الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي ذَلِكَ
کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 7464
عَنِ الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُسْلِمٍ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَهِيَ مُنَاخَةٌ وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا أَوْ زِمَامِهَا وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَامُوا حَوْلَهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ عَنْ يَمِينِهِ فَشَرِبَ قَائِمًا حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا
۔ مسلم (تابعی) نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ نے سواری کا گھٹنا باندھا اور اسے بٹھا دیا اور میں اس سواری کی لگام تھامے تھا اور میں نے سواری کی اگلی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھا ہوا تھا، قریش کے کچھ افراد آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر ہی تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اسے پکڑا دیا جو دائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھڑے ہو کر پیا تھا اور ساری قوم نے بھی کھڑے ہو کر پیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7464]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الصلب بن غالب الھجيمي ومسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7524»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۷۳۹۲)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الصلب بن غالب الھجيمي ومسلم
7. باب النهي عن الشرْبِ مِنْ فِي السَّقَاءِ وَاخْتِنَافِ الاسْقِيةِ
مشک سے منہ لگاکر پانی پینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7465
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا ہے اور اس جانور کا گوشت کھانے سے بھی منع کیا ہے، جسے نشانہ بنا کر مار دیا گیا ہو اور جلالہ کے دودھ سے بھی منع کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7465]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3786، والنسائي: 7/ 240، والترمذي: 1825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2671»
وضاحت: فوائد: … جلالہ کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۳۳۵)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
حدیث نمبر: 7466
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ قَالَ أَيُّوبُ أَحَدُ الرُّوَاةِ فَأُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا ہے۔ ایوب راوی کہتے ہیں: مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ایک آدمی نے مشک کے منہ سے پانی پیا تھا تو اس سے سانپ نکل آیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7466]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5628 ولم يذكر قول ايوب، واسناد ھذا القول صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10325»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5628 ولم يذكر قول ايوب
حدیث نمبر: 7467
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشک کے منہ کو اوپر کی طرف سے موڑ کر اندر کی جانب سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7467]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11040»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نَھٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ یُشْرَبَ مِنْ فِی السِّقَائِ، لِأَنَّ ذٰلِکَ یُنْتِنُہُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا، کیونکہ اس سے وہ بدبودار ہو جاتا ہے۔ (حاکم: ۴/۱۴۰، صحیحہ:۴۰۰)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2023
8. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي ذَلِكَ
مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کی اجازت کی دلیل
حدیث نمبر: 7468
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاخْتَنَثَهَا وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کی ایک خاتون کے گھر داخل ہوئے، اس کے گھر میں لٹکی ہوئی ایک مشک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا منہ الٹایا اور کھڑے کھڑے اس سے پانی پی لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7468]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25793»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7469
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَفِي بَيْتِهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ قَالَتْ فَشَرِبَ مِنَ الْقِرْبَةِ قَائِمًا قَالَتْ فَعَمَدْتُ إِلَى فَمِ الْقِرْبَةِ فَقَطَعْتُهَا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری ماں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے، گھر میں ایک مشک لٹک رہی تھی، آپ نے اس سے کھڑے کھڑے پانی پی لیا، میں نے اس مشک کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7469]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة البراء بن زيد، ثم ان عبد الكريم لم يسمع منه فيما قال علي بن المديني، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27656»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة البراء بن زيد
9. بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّنَفْسِ فِي الْإِنَاءِ وَالنَّفْخِ فِيهِ
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
حدیث نمبر: 7470
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7470]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3728، وابن ماجه: 3429، والترمذي: 1888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1907»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
حدیث نمبر: 7471
عَنِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا
۔ ابن مثنی کہتے ہیں: میں مروان کے پاس تھا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے (کے برتن) میں سانس لینے سے منع فرمایا ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور ایک آدمی نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! میں تو ایک سانس کے دوران پیے جانے والے پانی سے سیراب نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر پیالے کو منہ سے دور کر کے سانس لے لیا کرو (اور پھر پی لیا کرو)۔ اس نے کہا: اگر مجھے اس میں کوئی تنکا نظر آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے بہا دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7471]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 1887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11221»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7472
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا بَالَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو برتن میں سانس نہ لے،جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو آلۂ تناسل کودائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7472]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23032»
وضاحت: فوائد: … کھانے پینے کے برتن میں یا کھانے پینے والی چیز پر پھونک مارنا منع ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۷۴۰۸)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 267
10. بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّنَفُسِ ثَلَاثًا فِي الشُّرْبِ خَارِجَ الإناء
پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 7473
عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی والے برتن میں تین سانس لے کر پانی پیتے تھے اور سیدنا انس بھی تین سانس میں پانی پیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12157»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5631