🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى
دم کے الفاظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7720
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ يَقُولُ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض گھر والوں کو اس دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے: اَذْھِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! تنگی کو دور کردے اور شفاء دے، بے شک تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفا، مگر تیری، ایسی شفا دے، جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5743، 5750، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24677»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5743
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7721
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ وَفِي رِوَايَةٍ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کیا کرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: اِمْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا یَکْشِفُ الْکَرْبَ إِلَّا أَنْتَ (اے لوگوں کے ربّ! یہ تنگی دور کردے، شفاء صرف تیرے ہاتھ میں ہے، تکلیف کو تیرے سوا کوئی اور دور نہیں کرسکتا۔) ایک روایت میں ہے: بیماری کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہے، مگر تو ہی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24738»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24738
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7722
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کو دم کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ بِتُرْبَۃِ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا لِیُشْفٰی سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی کے ساتھ اور ہمارے ایک کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارے بیمار کو شفاء ہوئے، ہمارے رب کے حکم کے ساتھ۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5745، ومسلم: 2194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25124»
وضاحت: فوائد: … اس کا طریقہ یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنی انگشت شہادت پر تھوک لگا کر اس کو زمین سے مس کر مٹی لگا لے اور پھر اس انگلی کو زخم یا مریض پر پھیرے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی پڑھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5745
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي وَفِي رِوَايَةٍ يَعُودُنِي فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ قُلْتُ بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری تیمارداری کے لئے میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ دم کروں، جو جبریل علیہ السلام نے مجھے کیا تھا؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیوں نہیں، ضرور کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُؤْذِیْکَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ہر بیماری سے شفاء دے، جو تجھے تکلیف دیتی ہے اور جو تجھ میں موجود ہے اور ان کی برائی سے تجھے دم کرتا ہوں جو گرہوں میں جادو کی پھونکیں مارتی ہیں اور حسد کرنے والے کے حسد سے تجھے دم کرتا ہوں، جب وہ حسد کرنے لگے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7723]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذ اسناد ضعيف لضعف عصم بن عبيد الله العمري، وجھالة زياد بن ثويب، أخرجه ابن ماجه: 3524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9756»

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7724
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ تو انہوں نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَ عَیْنٍ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے اور ہر نفس اور نظر کے شرّ سے آپ کو شفاء دے، اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7724]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11555»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2186
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7725
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: ہم سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں بیمار ہوں، جواباً سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور کریں، انھوں نے کہا: تو پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے اللہ! جو لوگوں کا رب ہے! اے تکلیف دور کرنےوالے! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں کوئی شفاء دینے والا مگر تو ہی، شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7725]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12560»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7726
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَقَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ
۔ سیدنا محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین میں لے گئی، واپس آرہی تھی، جب مدینہ کا سفر ایک دورات کا باقی رہ گیا تو میں نے تیرے لئے کھانا پکایا، ایندھن ختم ہوا تو میں اس کی تلاش میں نکلی، اُدھر تو نے ہنڈیا پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ کر گر گئی اور بازہ جل گیا، میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ محمد بن حاطب ہے، اس کا بازو زخمی ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے منہ میں لعاب ڈالا اور تیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیرے لئے دعا کی اور تیرے ہاتھوں پر بھی تھوک کی پھوہار ڈالی اور فرمایا: أَذْہِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے تو ہی شافی ہے، نہیں ہے شفا، مگر وہ شفاء جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفاء عطاء کر جو بیماری نہ چھوڑے۔) میری ماں کہتی ہیں: میں ابھی آپ کے پاس سے تجھے لے کر کھڑی نہیں ہوئی تھی کہ تیرا ہاتھ درست ہوچکا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7726]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الرحمن بن عثمان بن ابراهيم ضعيف الحديث، أخرجه ابن حبان: 2977، والحاكم: 4/ 62، والطيالسي: 1194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15532»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7727
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي قَالَ وَكَانَ يَتْفُلُ
۔ (دوسری سند) سیدنا محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بازو پر ہنڈیا میں سے کوئی چیز گر گئی، میری ماں مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی (اس تکلیف کو دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلے ہوئے ہاتھ پر تھوک کی پھوہار سی ڈالتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7727]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15531»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7728
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے میری ماں وادی ٔ بطحاء میں موجود ایک آدمی کے پاس لے گئی، یہ مکہ کی ایک وادی ہے، اس آدمی نے کچھ پڑھا اور پھوہار سی مار کر دم کیا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا (جس نے مجھے دم کیا تھا)؟ انہوں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7728]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15533»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7729
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي كُلِّ مَسْحَةٍ) قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ
۔ سیدنا عثمان بن ابو عاص بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، مجھے اتنا شدید درد تھا کہ قریب تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس درد والی جگہ پر اپنا دایاں ہاتھ سات مرتبہ پھیرا اور ساتھ ہی ہر بار یہ دعا پڑھ: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں۔) میں نے ایسے ہی دم کیا اورمجھے جو تکلیف تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کردیا، پھر میں اپنے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کو ہمیشہ دم کا یہ طریقہ سکھلاتا رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7729]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16383»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2202
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں