🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذلِكَ وَكَيْفَ كَانَ يُنبدُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيده
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7484
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ يُنْقَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ قَالَ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهْرَاقُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منقّی ملا کر پانی بنایا جاتا تھا، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن کی شام تک پیتے، اس کے بعد اس کے بارے میں حکم دیا جاتا کہ وہ کسی کو پلا دیا جائے یا پھر بہا دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7484]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1963»
وضاحت: فوائد: … اس روایت میں تین دن تک نبیذ کو استعمال کرنے کا ذکر ہے، جبکہ سابق روایات میں ایک دن بھی مکمل نہیں ہونے دیا گیا، اس کے تین جوابات ہیں:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7485
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ
۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے ایک آدمی نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبیذ کے متعلق بتائیں، انہوں نے کہا: جو نبیذ رات کو بنایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دن میں پی لیتے اور جو دن کو بنایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ رات کو پی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7485]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حسين بن عبد الله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2606»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حسين بن عبد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7486
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى سُفْيَانَ أَنِّي سَأَلْتُهُ أَوْ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ كُلْ تَمْرًا وَاشْرَبْ مَاءً يَصِيرُ فِي بَطْنِكَ نَبِيذًا
۔ ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: میں سفیان کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے سوال کیا یا ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا گیا، انہوں نے کہا: کھجور کھا لو اور بعد میں پانی پی لو، تمہارے پیٹ میں نبیذ بن جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7486]
تخریج الحدیث: «، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10756»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7487
عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَتْ حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَ لَهَا إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ فَقُلْنَا سَلْنَ فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا ثُمَّ تَدْلُكَهُ ثُمَّ تُصَفِّيَهُ فَتَجْعَلَهُ فِي سِقَائِهَا وَتُوكِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا
۔ صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں: ہم نے حج کیا، پھر ہم مدینہ واپس لوٹیں اورہم ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ہم نے ان کے پاس کوفہ کی رہنے والی عورتیں موجود پائیں، انہوں نے ہم سے کہا: اگر چاہو تو تم سوال کرو، ہم سنتی ہیں اور اگر چاہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم سنو، ہم نے کہا: تم سوال کرو، انہوں نے میاں بیوی اور حیض کے متعلقہ کچھ امور دریافت کئے اور پھر انہوں نے مٹکے (اور گھڑے وغیرہ) میں بنائے جانے والے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا،سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عراق والیو! تم نے مٹکے کے نبیذ کے بارے میں بہت زیادہ تکرار کیا ہے، اس میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھجور پکا لو، پھر اسے ہاتھ سے مل دو اور صاف کرکے اسے مشک میں رکھ لو اور پھر اس کا تسمہ بند کر دو اور جب وہ خوشگوار ہو جائے تو اسے پی لو اور اپنے خاوند کو بھی پلاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7487]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة صھيرة بنت جَيْفَر، دون قوله: حرم رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم نبيذ الجر فصحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27402»
وضاحت: فوائد: … اَلْجَرّ سے مراد وہ برتن ہے، جس کو مٹی اور پانی سے بنایا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة صھيرة بنت جَيْفَر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7488
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَمَا نَصْنَعُ بِهَا قَالَ تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا قَالَ فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا قَالَ تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ قُلْتُ حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ
۔ سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم انگوروں کے مالک ہیں، اب شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے، اب ہم انگوروں کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا منقّی تیار کر لیا کرو۔ اس نے کہا: پھر ہم منقی کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے صبح پانی میں ڈالو اورشام کے کھانے کے ساتھ پیو اور شام کو پانی میں ڈالو اور صبح کو پی لو۔ میں نے کہا: آپ کو معلوم ہے ہم جس قوم سے ہیں، ان میں سے ہم ہی ایمان لائے ہیں، ہماری قوم ایمان نہیں لائی، نیز آپ جانتے ہیں کہ ہم کافر قوم کے درمیان رہتے ہیں، اب ہمارا ولی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہی کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7488]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3710، والنسائي: 8/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18206»
وضاحت: فوائد: … نبیذ جائز ہے، لیکن یہ توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس کو اتنی دیر نہ رکھا جائے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شبہے سے بچنے کے لیے نبیذ کو ضائع کروا دیا کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَبِيْد السَّقَايَةِ وَشُرب النَّبِيِّ مِنْهُ صلى الله عليه وسلم استحسانه
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7489
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورسیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے آپ کو مشک میں بنا ہوا نبیذ پلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور فرمایا: بہت اچھا ہے، نبیذ اس طرح بنایا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2543، والطبراني: 12934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2655»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7490
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بنایا جاتا تھا، جب مشک میسر نہ ہوتی تو پتھر کے ایک برتن میں نبیذ بنایا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنائے ہوئے برتن، تنا کرید کر بنائے ہوئے برتن، مٹکوں میں اور تارکول والے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7490]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 310، وأخرج الشطر الاول منه مسلم: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14317»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار قسم کے برتنوں سے عارضی طور پر منع کیا تھا، پھر ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7491
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ أَسُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَمْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّبَنِ وَالْعَسَلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا قَالَ اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا
۔ حسین بن عبد اللہ اور داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس دونوں کمی بیشی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آواز دی اور ان کے ارد گرد لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: یہ نبیذ استعمال کرکے تم سنت پر عمل کے آرزو مند ہو یا یہ دودھ اور شہد کی بہ نسبت اسے استعمال کرنے میں آسانی سمجھتے ہو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس کے ہاں آئے اور فرمایا: مجھے کچھ پلاؤ۔ انہوں نے کہا: نبیذ توبنایا گیا ہے، لیکن اسے انگلیوں سے ملا گیا ہے اور میل کچیل والا سا ہے، کیا ہم آپ کودودھ یا شہد نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی کچھ پلا دو، جو تم لوگوں کو پلا رہے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجر ین و انصار میں سے بعض لوگ بھی موجود تھے، دو مشکیں نبیذ کی لائی گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کے دوران جلدی سے اپنا سر اقدس اوپر اٹھایا اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، اس طرح بنایا کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی کااظہار مجھے اس سے زیادہ اچھا لگتا ہے کہ دودھ اور شہد سے یہ گھاٹیاں بہنے لگیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2944»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ جائز اور حلال ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب ما لا يجوز من الأَنْبِدَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَبِيدِ الْجَر
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7492
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ فَقَالَ مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ قَالَ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟ میں نے کہا: وہ بتع اور مزر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پہچان نہ سکے کہ وہ کون کون سے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بتع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا: بتع مکئی کی نبیذ ہے، اس کو پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ بتع بن جاتی ہے اور شہد کی نبیذ کو مزر کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7492]
تخریج الحدیث: «قوله لاتشربن مسكرا صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام، أخرجه النسائي: 8/ 299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19827»

الحكم على الحديث:
قوله لاتشربن مسكرا صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7493
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
۔ (دوسری سن) سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری اورسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کی جانب نمائندے بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق سے چلنا اختلاف نہ کرنا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس میں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے،جسے بتع کہتے ہیں اور ایک جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7493]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6124، ومسلم: 1733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19980»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں نبیذ اور شراب کے بارے میں ایک جامع ضابطہ کی تعلیم دی گئی ہے کہ نبیذ اس وقت تک جائز ہے، جب تک وہ نشہ آور نہ بن جائے، جب اس میں نشہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حرام ہو جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6124
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں