوہریرہ اور ایک اور صحابی ٔ رسول سے مروی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ وَنَسْخِ ذَلِكَ
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4699
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تین دنوں کے بعد تک تمہاری قربانیوں میں سے کوئی چیز باقی ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4699]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 510»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4700
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّهِ وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ قَالَتَا وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ ابْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَطَاءٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا فَقَالَ أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ فَشَأْنَكُنَّ بِهِ
۔ عبد اللہ بن عطاء اپنے ماں اور دادی ام عطاء سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: گویا کہ اب بھی ہم سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی ہیں، جب وہ سفید خچر پر ہمارے پاس آئے اور کہا: اے ام عطائ! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز سے منع فرمایا کہ وہ تین دنوں کے بعد تک اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں، انھوں نے کہا: میرا باپ تجھ پر قربان ہو، جو گوشت ہم کو بطورِ ہدیہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا: جو تم لوگوں کو بطورِ تحفہ دیا جائے اس کو تم جیسے چاہو استعمال کر سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عطا، قال ابن معين: لا شيئ، وقال ابو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في الثقات أخرجه ابويعلي: 671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1422»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4701
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ لَا يَأْكُلُ مِنْ لَحْمِ هَدْيِهِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی تین ایام سے زائد تک اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے۔ امام نافع کہتے ہیں: جب تیسرے دن کاسورج غروب ہو جاتا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4643»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دنوں سے زائد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع کر دیا تھا، لیکن یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے، محکم حکم کا بیان اگلے باب میں ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4702
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے، کچھ مخصوص برتنوں سے اور تین دنوں سے زیادہ عرصہ تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تم کو آخرت یاد دلاتی ہیں، اور میں نے تم کو کچھ برتنوں سے روکا تھا، پس اب تم ان میں پی سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو، اور میں نے تم کو تین ایام سے زائد تک قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا، پس اب جب تک مناسب سمجھو یہ گوشت روک سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 111، وابويعلي: 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حرمت کے وقت وقتی طور پر چار قسم کے برتنوں سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں اجازت دے دی تھی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4703
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین سے زیادہ دنوں تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ لوگوں نے مہمانوں کی ضیافت کرنی ہوتی ہے اور غیر موجود لوگوں کے کچھ گوشت محفوظ کر کے رکھنا ہوتا ہے، سو جب تک چاہو، اس گوشت کو روک سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4703]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابويعلي: 3707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»

الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4704
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی میں سے کچھ گوشت کھائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4704]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9067»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4705
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَقَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا الَّذِي نَهَيْتَ عَنْهُ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْهُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بدّو لوگوں کی ایک جماعت عید الاضحی کے موقع پر آئی، ان کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دنوں تک ذخیرہ کر سکتے ہو۔ جب اس کے بعد اگلا سال آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے اس طرح فائدہ اٹھا لیتے تھے کہ چربی محفوظ کر لیتے اور مشکیزے بنا لیتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: آپ نے جو پچھلے سال قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو بدّو لوگوں کے آ جانے کی وجہ سے منع کیا تھا، اب تم کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4705]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5570، ومسلم: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24753»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5570
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں