الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّنَفُسِ ثَلَاثًا فِي الشُّرْبِ خَارِجَ الإناء
پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 7474
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ هَذَا أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پیتے تو (پانی کے دوران) تین سانس لیتے اور فرماتے تھے: یہ انداز زیادہ مزیدار، خوشگوار اور صحت یاب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7474]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، وأخرجه البخاري دون المرفوع القولي، وھو حديث صحيح ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12953»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7475
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی پیتے تو دو سانس لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7475]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سعيد بن محمد الوراق ورشدين بن كريم، وعندھما مناكير، أخرجه ابن ماجه: 3417، والترمذي: 1886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2571»
وضاحت: فوائد: … افضل اور مستحب یہی ہے کہ پانی پینے کے دوران تین سانس لیے جائیں، البتہ حدیث نمبر (۷۴۷۱) سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہے کہ ایک سانس میں پانی پینا بھی جائز ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّرْبِ كَرْعًا
منہ لگا کر پانی پینے کا حکم
حدیث نمبر: 7476
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا الْكَرْعَ وَلَكِنْ لِيَشْرَبَ أَحَدُكُمْ فِي كَفَّيْهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنی ہتھیلیوں کے ذریعے پانی پیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7476]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن ابن عمر، أخرجه عبد الرزاق: 19596، والبيھقي في الشعب: 6029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6217»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے اور درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ منہ لگا کر پانی پی لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7477
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس داخل ہوئے، آپ کے ساتھ ایک صحابی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے پاس وہ پانی ہے، جو مشک میں رات رہا ہو، تو وہ لے آؤ، وگرنہ ہم منہ لگا کر ہی پی لیں گے۔ وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگا رہا تھا، اس نے کہا: جی میرے پاس وہ پانی ہے، جو رات مشک میں پڑا رہا ہے، وہ دونوں کو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی کو ایک چھپر کے نیچے لے گیا اور ایک پیالہ میں پانی ڈالا اور اس میں پالتو بکری سے دودھ دوہ کر ملایا اور پیش کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا بعد میں اس آدمی نے پیا جو آپ کے ساتھ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5613، 5621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14573»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ منہ لگا کر پانی پی لینا درست ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّبَنِ وَشُرْبِهِ وَحُلْبِهِ وَغَيْرِهِ ذَلِكَ الأَنبدَةُ الْجَائِرَةُ وَالْمُحَرَّمة
دودھ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 7478
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِاللَّبَنِ قَالَ كَمْ فِي الْبَيْتِ بَرَكَةً أَوْ بَرَكَتَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: (دودھ کی وجہ سے) گھر میں کتنی برکت ہے یا دو برکتیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7478]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام سالم الراسبية مجھولة، أخرجه ابن ماجه: 3321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25637»
وضاحت: فوائد: … دودھ اس وجہ سے برکت والا قرار دیا گیا ہے کہ یہ کھانے اور پانی دونوں کی جگہ کفایت کر جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7479
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي ثُمَّ قَالَ مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُعَاوِيَةُ كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے باپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک پینے کی چیز لائی گئی، سیدنا معاویہ نے وہ پی اور میرے ابا جان کو پکڑا دی، میرے ابا جان نے کہا: اسے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، میں نے تو اپنی جوانی میں اس جیسی لذت کسی اورچیز میں نہیں پائی،البتہ دودھ میں اس سے زیادہ لذت ہے یا وہ انسان بھی بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھی بات کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7479]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23329»
وضاحت: فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ دودھ ایک لذت انگیز اور برکت آمیز غذا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7480
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، میں وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو دوہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7480]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال يعقوب بن بحير، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 4/ 339، والطبراني في الكبير: 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16824»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7481
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلالہ بکری کادودھ پینے سے اور باندھ کرنشانہ بنائے گئے جانور کاگوشت کھانے سے اور مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7481]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3786، والنسائي: 7/ 240، والترمذي: 1825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1989»
وضاحت: فوائد: … پہلے اس حدیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذلِكَ وَكَيْفَ كَانَ يُنبدُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيده
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
حدیث نمبر: 7482
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بنایا کرتے تھے، ہم ایک مٹھی بھر منقّی یا کھجور مشک میں ڈال کر اس میں پانی ڈالتے، رات کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو پی لیتے اور دن کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو پی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7482]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3398، وأخرجه بنحوه مسلم: 2005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24702»
وضاحت: فوائد: … پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، لیکن جب ایسا مشروب جوش مارنے لگے یا اس سے خمیر اٹھنے لگے تو اس کا استعمال ناجائز ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ شراب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7483
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ فَقِيلَ لَهَا أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ قَالَتْ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں صبح نبیذ بناتے تھے، ہم اسے ڈھانپتے نہ تھے اور نہ ہی ہم اس میں تلچھٹ باقی رہنے دیتے تھے، جب شام ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کا کھانا کھا لیتے تو پھر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ بچ جاتی میں اسے بہا دیتی اور مشک کو دھو دیتی، پھر ہم عشاء کے وقت نبیذ بناتے تھے، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کاکھانا کھا کر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ میں سے کچھ بچ جاتا تو میں اسے بہا دیتی پھر برتن دھویا جاتا۔ مقاتل سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں مشک دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7483]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25443»
الحكم على الحديث: صحیح