🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَفْسِ الْخَاتَمِ وَلبْسِهِ فِي الْيَمِينِ وَكَرَهَتِهِ فِي الْوُسْطَى
انگوٹھی کا نقش بنوانے، اس کو دائیں ہاتھ میں پہننے اور اس کو درمیانی انگلی میں پہننے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7988
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ السَّبَّابَةِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا تھا کہ میں انگشت ِ شہادت یا اس کے ساتھ والی یعنی درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہنوں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 586»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں مردوں کو دو انگلیوں میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا گیا ہے، امام نووی نے کہا: مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ (مردوں کے لیے) چھنگلی انگلی میں انگوٹھی پہننا مسنون ہے، جبکہ عورت اپنی تمام انگلیوں میں انگوٹھی پہن سکتی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَنْعِ النِّسَاءِ مِنَ التَّحَلَّى بِالذَّهَبِ وَجَوَارِهِ لَهُنَّ بِالْفِضَّةِ
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7989
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ طَوْقٌ مِنْ نَارٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ قَالَتْ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ قَالَ وَكَانَ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِحْدَانَا إِذَا لَمْ تَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ قَالَ فَقَالَ مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرُهُمَا بِالزَّعْفَرَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونا کا طوق بنانا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کا طوق ہوگا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونے کے دو کنگن پہننا جائز ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کے دو کنگن ہوں گے۔ اس نے کہا: کیا سونے کی دو بالیاں جائز ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کی دو بالیاں ہیں۔ اس نے سونے کا ایک کنگن پہن رکھا تھا، یہ سن کر اسے پھینک کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے اگر کوئی اپنے خاوند کے لئے نہ سنورے تو اس کے نزدیک اس کی قدر اور اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس سے کس چیز نے روک رکھا ہے کہ چاندی کی دو بالیاں بنوا کر ان کو زعفران سے رنگ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7989]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد صاحب ابي ھريرة، أخرجه النسائي: 8/ 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9675»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد صاحب ابي ھريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7990
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَحَلَّى أَوْ حُلِّيَ بِخَزِّ بَصِيصَةٍ مِنْ ذَهَبٍ كُوِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو معمولی سونے کے ساتھ بھی آراستہ ہوگا، اسے روز قیامت داغا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7990]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شھر بن حوشب ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18160»
وضاحت: فوائد: … بِخَزِّ بَصِیصَۃٍ یہ طبع یا کاتب کی غلطی ہے، اصل الفاظ یہ ہیں: بِحَرِّ بَصِیصَۃٍ، اصل الفاظ کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7991
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا فَقُلْتُ أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا فَقَالَ عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ قَالَ زَعَمُوا أَنَّهُ قَالَ مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سونے کی چین گردن میں پہنی ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رخ پھیر لیا، میں نے کہا: کیا آپ میری زینت نہیں دیکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زینت سے ہی اعراض کر رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہو گا کہ چاندی کی انگوٹھی یا کڑا بنوا کر اس کو زعفران سے رنگ لے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7991]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن ابي رباح لم يسمع من ام سلمة، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27217»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7992
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَتْ فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقَالَ مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ قَالَتْ فَنَزَعْتُهَا
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ایک ہار پہنا، اس میں سونے کی لڑیاں تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھ کر مجھ سے اعراض کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے اس سے باامن کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کی جگہ پر آگ کی لڑیاں پہنادے۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے اسے اتار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7992]
تخریج الحدیث: «اسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث بن ابي سليم ضعيف، وعطاء لم يسمع من ام سلمة، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 610، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27271»

الحكم على الحديث: اسناده فيه ضعف وانقطاع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7993
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَةَ هُبَيْرَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ يُقَالُ لَهَا الْفَتَخُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَعُ يَدَهَا بِعُصَيَّةٍ مَعَهُ يَقُولُ لَهَا يَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِي يَدِكِ خَوَاتِيمَ مِنْ نَارٍ فَأَتَتْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَشَكَتْ إِلَيْهَا مَا صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَانْطَلَقْتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَلْفَ الْبَابِ وَكَانَ إِذَا اسْتَأْذَنَ قَامَ خَلْفَ الْبَابِ قَالَ فَقَالَتْ لَهَا فَاطِمَةُ انْظُرِي إِلَى هَذِهِ السِّلْسِلَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِالْعَدْلِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَفِي يَدِكِ سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ ثُمَّ عَذَمَهَا عَذْمًا شَدِيدًا ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَمَرَتْ بِالسِّلْسِلَةِ فَبِيعَتْ فَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا عَبْدًا فَأَعْتَقَتْهُ فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: ہبیرہ کی بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس د اخل ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے کی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھڑی سے اس کے ہاتھ کو مارا اور فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے۔ تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ میرے پاس آئی اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ساتھ کیا تھا، اس کی شکایت کی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس کے گھر گیا، (راوی ثوبان رضی اللہ عنہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اجازت طلب کرتے تھے تو دروازے کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے، بنت ہبیرہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ زنجیری دیکھ لو، یہ سیدنا ابو حسن علی رضی اللہ عنہ نے مجھے دی ہے، یہ انہوں نے سونے کی زنجیری اپنے ہاتھ میں ڈال رکھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے اور کہا: اے فاطمہ! انصاف سے کام لو، لوگ کہیں گے فاطمہ بنت محمد نے آگ کی زنجیری ہاتھ میں پہن رکھی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سخت برا بھلا کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تک نہیں اور باہر تشریف لے گئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے وہ زنجیری فروخت کرنے کا حکم دیا اور اس کی قیمت سے غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لئے جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دلائی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7993]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه النسائي: 5143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22761»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7994
