الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب¤سونے کی انگوٹھی کا بیان
حدیث نمبر: 7968
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنَ الذَّهَبِ عَظِيمٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُزَكِّي هَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَكَاةُ هَذَا فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ
۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے سونے کی بڑی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی!اس کی زکوٰۃ کتنی کیا ہے؟ پس جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے آگ کا بڑا انگارا پہن رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7968]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابراهيم بن ابي الليث كذبه غير واحد، وعمرُو بن عثمان لايعرف حاله، أخرجه البيھقي: 4/ 145، والطبراني: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17699»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 7969
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِي خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَقْرَعُ يَدَهُ بِعُودٍ مَعَهُ فَغَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَرَمَى بِهِ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَهُ فِي إِصْبَعِهِ فَقَالَ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ میرے ہاتھ پرمارنے لگے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ ہٹی تو میں نے وہ انگوٹھی اتاری اور اس کو پھینک دیا۔ اب جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو وہ انگوٹھی آپ کو میرے ہاتھ میں نظر نہ آئی تو فرمایا: میرا خیال ہے ہم نے تجھے تکلیف پہنچائی ہے اور چٹی ڈالی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7969]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 8/ 17749171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17901»
وضاحت: فوائد: … ممکن تھا کہ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ وہ انگوٹھی کسی اور استعمال میں لے آتے، لیکن انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے انداز کو دیکھ کر اس انگوٹھی کو پھینک دینا مناسب سمجھا۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7970
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَضَرَبَ بِهَا كَفِّي وَقَالَ اطْرَحْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَطَرَحْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ قَالَ قُلْتُ طَرَحْتُهُ قَالَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَسْتَمْتِعَ بِهِ وَلَا تَطْرَحَهُ
۔ سالم بن ابی جعد اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا، میں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھڑی لی اور میرے ہاتھ پر ماری اور فرمایا: اسے پھینک دو۔ وہ آدمی کہتا ہے: میں باہرنکلا اور واقعی اس کو پھینک دیا، پھر جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگوٹھی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: میں نے تو اسے پھینک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو حکم دیا تھا کہ تو ا س سے فائدہ اٹھا لے اور اس کو مت پھینک۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7970]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22692»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 7971
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَجُلٍ مِنَّا مِنْ أَشْجَعَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَطَرَحْتُهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا
۔ (دوسری سند) اشجع قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا ہے کہ میں نے اس انگوٹھی کو آج تک پھینک دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7971]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18479»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ پھینک دینے کے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ یہ صحابی اس کا اتار لے اور کسی اور مقصد میں استعمال کر لے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18479
حدیث نمبر: 7972
عَنْ أَبِي الْكَنُودِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي بَعْضِ الْمَغَازِي فَلَبِسْتُهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ لِحْيَيْهِ فَمَضَغَهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَخَتَّمَ بِخَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ بِحَلْقَةِ الذَّهَبِ
۔ ابو کنود کہتے ہیں: میں نے ایک سونے کی انگوٹھی حاصل کی، یہ مجھے ایک غزوہ سے ملی تھی، میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اس انگوٹھی کو اپنے جبڑوں کے درمیان رکھ کر اس پر دانت دبا کر اس کو ٹیڑھا میڑھا کر دیا اور کہا:: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7972]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 386، والطبراني في الكبير: 10494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3804»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7973
عَنْ عَلْقَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَنَا زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ يَقْرَأُ كَمَا تَقْرَأُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَمَرْتَ بَعْضَهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ فَقَالَ لِي اقْرَأْ فَقَالَ ابْنُ حُدَيْرٍ تَأْمُرُهُ يَقْرَأُ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأُخْبِرَنَّكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمِكَ وَقَوْمِهِ قَالَ فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ مَرْيَمَ فَقَالَ خَبَّابٌ أَحْسَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا هُوَ قَرَأَهُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِخَبَّابٍ أَمَا آنَ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَا تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ وَالْخَاتَمُ ذَهَبٌ
۔ علقمہ کہتے ہیں ہم ایک دن سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور زید بن حدیر بھی ہمارے ساتھ تھے، پھر ہمارے پاس سیدنا خباب رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ تمام اسی طرح قرأت کرتے ہیں، جس طرح تم پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں ان میں سے بعض کو حکم دیتا ہوں کہ وہ آپ پر پڑھے؟ انھوں نے مجھے کہا: جی ہاں، پڑھو۔ ابن حدیر نے کہا: آپ اسے حکم دیتے ہیں کہ یہ پڑھے، حالانکہ وہ ہم سے زیادہ پڑھا ہوا نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں تمہیں وہ خبر دے دیتا ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیری قوم اور اس کی قوم کے لئے فرمائی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے سورۂ مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں۔ جناب نے کہا: آپ نے اچھا کیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کوئی بھی چیز پڑھوں گا، تو اس نے بھی وہ پڑھا ہواہے، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اب اس انگوٹھی کا وقت آ گیا ہے کہ اسے پھینک دیا جائے، انہوں نے کہا: آپ آج کے بعد میرے اوپر سونے کی انگوٹھی نہیں دیکھیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7973]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4025»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ مرد سونا نہیں پہن سکتا، البتہ عورتیں جیسے چاہیں پہن سکتی ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4391
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ خَاتَمِ الصُّفْرِ وَالْحَدِيدِ وَاسْتِحْبَابِ خَاتَمِ الْفِضَّةِ
پیتل اور لوہے کی انگوٹھی کی کراہت اور چاندی کی انگوٹھی کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 7974
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ قَالَ فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ فِضَّةٍ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو نے جنت والوں کے زیورات پہن رکھے ہیں (جو کہ دنیا میں جائز نہیں ہیں)؟ اس نے کہا: پھر میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: میں تجھ سے بت پرستوں کی بوپا رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اے اللہ کے رسول!: میں کس چیز سے انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاندی سے بنوا لو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7974]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4223، والترمذي: 1785، والنسائي: 8/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23422»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوہے اور پیتل کی انگوٹھی منع ہے۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7975
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ هَذَا شَرٌّ هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ فَأَلْقَاهُ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی پر سونے کی انگوٹھی دیکھی اور اس وجہ سے اس سے رخ پھیر لیا، اس نے وہ پھینک دی اور لوہے کی انگوٹھی بنا لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے، یہ تو دوزخیوں کا زیور ہے۔ انہوں نے وہ بھی اتار دی اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7975]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 1021، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6680»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7976
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ فَطَرَحَهُ ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ هَذَا أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ فَطَرَحَهُ ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو گویا آپ نے ناپسند فرمایا، میں نے وہ اتار کر پھینک دی، پھر میں نے لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی زیادہ خبیث ہے، یہ بہت خبیث ہے۔ پس میں نے اس کو بھی پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7976]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6977»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7977
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلْقِ ذَا فَأَلْقَاهُ فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ ذَا شَرٌّ مِنْهُ فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی اور فرمایا: اسے اتار دو۔ اس نے وہ اتار دی اور لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، لیکن اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7977]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 132»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لوہے کی انگوٹھی ممنوع اور حرام ہے، اس لیے اس کے جواز کا فتوی دینے والوں کو دھوکہ میں نہیں آنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره