🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ سَفْيِ الْمَاءِ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ ما فَضَلَ مِنْهُ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7434
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ قَالَ فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں وفات پا گئیں اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں وفات پا چکی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی سے سیراب کرنا افضل صدقہ ہے۔ پس انہوں نے ایک کنواں کھدوا دیا، جو مدینہ میں آل سعد کے نام سے مشہور تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7434]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير صحابيه سعد بن عبادة، أخرجه النسائي: 6/255، وابن ماجه: 3684، وأخرجه دون قصة ام سعد ابوداود: 1680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24346»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7435
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَنْزِعُ فِي حَوْضِي حَتَّى إِذَا مَلَأْتُهُ لِأَهْلِي وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِيرُ لِغَيْرِي فَسَقَيْتُهُ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا:میں پانی کھینچ کر اپنے حوض میں ڈالتا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اس کو بھرتا ہوں، لیکن کسی دوسرے کے اونٹ آتے ہیں اور میں انہیں پلا دیتا ہوں، کیا مجھے اس کا اجر و ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک جگر والے یعنی ہر جاندار کو پانی پلانے کا اجر ملتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7435]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7075»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7436
أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ) حَرَّاءَ أَجْرٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات پوچھنے شروع کئے، یہاں تک کہ مجھے اب یاد نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کیا پوچھتا رہا، ایک نے کہا: کوئی سوال تو یاد کرو اور ہمیں بتاؤ، انھوں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک گم شدہ جانور میرے اُس حوض پر آتا ہے، جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھر رکھا ہوتا ہے، اگر میں اسے پانی سے سیراب کرتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر پیاس سے جلنے والے جگر کی پیاس بجھانے سے اجر ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7436]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17730»
وضاحت: فوائد: … انسان توبہت اعلیٰ ہے، اسے سیراب کرنا تو مغفرت اور اجر کا باعث ہے ہی، لیکن یہ مغفرت اور اجر اور ثواب حیوانوں سے حسن سلوک کرتے ہوئے انہیں پانی پلائیں تو تب بھی حاصل ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7437
عَنْ بُهَيْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمِلْحُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَفْعَلِ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ
۔ بہیسہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میرے باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے اور ساتھ چمٹ گئے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا جائز نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمک ہے۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو بھلائی والا کام کرے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات تو پانی اور نمک تک محدود رہی، لیکن اس کے بعد وہ آدمی کبھی کسی چیز کو دینے سے انکار نہ کرتا تھا، اگرچہ وہ معمولی سی بھی ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7437]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مسلسل بالمجاھيل، سيار بن منظور مجھول، وابوه لايعرف، وبھيسة الفزارية لا تعرف، وقد وقع الاضطراب في اسناد ھذا الحديث، أخرجه ابوداود: 1669، 3476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16043»
وضاحت: فوائد: … یہ پانی وغیرہ اشیاء اگر ضرورت کے مطابق ہوں، تو روکنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر ضرورت سے زائد ہوں تو ان کو روکنا منع ہے، ضرورت مند کو دینی چاہئیں، اس سے بہت بڑا اجر حاصل ہوتاہے، باقی کسی بھی ضرورت مند کی مقدور بھر ضرورت پوری کرنا خیر ہے اور خیر میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7438
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَاءِهِ أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زائد پانی اور زائد گھاس روکے گا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس سے اپنا فضل روک لے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7438]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6673»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ مطہرہ میں اجتماعی فائدے کو سامنے رکھا جاتا ہے، نہ کہ فردِ واحد کے فائدے کو۔ اس حدیث میں یہی قانون بیان کیا گیا ہے۔ پانی اور گھاس اللہ تعالی کے ایسے عطیے ہیں، کہ جن کے حصول میں کسی کی قابلیت کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا سب لوگوں کو ان کے استعمال کا حق حاصل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ أَحَبِّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا جَاءَ فِي تَحْمِيرِ الْإِناءِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7439
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7439]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24601»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7440
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیوت سقیا ء سے پینے کے لیے پانی لایاجاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7440]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 3735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25200»
وضاحت: فوائد: … بیوت سقیاء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے، یہ ایک میٹھا چشمہ تھا، مدینہ کے اکثر کنوئوں کا پانی کڑوا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھا پانی پسند فرماتے تھے، اس لیے وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7441
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ قَالَ الْحُلْوُّ الْبَارِدُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا مشروب زیادہ پسندیدہ اور لذیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو میٹھا اور ٹھنڈاہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7441]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3129»
وضاحت: فوائد: … ہر انسان طبعی طور پر میٹھی اور ٹھنڈی چیز کو پسند کرتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ کر اورمشکوں کے منہ باندھ کر رکھا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں ایک وبا اترتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں داخل ہو جاتی ہے، جو ڈھانپا ہوا نہ ہو اور ہر اس مشک میں اتر جاتی ہے جس کامنہ نہ باندھا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7442]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14889»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں حکم کی ایک وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے، برتن اور مشکیزے کو نہ ڈھانپنے کے مزید نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، مثلا کسی زہریلے جانور سے متاثر ہو جانا، کوئی چیز گرنے سے پانی اور مشروب کا خراب ہو جانا، وغیرہ وغیرہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7443
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے ایک دن سیدنا ابو حمید انصاری رضی اللہ عنہ دودھ کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اسے ڈھانپ لینا تھا، اگرچہ اس پر کوئی لکڑی رکھ کر ہی ڈھانپ لیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7443]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5605، ومسلم: 2011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14183»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں