🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب فِي الآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ:
باب: ان نشانیوں کا بیان جو قیامت سے قبل ہوں گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2901 ترقیم شاملہ: -- 7285
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: " مَا تَذَاكَرُونَ؟ "، قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ".
سفیان بن عینیہ نے فرات قزاز سے، انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ قیامت کا ذکر کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے۔ پھر ذکر کیا دھوئیں کا، دجال کا، زمین کے جانور کا، سورج کے مغرب سے نکلنے کا، عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کا، یاجوج ماجوج کے نکلنے کا، تین جگہ خسف کا یعنی زمین کا دھنسنا، ایک مشرق میں، دوسرے مغرب میں، تیسرے جزیرہ عرب میں۔ اور ان سب نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی، جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے (میدان) محشر کی طرف لے جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7285]
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے جبکہ ہم باہمی مذاکرہ (گفتگو) کر رہے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا گفتگو کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک ہرگز قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”دھواں، دجال، جانور، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، یاجوج ماجوج، تین خسف یعنی زمین میں دھنسنا؛ ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۃ العرب میں اور آخری نشانی آگ ہوگی، جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے محشر (جمع ہونے کی جگہ) کی طرف ہانکے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2901
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2901 ترقیم شاملہ: -- 7286
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا تَذْكُرُونَ؟ "، قُلْنَا: السَّاعَةَ، قَالَ: " إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَكُونُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ "، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ لَا يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ الْآخَرُ: وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ،
عبیداللہ بن معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے فرات قزاز سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوطفیل سے، انہوں نے حضرت ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کی: قیامت کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک دس نشانیاں ظاہر نہیں ہوں گی، قیامت نہیں آئے گی: مشرق میں زمین کا دھنسنا، مغرب میں زمین کا دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین کا دھنسنا، دھواں، دجال، زمین کا چوپایہ، یاجوج ماجوج، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور ایک آگ جو عدن کے آخری کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکے گی۔“ شعبہ نے کہا: عبدالعزیز بن رفیع نے مجھے بھی ابوطفیل سے اور انہوں نے ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (موقوف حدیث بیان کی) اور (مجھے حدیث سنانے والے فرات اور عبدالعزیز) دونوں میں سے ایک نے دسویں (نشانی) کے بارے میں کہا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول اور دوسرے نے کہا: ایک ہوا (آندھی) ہو گی جو لوگوں کو سمندر میں پھینکے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7286]
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر فرمایا: ”تم کس چیز کا تذکرہ کر رہے ہو؟“ ہم نے کہا: قیامت کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت دس نشانیوں کے ظہور سے پہلے نہیں ہو گی: ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۃ العرب میں، دھواں، دجال، زمین سے نکلنے والا جانور، یاجوج ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور آگ جو عدن کے آخر سے نکلے گی اور لوگوں کو کوچ پر مجبور کر دے گی۔“ شعبہ یہ روایت ایک دوسرے استاد سے کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کرتے اور دسویں نشانی ایک استاد نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول بتایا اور دوسرے نے وہ ہوا جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2901
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2901 ترقیم شاملہ: -- 7287
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ، قَالُوا: قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ: نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وقَالَ الْآخَرُ: رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے فرات سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم اس کے نیچے باتیں کر رہے تھے، اور (آگے) اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ شعبہ نے کہا: اور میرا خیال ہے (کہ فرات نے) کہا: وہ جب قیام کے لیے رکیں گے تو وہ (آگ) بھی ان کے ساتھ رک جائے گی اور جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ سکون پذیر ہو جائے گی۔ شعبہ نے کہا: مجھے کسی شخص نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی اور اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ کہا: ان دونوں (کسی شخص اور فرات قزاز) میں سے ایک نے کہا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول“ اور دوسرے نے کہا: ”ہوا جو انھیں سمندر میں لا ڈالے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7287]
حضرت ابو سریحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بالا خانہ میں تھے اور ہم اس کے نیچے باہمی بات چیت کر رہے تھے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”آگ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جب وہ پڑاؤ کریں گے اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے۔“ شعبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے ایک اور آدمی نے بھی سنائی، لیکن اس نے اس کو مرفوع بیان نہیں کیا اور ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے عیسیٰ بن مریم کے نزول کا تذکرہ کیا اور دوسرے نے کہا: ایک ہوا ہو گی جو لوگوں کو سمندر میں ڈال دے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2901
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2901 ترقیم شاملہ: -- 7288
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ بِنَحْوِهِ، قَالَ: وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ.
محمد بن مثنیٰ نے بھی ہمیں یہی (حدیث) بیان کی، کہا: ابونعمان حکم بن عبداللہ عجلی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: شعبہ نے ہمیں فرات سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: ہم باتیں کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر سے جھانک کر ہمیں دیکھا (اس کے بعد) معاذ اور ابن جعفر کی حدیث ہے۔ ابن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابونعمان حکیم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی، کہا: دسویں (علامت) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہے۔ شعبہ نے کہا: عبدالعزیز نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7288]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم باہمی گفتگو کر رہے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جھانکا اور مذکورہ حدیث بیان کی۔ شعبہ، عبدالعزیز بن رفیع کے واسطہ سے اوپر والی حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے اور دسویں نشانی ”عیسیٰ بن مریم کا نزول ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2901
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ:
باب: زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2902 ترقیم شاملہ: -- 7289
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى ".
یونس اور عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابن مسیب نے کہا: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ ارض حجاز سے ایک آگ نکلے گی جو (شام کے شہر) بصری میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7289]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک سرزمینِ حجاز سے ایسی آگ نہ نکلے جس سے بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں چمک اٹھیں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2902
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ:
باب: قیامت سے پہلے مدینہ کی آبادی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2903 ترقیم شاملہ: -- 7290
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبْلُغُ الْمَسَاكِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ "، قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ: فَكَمْ ذَلِكَ مِنْ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا مِيلًا.
اسود بن عامر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مدینہ منورہ کے) گھر اباب یا یہاب (کے مقام تک) پہنچ جائیں گے۔“ زہیر نے کہا: میں نے سہیل سے پوچھا: یہ جگہ مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہے؟ انہوں نے کہا: اتنے اتنے میل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7290]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکانات «إِهَابَ» یا «يَهَابَ» تک پہنچ جائیں گے“ (یعنی مدینہ کی آبادی بہت بڑھ جائے گی اور اس کے مکانات بہت دور تک پہنچ جائیں گے)۔ زہیر کہتے ہیں کہ میں نے سہیل رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ مدینہ سے کس قدر فاصلہ پر ہے؟ انہوں نے کہا: اتنے اتنے میل دور ہے (میلوں کی تحدید نہیں مل سکی) اور بقول علامہ صفی الرحمان رحمہ اللہ یہ غربی حرۃ کی طرف وادی عقیق سے ایک میل کے فاصلے پر ہے لیکن آج کل مکانات اس سے بہت آگے جا چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2903
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2904 ترقیم شاملہ: -- 7291
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو، بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو، پھر بارش ہو، لیکن زمین کوئی چیز نہ اگائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشک سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسے لیکن قحط یہ ہے کہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں اور زمین سے کوئی پیداوار حاصل نہ ہو سکے۔“ یعنی زمین کوئی چیز نہ اگائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب الْفِتْنَةِ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ:
باب: مشرق سے فتنوں کا بیان جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7292
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ، يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ مشرق کا رخ کیے ہوئے فرما رہے تھے: ”سنو! فتنہ یہاں ہو گا، سنو! یہاں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7292]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، جبکہ آپ کا رخ (مدینہ سے) مشرق کی طرف تھا: ”خبردار! یقیناً فتنہ کی سرزمین ادھر ہے، خبردار! فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7293
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ: " الْفِتْنَةُ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا "، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ.
عبیداللہ بن عمر قواریری، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے یحییٰ (بن سعید) قطان سے روایت کی، قواریری نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”فتنہ اس سمت میں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ یہ بات آپ نے دو یا تین بار ارشاد فرمائی۔ عبیداللہ بن سعید نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7293]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے“۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دفعہ فرمائی اور عبداللہ بن سعید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کھڑے ہوئے (دونوں گھروں کی جہت ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7294
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ: " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ نے مشرق کی طرف رخ کیا ہوا تھا: ”یاد رکھو! فتنہ یہاں ہے، یاد رکھو! فتنہ یہاں ہے، یاد رکھو! فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7294]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف منہ کر کے فرمایا: ”خبردار! فتنہ ادھر ہے، خبردار! فتنہ ادھر ہے، خبردار! فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں