🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. الرُّقَى وَالسَّمَائِمُ وَمَا يَجُوزُ مِنْهَا وَمَا لَا يَجُوزُ
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤جائز صورتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7710
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَدَغَنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَقَانِي وَمَسَحَهَا
۔ سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بچھو نے مجھے ڈس لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دم کیا اور ہاتھ پھیرا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7710]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 416، وابن حبان: 6093، والطبراني في الكبير: 8263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16407»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7711
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ وَفِي لَفْظٍ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5741، ومسلم: 2193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24519»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5741
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7712
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دم تو صرف نظر اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7712]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5705، ومسلم: 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20172»
وضاحت: فوائد: … ہر بیماری سے دم کرنا درست ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۷۷۰۸) اور اس باب کے شروع میں پیش کیا گیا کلام۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. فَضْلَ فِي رُقْيَةِ النُّمْلَةِ
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7713
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا شِفَاءُ وَفِي رِوَايَةٍ الشِّفَاءُ تَرْقِي مِنَ النَّمْلَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک عورت موجود تھی،اسے شفاء کہتے تھے، وہ پھوڑے پھنسی کا دم کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ دم حفصہ کو بھی سکھادو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7713]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، وانظر الحديث الآتي، أخرجه عبد الرزاق: 19768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26981»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7714
عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لِي أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ
۔ سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے شفاء! حفصہ کو پھوڑے پھنسی کا دم بھی سکھا دو، جس طرح تم نے ان کو کتابت کی تعلیم دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7714]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27635»
وضاحت: فوائد: … یہ شفاء قریشی خاتون تھی، ان کا نام لیلیٰ تھا، لیکن شفاء نام سے مشہور ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں دوپہر کے وقت آرام بھی کیا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کی رائے کو بہت ترجیح دیا کرتے تھے، یہ بڑی دانا عورت تھیں۔

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى
دم کے الفاظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7715
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِشِدَّةٍ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِئَ أَحْسَنَ بُرْءٍ فَقُلْتُ لَهُ دَخَلْتُ عَلَيْكَ غُدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ بِشِدَّةٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِئْتَ فَقَالَ يَا ابْنَ الصَّامِتِ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِئْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا قُلْتُ بَلَى قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ بِسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَيْنٍ وَاسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کے لئے حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت تکلیف تھی کہ اس کی شدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جب میں پچھلے پہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا تو آپ اچھی طرح تندرست ہوچکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: میں صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اس وقت تو آپ کو اتنی شدید تکلیف تھی کہ بس اللہ ہی جانتا تھا کہ وہ تکلیف کیسی تھی، اب میں آپ کے پاس پچھلے پہر حاضر ہوا ہوں تو آپ صحت یاب ہوچکے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صامت کے بیٹے! جبریل علیہ السلام نے مجھے دم کیا ہے، یہ ایسا دم تھا کہ میں صحت یاب ہوگیا ہوں، کیا میں تجھے وہ دم سکھا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دم کی تعلیم دی: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیکَ، مِنْ حَسَدِ کُلِّ حَاسِدٍ وَعَیْنٍ، بِسْمِ اللّٰہِ یَشْفِیکَ (اللہ کے نام کے ساتھ تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو تجھے ایذا پہنچائے اور ہرحسد والے کے حسد سے اور ہر آنکھ سے، اس اللہ کے نام کے ساتھ جو تجھے شفاء دیتا ہے۔)ایک روایت میں ہے: ہر حاسد کے حسدسے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں جو تجھے شفاء دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7715]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23139»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7716
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو سیدنا جبریل علیہ السلام آپ کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ، مِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ، وَمِنْ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، وہ تجھے ہر بیماری سے شفا دے، حسد کرنے والے کے شرّ سے، جب وہ حسد کرے اور ہر بری نظر والے سے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7716]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25786»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2185
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7717
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُقْيَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْقِيَ بِهَا مَنْ بَدَا لِي قَالَ قُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اللَّهُمَّ كَمَا أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ عَلَيْنَا فِي الْأَرْضِ اللَّهُمَّ رَبَّ الطَّيِّبِينَ اغْفِرْ لَنَا حَوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَكْوَى فَيَبْرَأُ قَالَ وَقُلْ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَعَوَّذْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دم سکھایا اور مجھے حکم دیا کہ میں جسے چاہوں یہ دم کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو رَبَّنَا اللّٰہُ الَّذِی فِی السَّمٰوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ اللّٰھُمَّ کَمَا أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ عَلَیْنَا فِی الْأَرْضِ اللّٰھُمَّ رَبَّ الطَّیِّبِینَ اغْفِرْ لَنَا حُوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَایَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَۃً مِنْ رَحْمَتِکَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِکَ عَلٰی مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَکْوٰی (اے ہمارے وہ رب جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین پر جاری ہے، اے اللہ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں ہے، اسی طرح زمین پر ہمارے اوپر اپنی رحمت کردے، اے اللہ! پاکبازوں کے رب! ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری خطائیں بخش دے، اپنی رحمت میں سے کچھ حصہ اور اپنی شفاء میں کچھ حصہ اس بیماری پر نازل فرما دے، جو فلاں کے ساتھ ہے۔ پس وہ شفایاب ہو جاتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دم تین مرتبہ کرنا ہے اور پھر تین بار سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7717]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم ولابھام الاشياخ الذين روي عنھم، أخرجه الحاكم: 4/ 218، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 1038، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24457»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم ولابھام الاشياخ الذين روي عنھم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7718
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے لئے بیماری سے پناہ مانگتے تویہ دعا پڑھتے: أَذْہِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تنگی دور کردے، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء صرف وہی ہے جو تو دے، ایسی شفاء دے کہ جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7718]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 565»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7719
عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ
۔ عبدالرحمن بن سائب، جو کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بھتیجے! کیا میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم کروں؟انھوں نے کہا: جی ضرور کریں، سیدہ نے اس طرح دم کیا: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیکَ أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتی ہیں، ہر اس بیماری سے، جو تیرے اندر ہے، اے لوگوں کے ربّ! تو بیماری کو دور کر دے اور تو شفا دے، تو ہی شافی ہے، بس کوئی شافی نہیں ہے، مگر تو ہی۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7719]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 10860، وابن حبان: 6095، والطبراني في الكبير: 23/ 1061، وفي الاوسط: 3318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27358»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں