🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ أَحَبِّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا جَاءَ فِي تَحْمِيرِ الْإِناءِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7444
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ بِمُخَمَّرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّا قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نقیع مقام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دودھ کا پیالہ لائے، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لاتا۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ مشکوں کے منہ پر تسمہ باندھا جائے اور رات کے وقت دروازے بند رکھے جائیں، زکریا راوی نے رات کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7444]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24007»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2010
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7445
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقَى مَاءً فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ بَلَى قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا ثُمَّ شَرِبَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے پانی طلب کیا، ایک آدمی نے کہا: جی میں آپ کو نبیذ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں۔ وہ دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا، اس میں نبیذ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پی لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7445]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5605، ومسلم: 2011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14420»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5605
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7446
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أُوكِيَ عَلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف ان مشکوں سے پیو، جن کے منہ باندھے گئے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7446]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24937»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں برتن ڈھانپنے کی خصوصی تربیت کی گئی ہے اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ شیطان سے حفاظت رہتی ہے، کیونکہ شیطان ڈھانکا ہوا برتن نہیں کھولتا، دوسرا یہ ہے کہ اس طرح وباء سے حفاظت رہتی ہے، تیسرا فائدہ یہ ہے کہ نجاست اور گندگی سے حفاظت رہتی ہے، چوتھا فائدہ ہے کہ کیڑے مکوڑوں سے حفاظت رہتی ہے، بعض اوقات کوئی زہریلی چیز پانی میں گر جاتی ہے، جس سے پانی متاثر ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْمُؤْمِنِ يَشْرَبُ فِي مِعَى وَاحِدٍ
مومن کم پیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7447
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ الْكَافِرُ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کافر مہمان کی میزبانی کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کا دودھ دوہاجائے، پس اس کا دودھ دوہا گیا، اس کافر نے اس کا دوہا ہوا سارا دودھ پی لیا،پھر دوسری کا بھی پی گیا، پھر تیسری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، تو اس نے ایک بکری کا دوہا ہوا دودھ پی لیا،پھر آپ نے دوسری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، پس وہ دوسری بکری کا دودھ پورا نہ پی سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے اور کافر سات انتڑیوں میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7447]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8866»
وضاحت: فوائد: … مراد یہ ہے کہ کافر زیادہ کھاتا ہے اور مومن کم، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن عبادت کے اسباب میں مصروف بھی رہتا ہے اور اس کے وجود کو عبادت کی وجہ سے بھی غذا ملتی ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ کھانے پینے کے معاملے میں گزارہ کیا جائے اور شہوات اور چسقوں کے پیچھے نہ پڑھا جائے، ان امور کی وجہ سے اس کا تھوڑی مقدار والا کھانا بابرکت ثابت ہوتا ہے، جبکہ کافر ان تمام امور سے عاری اور غافل ہوتا ہے، اس کا سب کچھ دنیا ہے، سو وہ اس کی لذتوں میں کھویا ہوا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2063
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ تَرْتِيبِ الشَّارِبِينَ وَالْبَدَانَةِ بِأَفْضَلِ الْقَوْمِ ثُمَّ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَإِن سَافِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7448
عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ نَاحِيَةً فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو میری عمر دس برس تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا، میری ماں اور خالائیں مجھے آپ کی خدمت پر ترغیب دلاتی رہتی تھیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھروالے کنوئیں سے اس میں پانی ملایا، ایک دیہاتی آپ کی دائیں جانب تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دودھ پیا، سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بقیہ دودھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو پکڑا دیا اور فرمایا: دائیں جانب والے مقدم ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2352، ومسلم: 2029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12101»
وضاحت: فوائد: … دوسروں کو کوئی چیز دیتے وقت دائیں طرف والوں کو مقدم کیا جائے۔ ہاں اگر کوئی آدمی بائیں طرف والوں کو پہلے پلانا چاہے تو دائیں طرف والوں سے اجازت طلب کرے۔ جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے کہا: کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان بزرگوں کو پہلے دے دوں؟ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7449
عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّرَبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتُ بِهَا خَالِدًا قَالَ مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیااور مجھ سے فرمایا: پانی پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن اگر تمہاری مرضی ہو تو میں پہلے خالد کو دے دوں؟ میں کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پس آپ نے برتن مجھے تھما دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7449]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، والترمذي: 3455، وأخرج بنحوه ابن ماجه: 3426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)1904۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1904»
وضاحت: فوائد: … غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اوربائیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی فیصلہ یہ تھا کہ پہلے خالد بن ولید کو مشروب پلایا جائے، لیکن وہ بائیں جانب بیٹھے تھے، اس لیے ابن عباس سے اجازت طلب کی، جب انھوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرعی فیصلے کو ترجیح دی اور مشروب عبد اللہ بن عباس کو تھما دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ صرف تقسیم کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائیں جانب کو مقدم کرے، بلکہ یہ دائیں طرف بیٹھنے والوں کا حق ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7450
عَنْ سَعْدِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
۔ سیدنا سعد بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بزرگ تھے اور دائیں جانب ایک بچہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے فرمایا: کیا تو مجھے اجازت دے گا کہ میں ان بزرگوں کو یہ پانی دے دوں؟ لیکن اس بچے نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے نصیب پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی والا برتن اس بچے کے ہاتھ میں دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7450]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2451، 2602، ومسلم: 2030، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23212»
وضاحت: فوائد: … ان احادیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کھانے پینے کی یا اس کے علاوہ بھی کوئی چیز ہو تو دائیں جانب سے دینے کا آغاز کیا جائے یا پھر دائیں جانب والے سے اجازت لے لی جائے اگر وہ اجازت دے تو پھر دوسری جانب والے میں سے اجازت شدہ کو دینی جائز ہے، اگر اجازت نہ دے تو پھرجائز نہیں اگرچہ دائیں جانب والا کم درجہ یاچھوٹا ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2451
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7451
عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ قَالَ فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، پانی موجود نہ تھا، پھر اچانک ہمیں پانی مل گیا، لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی پلانا شروع کر دیا، جب بھی وہ آپ کے پاس پانی لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار دہرائی، یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پیا تو تب آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7451]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المختار الاسدي مجھول الحال، أخرجه ابوداود: 3725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19332»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ پانی پلانے والا پہلے سب کو پلا ئے گا، پھر آخر میں خود پئے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7452
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا يُقَلِّلُهُ وَطَبَخَتْ لَهُ وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورمیری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں اور کھانا تیار کیا، ہم نے ان کو پانی پلایا، یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا، میں ایک اور پیالہ لے آیا، میں پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیالہ اس تک لے جاؤ جو آخری ہے، (پھر خود پینا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7452]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن بسر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17828»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن بسر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ النَّهْي عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا
کھڑے ہو کر پانی پینا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7453
عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَشْرَبُ قَائِمًا فَقَالَ لَهُ قِهْ قَالَ لِمَهْ قَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ يَشْرَبَ مَعَكَ الْهِرُّ قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ شَرِبَ مَعَكَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ الشَّيْطَانُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کودیکھا کہ وہ کھڑا ہو کر پانی پی رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو قے کردے۔ اس نے کہا: کیوں؟ آپ نے اس سے فرمایا: کیا تجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ تیرے ساتھ بلّا پانی پیے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تیرے ساتھ اس نے پانی پیا ہے، جو اس بلے سے بھی بدتر ہے، اور وہ ہے شیطان۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7453]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في سلسلته الصحيحة، أخرجه الدارمي: 2128، والبزار: 2896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7990»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں