الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. أَبْوَابُ مَا يَحْرُمُ أَكْلُهُ
حرام کھانوں کا بیان
حدیث نمبر: 7330
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر کے دن ہر ایک کچلی والا درندہ، نشانہ لگا کر مارا گیا جانور اور گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7330]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الترمذي: 1795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8775»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7331
عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمْ فَحَبَلُوهَا ثُمَّ قُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدًا فَأَسْأَلَهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُنَادِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ لُحُومُ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَخَيْلِهَا وَبِغَالِهَا وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر گرمیوں میں غزوہ کیا، ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کی بہت چاہت ہوئی، انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم گھوڑی ذبح کر لیں، انہوں نے انہیں دیئے اور رسیوں میں باندھ دیئے، پھر میں نے کہا: ٹھہر جائیں، میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ خیبرکیا، لوگوں نے بہت ہی تیز رفتاری سے یہودیوں کے باڑوں کی طرف پیش قدمی کی، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو جمع کرنے کے لیے یہ آواز دوں: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ اور کہوں کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم نے یہودیوں کے باڑوں کی جانب بڑھنے میں بہت زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے، خبردار! ذمیوں کا مال تمہارے لیے حلال نہیں ہے، مگر حق کے ساتھ اور تم پر گھریلو گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ تم پر حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7331]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، علي نكارة في بعض الفاظه، أخرجه ابوداود: 3806، والنسائي: 7/ 202، وابن ماجه: 3198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16940»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 7332
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ
۔ (دوسری سند)سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7332]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16941»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16941
حدیث نمبر: 7333
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأُولَى سَوَاءً بِسَوَاءٍ
۔ (تیسری سند) سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، میں نے موسم گرما میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا، پھر پہلے سند والے متن کی طرح کا متن بیان کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7333]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16942»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16942
حدیث نمبر: 7334
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے، پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے، مردار کی قیمت، گھریلو گدھوں کے گوشت اور زانی خاتون کی کمائی، سانڈ کی جفتی کا عوض لینے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7334]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، حسن بن ذكوان ضعيف، وھو لم يسمع من حبيب بن ابي ثابت، بينھما عمرو بن خالد القرشي المتھم بالكذب، أخرجه الدارقطني: 2/ 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1254»
وضاحت: فوائد: … اس باب میںمختلف حرام چیزوں کا ذکر ہوا ہے، البتہ گھوڑے کی حرمت پر دلالت کرنے والی حدیث ضعیف ہے، گھوڑا حلال جانور ہے، جیسا کہ پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمر الأهلية والجلالة
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 7335
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَعَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لُحُومِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھویلو گدھوں کے گوشت سے اور جلالہ جانور سے، اس پر سوار ہونے سے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7335]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3811، والنسائي: 7/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7039»
وضاحت: فوائد: … جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں جو اس قدر نجاست اور غلاظت کھائے کہ وہ نجاست اس کے وجود میں رچ بس جائے اور اس سے باقاعدہ بد بو آنے لگے، اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس جانور پر نجاست غالب آ گئی ہے اور ایسا جانور اس نجاست کی وجہ سے حرام ہو گا، اس کا پسینہ بھی ناپاک ہو جائے گا۔ اگر ایسا جانور بعد میں نجاست والی چیزیں کھانا چھوڑ دے اور اس کے جسم سے اس کے اثرات مکمل طور پر ختم ہو جائیں تو وہ حلال ہو گا، یعنی اصل مسئلہ نجاست کا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7336
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر والے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7336]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5522، ومسلم: ص 1538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4720»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5522
حدیث نمبر: 7337
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَنَصَبُوا الْقُدُورَ وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگ گھریلو گدھوں کے گوشت پکانے میں مشغول ہو گئے اور انہوں نے ہنڈیاں بھی پکانے کے لیے رکھ دیں، میں نے بھی ہنڈیا رکھ دی، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس سے منع کرتاہوں، میں تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتا ہوں۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا، پس ہنڈیاں الٹ دی گئیں،میں نے بھی ہنڈیاں الٹنے والوں میں اپنی ہنڈیا الٹ دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7337]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11646»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي
حدیث نمبر: 7338
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَلِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَالْقُدُورُ تَفُورُ بِهَا فَكَفَأْنَاهَا عَلَى وُجُوهِهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَنَحْنُ بِخَيْبَرَ فَكَفَأْنَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
۔ سیدنا ابو سلیط رضی اللہ عنہ،جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر میں تھے، ہمارے پاس یہ حکم آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے، حالت یہ تھی کہ ہم بھوکے تھے اور ہنڈیاں گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں، لیکن ہم نے اس ممانعت کے حکم کے بعد ان کو یکسر الٹ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7338]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15537»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7339
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، یہ گندہ ہے، اسے کھانا شیطان کا کام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7339]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2991، 4198، ومسلم: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12110»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2991