عَنْ أُمِّ الْكِرَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَجَّتْ قَالَتْ فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ فَقُلْتُ لَهَا مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ قَالَتْ كَانَ جَدِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ
۔ ام کرام سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حج کیا، میری ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جس کے خدمت گاروں کی کافی تعداد تھی، جتنی عورتیں خدمت گزاری پر مامور تھیں، سب نے چاندی کے زیورات پہن رکھے تھے۔ میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ کی خدمت گاروں میں سے ہر ایک کے زیورات چاندی کے ہیں۔ اس نے کہا: میرے دادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھی میں نے سونے کی دو بالیاں پہنی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ اس وقت سے لے کر ہمارے گھر والوں میں سے ہر ایک چاندی کے زیورات ہی پہنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7994]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام الكرام، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 2/ 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27910»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ام الكرام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7995
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ نِسَاءَ الْمُسْلِمِينَ لِلْبَيْعَةِ فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ أَلَا تَحْسُرُ لَنَا عَنْ يَدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ وَفِي النِّسَاءِ خَالَةٌ لَهَا عَلَيْهَا قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَخَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا هَذِهِ هَلْ يَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ سِوَارَيْنِ وَخَوَاتِيمَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَتْ قُلْتُ يَا خَالَتِي اطْرُحِي مَا عَلَيْكِ فَطَرَحَتْهُ فَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ لَقَدْ طَرَحَتْهُ فَمَا أَدْرِي مَنْ لَقَطَهُ مِنْ مَكَانِهِ وَلَا الْتَفَتَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَيْهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ إِحْدَاهُنَّ تَصْلَفُ عِنْدَ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ تُمَلَّحْ لَهُ أَوْ تَتَحَلَّى لَهُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَتَتَّخِذَ لَهَا جُمَانَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَتُدْرِجَهُ بَيْنَ أَنَامِلِهَا بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَإِذَا هُوَ كَالذَّهَبِ يَبْرُقُ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کے لئے مسلم خواتین کو جمع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا دست مبارک نمایاں کریں تاکہ ہم بیعت کریں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتا، ان سے بیعت بغیر مصافحہ کے کرتا ہوں۔ ان عورتوں میں ان کی ایک خالہ تھی، اس نے سونے کے دو کنگن اور دو انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او فلاں عورت! کیا تم یہ پسند کرو گی کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ کے انگاروں کے کنگن اور انگوٹھیاں بطور زیور دے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: میں نے کہا: اے خالہ! جو پہنا ہے، اسے پھینک دو، پس انہوں نے پھینک دیا، بعد میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اس خاتون نے وہ زیور پھینک دیا تھا، اب مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ اس جگہ سے کس نے اٹھایا تھا اور ہم میں سے کسی نے اس کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی ہم سے کوئی زیبائش نہ اپنائے تو خاوند کے ہاں کم قدر ہو جاتی ہے، وہ کس چیز سے آراستہ ہو، اے اللہ کے نبی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ چاندی کی بالیاں بنوا لو اور چاندی کے موتیوں سے زیبائش اختیار کر لو اور اس میں زعفران کا رنگ دے دو، یہ سونے کی مانند ہی چمکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7995]
تخریج الحدیث: «قوله اني لست اصافح النسائ صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28124»

الحكم على الحديث: قوله اني لست اصافح النسائ صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7996
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا فَقَالَ أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ قَالَتْ فَأَلْقَيْتُهُمَا فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کروں، جب میں قریب ہوئی تو مجھ پر سونے کے دو کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی چمک دیکھ کر فرمایا: یہ کنگن اتار دو، اے اسماء! کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے؟ میں نے انہیں اتار پھینکا اور مجھے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کس نے ان کو اٹھایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7996]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف داود بن يزيد الاودي، وشھرِ بن حوشب، أخرجه مطولا الطبراني في الكبير: 24/ 459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28115»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف داود بن يزيد الاودي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7997
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَتْهُ خَالَتِي قَالَتْ فَجَعَلَتْ تُسَائِلُهُ وَعَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَسُرُّكِ أَنَّ عَلَيْكِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا خَالَتِي إِنَّمَا يَعْنِي سِوَارَيْكِ هَذَيْنِ قَالَتْ فَأَلْقَتْهُمَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُنَّ إِذَا لَمْ يَتَحَلَّيْنَ صَلِفْنَ عِنْدَ أَزْوَاجِهِنَّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَمَا تَسْتَطِيعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَجْعَلَ طَوْقًا مِنْ فِضَّةٍ وَجُمَانَةً مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُخَلِّقَهُ بِزَعْفَرَانٍ فَيَكُونُ كَأَنَّهُ مِنْ ذَهَبٍ فَإِنَّ مَنْ تَحَلَّى وَزْنَ عَيْنِ جَرَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ جِرَّ بَصِيصَةٍ كُوِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں، کہتی ہیں: میں ایک دفعہ آپ کے پاس تھی کہ میری خالہ آ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے شروع کردئیے، انھوں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرتی ہو کہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے جائیں؟ میں نے خالہ سے کہا: یعنی تمہارے یہ دو کنگن آگ کے بن جائیں، انہوں نے وہ اتار پھینکے اور کہا: تو پھر اگر عورتیں زیبائش اختیار نہ کریں تو اپنے خاوندوں کے ہاں قابل توجہ نہیں رہتیں، اے نبی اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم ایسا نہ کر سکو گی کہ چاندی کا ہار بنا لو، یا چاندی سے تیار کردہ موتیوں کا ہار بنا لو، پھر اسے زعفران سے رنگ لو، یہ سونے کی مانند ہی ہوجائے گا، یاد رکھو کہ جس نے ایک ٹڈی کے وزن برابر سونے سے زیبائش اختیار کی یا معمولی سونا بھی پہنا تو اسے روز قیامت داغا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7997]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28154»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں