🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمر الأهلية والجلالة
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7340
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ أَكَلْتُ الْحُمُرَ مَرَّتَيْنِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ قَالَ فَنَادَى أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ خیبر میں ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے دو مرتبہ گدھے کا گوشت کھایا ہے، وہ پھر آیا اور اس نے کہا: گدھوں کو تو کھا کھا کر ختم کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ منادی کروا دی کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ یہ گندہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7340]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12164»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12164
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7341
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بستی کے باہر گدھوں کو پایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہنڈیوں میں جو کچھ بھی ہے، سب الٹ دو۔ جب میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے کہا: ان کے گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3155، 4220، ومسلم: 1937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19620»
وضاحت: فوائد: … سعید بن جبیر کا یہ کہنا کہ گدھوں کو اس لیے حرام کیا گیا کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں، یہ ان کی ذاتی رائے ہے، اللہ تعالی اور اس کے رسول نے گھریلو گدھوں کے گندہ ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7342
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قُلْتُ لِأَبِي الشَّعْثَاءِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ وَقَرَأَ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ [الأنعام: 145] يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ يَعْنِي يَقُولُ أَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا الْبَحْرُ بْنُ عَبَّاسٍ
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے ابو شعثاء سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا اے عمرو! اس سے علم کے سمندر سیدنا ابن عباس انکار کرتے ہیں اور انھوں نے یہ آیت پڑھی: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ} … کہہ دو میں جوکھانے والے پرکھانا حرام پاتا ہوں، وہ صرف مردار، بہایا ہوا خون، یا خنزیر کا گوشت ہے۔ اس کا علم کے سمندر نے انکار کیا ہے کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی تائید حکم بن عمرو غفاری نے بھی کی ہے کہ عباس کے بیٹے علم کے سمندر نے گدھے کے گوشت کوحرام قرار نہیں دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7342]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18016»
وضاحت: فوائد: … جس چیز کا حرام ہونا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہو گا، اس کو اس حدیث میں مذکورہ آیت کی روشنی میں حلال ہی سمجھا جائے گا، چونکہ بہت ساری احادیث میں گدھے کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے گدھا حرام ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهِرُ وَكُلٌّ ذِي نَابِ مِنَ السَّبُعِ وَكَلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ
بلی، کچلی والے جانوروں اور ذِی مِخْلَب پرندوں کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7343
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهِرُّ سَبُعٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بِلّا بھی درندوں میں شامل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7343]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عيسي بن المسيب، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 32، والدارقطني: 1/ 63، والحاكم: 1/ 183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9706»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عيسي بن المسيب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7344
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر اس پرندے سے منع کیا ہے، جو پنجے سے شکارکرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7344]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، حسن بن ذكوان ضعيف، وھو لم يسمع من حبيب بن ابي ثابت، بينھما عمرو بن خالد القرشي المتھم بالكذب، أخرجه الدارقطني: 2/ 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1254»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7345
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی والا درندہ ہے اور اسے کھانا حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7345]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7223»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ کچلی والے درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے حرام ہے، بلی بھی کچلی والا جانور ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1933
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب مَا جَاءَ فِي الْمَيْتَةِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ
مرد اور خنزیر کے گوشت کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7346
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ جَمَلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کوحرام قرار دیا ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے، کیونکہ اس کے ساتھ کشتیوں اور چمڑوں کو وارنش کیا جاتا ہے اور لوگ چراغوں میں بھی اس کو جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھا گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2236، 4296، 4633، ومسلم: 1581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14526»
وضاحت: فوائد: … مردار اور خنزیر کا حکم واضح ہے، دونوں حرام ہیں اور جو چیز حرام ہوتی ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2236
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب الرُّحْصَةِ فِي أَكْلِ الْمَيِّنَةِ لِلْمُضْطِرُ
مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7347
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ قَالَ فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ لِغَيْرِهِمْ فَرَخَّصَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا قَالَ فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ أَوْ سَنَتِهِمْ وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا قَالَ لَا قَالَ اذْهَبْ فَكُلْهَا
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں حرّہ مقام پر ایک گھر کے لوگ تھے، وہ بڑے محتاج تھے، ان کی یا کسی اور کی ایک اونٹنی مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ مردار کھانے کی رخصت دے دی، اس سے ان کا باقی موسم سرما یا قحط سالی محفوظ ہو گئی۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹنی کے مالک سے پوچھا: کیا تیرے پاس اس مردار کے لیے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اس کو کھا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7347]
تخریج الحدیث: «حسن الاسناد، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21100»

الحكم على الحديث:
حسن الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7348
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ وَالِدِهِ بِالْحَرَّةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنَّ نَاقَةً لِي ذَهَبَتْ فَإِنْ أَصَبْتَهَا فَأَمْسِكْهَا فَوَجَدَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا حَتَّى مَرِضَتْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ انْحَرْهَا حَتَّى نَأْكُلَهَا فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى نَفَقَتْ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ لَحْمَهَا وَشَحْمَهَا قَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُغْنِيكَ عَنْهَا قَالَ لَا قَالَ كُلْهَا فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ هَلَّا نَحَرْتَهَا قَالَ اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی حرہ زمین میں اپنے والد کے ساتھ رہتا تھا، اس سے ایک آدمی نے کہا: میری اونٹنی کہیں چلی گئی ہے، جب تو اسے پا لے تو اپنے پاس روک لینا، وہ اونٹنی تو واقعی اس نے پا لی، مگر اس کا مالک نہ آیا، یہاں تک وہ اونٹنی بیمار پڑ گئی، اس آدمی سے اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر لو تاکہ ہم اس کو کھا لیں، لیکن اس آدمی نے ایسا نہ کیا، حتیٰ کہ وہ خود مر گئی، اس کی بیوی نے کہا: اب اس کی کھال اتارو، ہم اس کے گوشت اور چربی کے ٹکڑے اور پارچے کرتے ہیں اور کھاتے ہیں، اس آدمی نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، جب تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی چیز اس مردہ اونٹنی کے علاوہ ہے، جو کھانے میں تجھے کفایت کرے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کھا لو۔ بعد میں جب اس اونٹنی کا مالک آیا تو اس نے اس آدمی سے کہا: تونے اسے ذبح کیوں نہیں کر لیا تھا، اس نے کہا:بس مجھے تجھ سے شرم آئی تھی (کہ اجازت کے بغیر کیسے ذبح کروں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7348]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21209»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21209
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7349
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ قَالَ إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا وَلَمْ تَغْتَبِقُوا وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا
۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ وہاں بھوک کا غلبہ رہتا ہے، ہمارے لیے مردار میں سے کیا کیا حلال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نہ تمہیں صبح کو کچھ کھانے کو ملے،نہ شام کو کچھ ملے اور نہ تمہیں کوئی ترکاری ملے تو پھر تم مردار کھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7349]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، أخرجه البيھقي: 9/ 356، والدارمي: 1996، والحاكم: 4/ 125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22243»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیَتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … تم پر مردہ اور (بہایا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوادوسروں کا نام پکارا گیا ہو، حرام ہے، پھر جو مجبور ہو جائے، اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ تعالی بہت بخشش کرنے والا بہت مہربان ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۳)

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں