صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا:
باب: دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2888 ترقیم شاملہ: -- 7255
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ، فَهُمَا عَلَى جُرْفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا ".
ربعی بن حراش نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ مسلمانوں میں سے ایک نے اپنے بھائی پر اسلحہ کشی کی تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں، پھر جب ان میں سے ایک نے (موقع پاتے) دوسرے کو کر دیا، تو دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7255]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، تو جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو دونوں جہنم میں پہنچ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2888
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7256
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، وَتَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک یہ تھی) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں باہم جنگ آزما ہوں گی۔ ان دونوں کے درمیان بڑی قتل و غارت گری ہو گی، جبکہ دونوں ایک ہی (بات یعنی حق کی نصرت کا) دعویٰ کرتے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7256]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام منبہ رحمہ اللہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑی جماعتیں نہیں لڑیں گی۔ ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوگی اور ان کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7257
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ "، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " الْقَتْلُ الْقَتْلُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج (جانوں کی تباہی) ہو جائے گی؟“ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہرج (تباہی) کیا ہو گی؟ فرمایا: ”قتل، قتل۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7257]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک قتل و غارت عام نہیں ہوتا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: «الْهَرْجُ» سے کیا مراد ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل، قتل۔“ یعنی قتل کا عام ہونا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب هَلاَكُ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ:
باب: اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2889 ترقیم شاملہ: -- 7258
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيَّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً، فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا، أَوَ قَالَ: مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا "،
ایوب نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا، اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے (سونے اور چاندی کے ذخائر) دیے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ سے ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان سب (کی جانوں) کو روک کر لے۔ بے شک میرے رب نے فرمایا: ”اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر دوں، تو وہ رد نہیں ہوتا۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کر دی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گا، جو ان سب (کی جانوں) کو روک کر لے، چاہے ان کے خلاف ان کے اطراف والے۔ یا کہا: ان کے اطراف والوں کے اندر سے ہوں اکٹھے کیوں نہ ہوں جائیں۔ یہاں تک کہ یہ (خود) ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7258]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے مشرقی اور مغربی کناروں کو دیکھ لیا اور یقیناً میری امت کا اقتدار و حکومت وہاں تک پہنچے گی، جہاں تک اس کو میرے لیے سمیٹ دیا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ و سفید عنایت کیے گئے (یعنی قیصر و کسریٰ کے خزانے) اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ وہ اسے قحطِ عام کے ذریعے ہلاک نہ کرے اور ان پر ان کے اپنے سوا کسی دشمن کو غلبہ اور تسلط نہ دے (تمام مسلمانوں پر کافر غالب نہ آجائیں) کہ وہ ان کے اقتدار و جمعیت کو پامال کر دے اور مجھے میرے رب نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اس کو ٹالا نہیں جا سکتا اور میں نے تجھے تیری امت کے بارے میں یہ وعدہ دے دیا ہے کہ میں انہیں قحطِ عام سے ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان کے سوا کوئی ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان کی عزت و اقتدار کو ختم کر دے، اگرچہ تمام روئے زمین کے لوگ ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں، ہاں وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2889
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2889 ترقیم شاملہ: -- 7259
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ.
قتادہ نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء یحییٰ سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا، حتیٰ کہ میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے۔“ اس کے بعد ابوقلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7259]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روئے زمین کو سمیٹ دیا۔ حتی کہ میں نے اس کے مشرقی اور مغربی کناروں کو دیکھ لیا اور اللہ نے مجھے دو سرخ اور سفید خزانے عنایت فرمائے۔“ آگے مذکورہ روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2889
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2890 ترقیم شاملہ: -- 7260
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ الْعَالِيَةِ، حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کے) بالائی علاقے سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تو آپ اس میں داخل ہوئے اور وہ رکعتیں ادا فرمائیں۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اپنے رب سے بہت لمبی دعا کی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین (چیزیں) مانگیں۔ اس نے وہ مجھے عطا فرما دیں اور ایک مجھ سے روک لی۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ میری (پوری) امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ چیز عطا فرما دی اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ (بھی) مجھے عطا فرما دی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو تو اس نے یہ (بات) مجھ سے روک لی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7260]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ کی بلند بستیوں کی طرف سے تشریف لائے حتیٰ کہ جب بنو معاویہ کی مسجد سے گزرے تو اس میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور آپ نے اپنے رب سے طویل دعا فرمائی، پھر ہماری طرف رخ پھیر کر فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگی ہیں، چنانچہ اس نے میری دو درخواستیں قبول فرما لی ہیں اور ایک دعا قبول نہیں کی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے اس کو قبول کر لیا اور میں نے اس سے درخواست کی وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ بھی قبول کر لی اور میں نے اس سے درخواست کی ان کو آپس میں نہ لڑائے تو اس نے یہ قبول نہیں کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2890 ترقیم شاملہ: -- 7261
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
مروان بن معاویہ نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے۔ (آگے) ابن نمیر کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7261]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ساتھیوں کے ایک گروہ میں آئے تو آپ کا بنو معاویہ کی مسجد سے گزر ہوا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ:
باب: قیام قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7262
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ كَانَ، يَقُولُ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ، وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَكُونَ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ: " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ، وَمِنْهَا كِبَارٌ "، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ ابوادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں۔ اور (انھیں بیان کرنے میں) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی (مانع) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طور پر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی۔ (ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں موجود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے: ”ان میں سے تین (فتنے) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے سوا وہ سب لوگ (جو اس مجلس میں موجود تھے) رخصت ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7262]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سب لوگوں سے زیادہ ہر اس فتنے سے آگاہ ہوں جو میرے اور قیامت کے درمیان واقع ہونے والا ہے اور یہ حالت صرف اس بنا پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں کچھ راز کی باتیں صرف مجھے بتائیں، میرے سوا کسی اور کو وہ باتیں نہیں بتائیں، لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں فرمائیں اور میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا شمار کرتے ہوئے فرمایا: ”ان میں سے تین فتنے ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے اور ان سے کچھ فتنے گرمیوں کی آندھیوں کی طرح ہیں (جو انتہائی تکلیف دہ ہوں گے جس طرح گرمی کی آندھی جھلس کر رکھ دیتی ہے) ان میں سے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے سوا اس مجلس کے تمام حاضرین فوت ہو چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7263
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ، ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ "،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے کھڑے ہونے کے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی کوئی (اہم) بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان فرما دیا، جس نے اس (بیان) کو یاد رکھا، اس نے اسے یاد رکھا، اور جس نے اسے بھلا دیا، اس نے اسے بھلا دیا۔ وہ سب کچھ میرے ان ساتھیوں کے علم میں آیا پھر ان میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے جو میں بھول چکا ہوتا ہوں تو جب اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آ جاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کسی غائب ہو جانے والے شخص کا چہرہ یاد رکھتا ہے، جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7263]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور قیامت قائم ہونے کے تمام اہم واقعات اس میں بیان کر دیے، جس نے انہیں یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے انہیں بھلا دیا اس نے بھلا دیا، میرے ان ساتھیوں کو بھی اس واقعے کا علم ہے اور صورتِ حال یہ ہے، ان میں سے بعض چیزیں میں بھول چکا ہوں اور جب وہ واقع ہوتی ہیں تو وہ مجھے یاد آ جاتی ہیں، جس طرح انسان کو ایک غیر حاضر ہو جانے والے آدمی کا چہرہ یاد ہوتا ہے، پھر وہ جب سامنے آتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7264
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ان (حذیفہ رضی اللہ عنہ) کے اس قول تک: ”اور جس نے اسے بھلا دیا، اس نے اسے بھلا دیا“ روایت کی اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7264]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے «نَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ» ”جو اس واقعہ کو بھول گیا۔ وہ بھول گیا“ تک بیان کرتے ہیں، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة