صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ:
باب: فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج و ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7235
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ "، وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "،
عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے۔“ اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے، پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ فرمایا: ”ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7235]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے یہ فرماتے ہوئے بیدار ہوئے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» ”اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر سے تباہی ہے جو قریب آ چکا ہے، اس وقت یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے“۔ سفیان نے اس کی وضاحت کے لیے دس کے عدد کی گرہ لگائی، یعنی انگوٹھا اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنایا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم نیک بندوں کے موجود ہونے کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب فسق و فجور کی خباثت و گندگی بڑھ جائے گی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7236
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .
ابوبکر بن ابی شیبہ، سعید بن عمرو اشعثی، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور انہوں نے سفیان سے بیان کردہ روایت کی سند میں مزید کہا: زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے حبیبہ سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7236]
امام مسلم نے مذکورہ بالا روایت بہت سے اساتذہ کی ایک ہی سند سے بیان کی ہے، فرق یہ ہے کہ اوپر کی سند میں تین صحابیات تھیں اور یہاں چار صحابیات ہیں، جو ایک دوسرے سے بیان کرتی ہیں یعنی زینب بنت اُم سلمہ اور حبیبہ رضی اللہ عنہما (یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ ہیں)، اُم حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما (یہ دونوں زوجہ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7237
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ، قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ (خواب گاہ سے) نکلے۔ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو اب قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے۔“ اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں، یا پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7237]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھبرائے ہوئے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی (شہادت) سے حلقہ بنایا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جبکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب گندگی بڑھ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7238
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ.
عقیل بن خالد اور صالح دونوں نے ابن شہاب (زہری) سے یونس کی زہری سے حدیث کے مطابق اور اسی کی سند سے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7238]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2881 ترقیم شاملہ: -- 7239
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ ".
احمد بن اسحاق نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے۔“ وہیب نے اپنی انگلی سے نوے کا نشان بنایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7239]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا سوراخ کھول دیا گیا ہے۔“ وہیب نے اپنے ہاتھ سے نوے کے عدد کی گرہ لگائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِي يَؤُمُّ الْبَيْتَ:
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2882 ترقیم شاملہ: -- 7240
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟، قَالَ: يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ "، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ،
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انہوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حارث بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے متعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ تھا۔ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموار حصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! جو مجبور ان کے ساتھ (شامل) ہو گا اس کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ اور ابوجعفر نے کہا: یہ مدینہ (کے قریب) کا چٹیل حصہ ہوگا (جہاں ان کو دھنسا دیا جائے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7240]
عبید اللہ بن قبطیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان، ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں دریافت کیا جسے دھنسا دیا جائے گا اور یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد کی بات ہے، تو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لشکری ایک چٹیل میدان میں پہنچیں گے، انہیں دھنسا دیا جائے گا۔“ تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو جو لوگ مجبوراً شریک ہوں گے، ان کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا۔“ ابو جعفر کہتے ہیں: اس میدان سے مراد مدینہ کا مقام «الْبَيْدَاءُ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2882 ترقیم شاملہ: -- 7241
حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا إِنَّمَا، قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
عبدالعزیز بن رفیع نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور ان کی حدیث میں ہے: (ابن قبطیہ نے) کہا: تو میں ابوجعفر سے ملا، میں نے کہا: انہوں (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) نے تو زمین کا ایک چٹیل میدان کہا تھا۔ تو ابوجعفر نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! وہ مدینہ کا چٹیل حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7241]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ میں ابو جعفر یعنی امام باقر سے ملا اور پوچھا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ کہا ہے: ”زمین کا چٹیل میدان“ (اور اس میں جگہ کا ذکر نہیں ہے تو ابو جعفر نے کہا: یقیناً اللہ کی قسم! اس سے مراد مدینہ کا مقام بیداء ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2883 ترقیم شاملہ: -- 7242
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
امیہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک لشکر (اللہ کے) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اس کا رخ کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا، ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کے سوا، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی (زندہ) باقی نہیں بچے گا۔“ تو ایک شخص نے (ان کی بات سن کر) کہا: میں تمھارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7242]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیت اللہ پر حملہ کے ارادے سے ایک لشکر اس کا رخ کرے گا، جب یہ لوگ چٹیل زمین میں پہنچیں گے ان کے درمیانی حصہ کو دھنسا دیا جائے گا اور پہلا حصہ آخری حصے کو آواز دے گا، پھر ان سب کو بھی دھنسا دیا جائے گا، بس وہ بھگوڑا بچے گا جو ان کے بارے میں جا کر اطلاع دے گا۔“ چنانچہ ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2883 ترقیم شاملہ: -- 7243
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ، وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، قَالَ يُوسُفُ: وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ، قَالَ زَيْدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.
عبیداللہ بن عمرو نے کہا: ہمیں زید بن ابی انیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی، انہوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی، کہا: مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک قوم اس گھر۔۔۔یعنی کعبہ۔۔۔میں پناہ لے گی، ان کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی ذریعہ ہوگا، نہ عددی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ (لشکر کے) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔“ یوسف (بن مالک) نے کہا: ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آ رہے تھے، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا: دیکھو، اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید (بن ابی انیسہ) نے کہا: اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے، انہوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے، انہوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے، یوسف بن مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7243]
حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کی پناہ ایسے لوگ لیں گے، ان کا کوئی حامی و محافظ نہیں ہو گا، نہ عددی طاقت اور نہ ساز و سامان، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا، حتیٰ کہ جب لشکر زمین کے ایک چٹیل میدان میں پہنچے گا تو اسے دھنسا دیا جائے گا۔“ عبداللہ بن صفوان کے شاگرد یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں، ان دنوں اہل شام یعنی یزید کا لشکر مکہ کی طرف جا رہا تھا، چنانچہ عبداللہ نے کہا (حالانکہ وہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شہید ہوئے): ہاں اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید بن ابی انیسہ کہتے ہیں، مجھے یہی روایت ایک دوسری سند سے حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا سے پہنچی ہے لیکن اس میں اس لشکر کا ذکر نہیں ہے، جس کا ذکر عبداللہ بن صفوان نے کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2884 ترقیم شاملہ: -- 7244
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ؟، فَقَالَ: " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ، قَالَ: " نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ، وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران (اضطراب کے عالم) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی، تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عجیب بات ہے کہ (آخری زمانے میں) میری امت میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف (کارروائی کرنے کے لیے) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستہ تو ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور (قیامت کے روز) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے، اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7244]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے جسم کو حرکت دی یا ہاتھ پیر ہلائے، چنانچہ ہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی نیند میں ایسا کام کیا، جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیرت انگیز بات ہے، میری امت کے کچھ لوگ، ایک قریشی آدمی کی خاطر جو بیت اللہ کی پناہ لے چکا ہو گا، بیت اللہ کا رخ کریں گے، حتی کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان میں پہنچیں گے، انہیں دھنسا دیا جائے گا۔“ چنانچہ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! راستہ تو ہر قسم کے لوگوں کو جمع کر دیتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان میں معاملہ سے آگاہ، اس کی بصیرت رکھنے والے، مجبور اور مسافر بھی ہوں گے، سب اکٹھے ہلاک ہو جائیں گے اور الگ الگ حیثیت سے، اللہ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة