الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
حدیث نمبر: 7514
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ مَا الْكُوبَةُ قَالَ الطَّبْلُ
۔ قیس بن حبتر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: اس کے متعلق سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبد القیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا: ہم آٹا یا ستو وغیرہ حاصل کرتے ہیں، اب ہم کون سی مشکوں میں نبیذ بنایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کدو کرید کر بنایا ہوا برتن، تار کول لگایا ہوا برتن، تنا کرید کر بنایا ہوا برتن اورمٹکا کو مشروب کے لیے استعمال نہ کرو، البتہ مشکوں میں بنایا ہوا نبیذ پیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا اور طبل بجانا حرام کیا ہے اورہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے پوچھا کہ طبل کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ڈھولک بجانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7514]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابودواد: 3696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2476»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7515
عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ فَقَالَ الْخَمْرُ حَرَامٌ قُلْتُ لَهُ الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِيشْ تُرِيدُ تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ قُلْتُ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ قَالَ قُلْتُ مَا الْمُزَفَّتُ قَالَ كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ
۔ فضیل بن زید رقاشی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ہم نے شراب کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: شراب حرام ہے، میں نے کہا: شراب حرام ہونے کا تو کتاب اللہ تعالیٰ میں بھی آتا ہے، انہوں نے کہا: پھر تم کیا پوچھنا چاہتے ہو، تم وہ سننا چاہتے ہو جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، تو پھر سنو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنائے ہوئے برتن، مٹکے اور تارکول لگائے ہوئے برتن کے استعمال سے منع کیا ہے۔ میں نے کہا: حَنْتَم کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ہر سبز اور سفید مٹکا، میں نے کہا: مُزَفّت کیا ہے، انھوں نے کہا: ہر وہ مشک، جس پر تارکول ملا گیا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7515]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه والطبراني في الكبير و الاوسط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16918»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7516
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مٹکے میں سے، کدو سے تیار شدہ برتن میں سے اور تار کول لگے ہوئے برتن میں سے مشروب نہ پیو، مشک سے پی لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7516]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2768»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7517
عَنْ أَبِي الْحَكَمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَقَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ قَالَ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْجَرِّ قَالَ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ وَحَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
۔ ابو حکم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مٹکے میں بنائے گئے نبیذ کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے میں بنائے گئے اورکدو سے تیارشدہ برتن میں بنائے گئے نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے اور جسے یہ بات اچھی لگے کہ وہ اس چیز کو حرام قرار دے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حرام قرار دی ہے تو وہ نبیذ کو بھی حرام قرار دے، یہ ابو حکم کہتے ہیں: میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بھی دریافت کیا تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے تیارشدہ برتن اور مٹکے میں سے نبیذ پینے سے منع کیا ہے، کہتے ہیں: پھر میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا، انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے تیار شدہ برتن اور تارکول سے تیار شدہ برتن کے استعمال سے منع کیا ہے اور کہتے ہیں: میرے بھائی نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے اور کدو سے تیار شدہ برتن کو اورتار کول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، کچی کھجور اور پختہ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7517]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، حديث ابي سعيد أخرجه النسائي: 8/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 185»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7518
عَنْ أَبِي حَاضِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ
۔ ابو حاضر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مٹکے میں نبیذ بنانے کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، اب وہ آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس گیا، جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا تھا، وہ ان سے بیان کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہماکہتے ہیں: انہوں نے درست کہا ہے، آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا کہ کون سا مٹکا ہے، جس کے استعمال کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیاہے؟ انھوں نے کہا: ہروہ مٹکا جو مٹی سے بنایا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7518]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3257»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7519
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ قَالَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ وَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَلَا تَنْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے تیار شدہ برتن، مٹکے،تنے کو کرید کر بنائے گئے برتن اورتار کول لگائے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا ہے، اور کچی کھجور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے، سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی سبز مٹکے میں نبیذ بناتا ہے اوروہ شیشی کی مانند صاف ہے اور اسے رات کو پیتا ہے، کیا یہ جائز نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جس سے تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، کیا تم اس سے باز نہیں آؤ گے؟ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7519]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرج المرفوع منه مسلم: 1995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2771»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7520
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنے سے کرید کر تیار شدہ برتن، کدو سے تیار شدہ برتن اور تارکول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس برتن سے پیو، جس پر تسمہ باندھا ہوا ہو۔ لوگوں نے اونٹوں کی کھال سے مشکیں تیار کیں اور ان پر مشک کی گردن کے قریب بکریوں کے چمڑے لگا دیئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عمل کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف اس مشک سے پی سکتے ہو، جس کے اوپر والا حصہ بکری کے چمڑے کا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7520]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حسين بن عبد الله، أخرجه ابويعلي: 2730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2607»
وضاحت: فوائد: … چونکہ بکری کا چمڑا نرم ہوتا ہے، اس لیے جب نبیذ میں شدت پیدا ہوتی ہے تو یہ چمڑا پھول جاتا ہے اور پتہ چل جاتا ہے کہ نبیذ نشہ آور ہو گئی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ إِلَّا وِعَاءً يُوكَى رَأْسُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مگروہ برتن جائزہے جس کا سرا تسمہ سے باندھا گیا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7521]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9750»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7522
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لَيْسَ بِالْكُوفَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے تیار شدہ برتن اورتارکول لگے ہوئے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، ابو عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا کہ کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے زیادہ صحیح حدیث اور کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7522]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 4344، والطبراني في الاوسط: 1573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12737»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7523
كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ
۔ مالک بن عمیر کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھاہوا تھا، صعصعہ بن صوحان آئے، انھوں نے سلام کیا اور پھر وہ کھڑے ہو گئے اور کہا: اے امیر المومنین! ہمیں اس چیز سے منع کر دو، جس سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا ہے، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کدو سے تیار شدہ برتن، مٹکے اور تارکول لگے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7523]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3697، والنسائي: 8/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 963»
الحكم على الحديث: صحیح