صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ:
باب: قیام قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7265
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ، قَالَ: " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ "،
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی، اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7265]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت برپا ہونے تک کے واقعات سے آگاہ فرمایا، اور میں نے آپ سے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا، مگر میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکالے گی؟ یعنی اہل مدینہ، مدینہ سے کیوں نکل جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
وہب بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7266]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے اس قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2892 ترقیم شاملہ: -- 7267
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ، فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا ".
علباء بن احمر نے کہا: حضرت ابوزید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، آپ (منبر سے) اترے، ہمیں نماز پڑھائی، پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور (آگے) خطبہ ارشاد فرمایا: یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، پھر آپ اترے، نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والا تھا (سب) ہمیں بتا دیا، ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یاداشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7267]
حضرت ابو زید یعنی عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر چڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتیٰ کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے اتر کر نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتیٰ کہ عصر کا وقت ہو گیا، پھر آپ نے اتر کر نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، چنانچہ آپ نے ہمیں ان باتوں سے آگاہ فرمایا، جو ہو چکی تھیں اور جو ہونے والی تھیں، سو ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جس نے زیادہ یاد رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2892
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ:
باب: سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 7268
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كريب جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، وَكَيْفَ قَالَ؟، قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: فَقُلْنَا: لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟، قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ "،
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے (ابووائل) شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے کہا: فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: مجھے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم بہت جرات مند ہو۔ (یہ بتاؤ کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایا تھا؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے: ”انسان اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتا ہے، تو روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مراد اس سے نہیں، میری مراد تو اس (فتنے) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ کر آتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اس فتنے سے کیا (خطرہ) ہے؟ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے کہا: وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ کہا: میں نے جواب دیا، نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ (دروازہ دوبارہ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا۔ (شقیق نے) کہا: ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل پچو بات نہ تھی۔ کہا: پھر ہم ڈر گئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا: آپ ان (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھیں، انہوں نے پوچھا تو (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (وہ دروازہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ (تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7268]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے کہا: ”فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟“ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: ”مجھے۔“ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”تم بہت جرات مند ہو۔ (یہ بتاؤ کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایا تھا؟“ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”انسان اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتا ہے تو روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری مراد اس سے نہیں، میری مراد تو اس (فتنے) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ کر آتا ہے۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنے سے کیا (خطرہ) ہے؟ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔“ انھوں نے کہا: ”وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟“ کہا: میں نے جواب دیا: ”نہیں، بلکہ توڑا جائے گا۔“ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ (دروازہ دوبارہ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا۔“ (شقیق رحمہ اللہ نے) کہا: ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: ”ہاں! اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل پچو بات نہ تھی۔“ کہا: پھر ہم اس بات سے ڈر گئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا: آپ ان (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھیں، انھوں نے پوچھا تو (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”(وہ دروازہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ (تھے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 7269
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ:
وکیع، جریر، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ (جملہ) ہے کہا: میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7269]
یہی روایت امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 144 ترقیم شاملہ: -- 7270
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا، عَنِ الْفِتْنَةِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بنحو حديثهم.
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابووائل (شقیق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟ اور (پھر) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7270]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہمیں فتنہ کے بارے میں حدیث سنائے گا؟ آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2893 ترقیم شاملہ: -- 7271
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقُلْتُ: لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ؟، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، إنه لحديث رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قُلْتُ: " بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي، ثُمَّ قُلْتُ: مَا هَذَا الْغَضَبُ؟، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو (وہاں) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: آج یہاں بہت خونریزی ہو گی۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: واللہ! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ میں نے جواب میں کہا: آج تم میرے لیے آج کے بدترین ساتھی (ثابت ہوئے) ہو۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کر رہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟ پھر میں نے کہا: یہ غصہ کیسا؟ چنانچہ میں (ٹھیک طرح سے) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7271]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں واقعہ جرعہ کے دن آیا تو وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا چنانچہ میں نے کہا: آج یہاں خون ریزی ہو گی، تو اس آدمی نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! اس نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں نے کہا: ضرور ہو گی، اللہ کی قسم! اس نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! کیونکہ آپ کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے سنائی ہے، میں نے کہا: آپ آج کے میرے برے ہم نشین ہیں، آپ سن رہے ہیں کہ میں آپ کی ایسی چیز میں مخالفت کر رہا ہوں جو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکے ہیں، اس کے باوجود آپ مجھے روکتے نہیں ہیں؟ پھر میں نے دل میں کہا: اس غصہ کا کیا فائدہ؟ اس لیے میں ان سے پوچھنے کے لیے ان کی طرف بڑھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2893
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ:
باب: قیامت آنے سے قبل فرات میں سونے کا پہاڑ نکلنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2894 ترقیم شاملہ: -- 7272
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ: لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو "،
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا۔ اس پر (لڑتے ہوئے) ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے، اور ان (لڑنے والوں) میں سے ہر کوئی کہے گا: شاید میں ہی بچ جاؤں گا (اور سارے سونے کا مالک بن جاؤں گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7272]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر نہ ہو، جس پر لوگ لڑیں گے، چنانچہ ہر سو میں سے ننانویں قتل کر دیے جائیں گے، ان میں سے ہر آدمی اپنے جی میں کہے گا: شاید بچنے والا میں ہی ہوں۔“ یعنی گھمسان کی جنگ کی صورت میں بھی حرص کی بنا پر ہر انسان اس میں گھسے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7272]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2894
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2894 ترقیم شاملہ: -- 7273
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ، فَقَالَ أَبِي: إِنْ رَأَيْتَهُ فَلَا تَقْرَبَنَّهُ.
روح نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی، اور مزید کہا: تو میرے والد نے کہا: اگر تم اس پہاڑ کو دیکھ لو تو اس کے قریب بھی مت جانا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7273]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے، سہیل کہتے ہیں: چنانچہ میرے والد نے کہا: اگر تو اس کو دیکھ لے تو ہرگز اس کے قریب نہ جانا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7273]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2894
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2894 ترقیم شاملہ: -- 7274
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ".
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک خزانے کو ظاہر کر دے گا، جو شخص وہاں موجود ہو، تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7274]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دریائے فرات سے سونے کا خزانہ (پہاڑ کی شکل میں) ظاہر ہو تو جو شخص وہاں موجود ہو، وہ اس سے کچھ لینے کی کوشش نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2894
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة