الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ كَانَ مِنْ فِضَّةٍ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان¤آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
حدیث نمبر: 7978
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَكَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ نقش تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7978]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5866، ومسلم: 2091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6271»
وضاحت: فوائد: … اگلی احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگوٹھی والے الفاظ نقش کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5866
حدیث نمبر: 7979
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب روم والوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ وہ لوگ تو صرف وہی خط پڑھتے ہیں، جس پر مہر لگی ہوئی ہو، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا کہ میں اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7979]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7162، ومسلم: 2092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12750»
وضاحت: فوائد: … انگوٹھی پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروانے کی وجہ مہر بنانا تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7162
حدیث نمبر: 7980
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا فَقَالَ إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَيْهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں (محمد رسول اللہ کے الفاظ) کندہ کروائے ہیں، تم میں کوئی آدمی یہ نقش نہیں بنوا سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7980]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2092، وأخرجه بنحوه البخاري: 5874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12012»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2092
حدیث نمبر: 7981
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7981]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13391»
وضاحت: فوائد: … اس کا نگینہ حبشی تھا، یعنی وہ نگینہ عقیق کا تھا، جو حبشہ سے لایا گیا تھا، عام طور پر اس وقت عقیق کی کانیں حبشہ اور یمن میں تھیں، یا ا س حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نگینے کا رنگ کالا تھا، یا وہ نگینہ حبشہ سے لائی ہوئی چاندی کا تھا یا حبشہ کی طرز کا بنایا ہوا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2094
حدیث نمبر: 7982
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً فَصُّهُ مِنْهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی بھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کاتھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7982]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13838»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ نگینہ چاندی کا بھی ہو اور حبشہ میں بنایا گیا ہو، یا مختلف اوقات میں مختلف انگوٹھیاں ہوں، ایک انگوٹھی کا نگینہ حبشی ہو اور ایک کا چاندی کا، اس طرح سے درج بالا دو روایات میں اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5870
حدیث نمبر: 7983
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی، لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہن لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7983]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2093، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13172»
وضاحت: فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں ابن شہاب راوی کو وہم ہوا اور اس نے سونے کی انگوٹھی کی جگہ پر چاندی کی انگوٹھی کاذکر کر دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایات سے معروف بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوا لی تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2093
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَفْسِ الْخَاتَمِ وَلبْسِهِ فِي الْيَمِينِ وَكَرَهَتِهِ فِي الْوُسْطَى
انگوٹھی کا نقش بنوانے، اس کو دائیں ہاتھ میں پہننے اور اس کو درمیانی انگلی میں پہننے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 7984
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح کا نقش نہ بنواؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7984]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 3106، 5878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12675»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 3106
حدیث نمبر: 7985
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ فِي خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کا نقش تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7985]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 8/ 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5685»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7986
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِيمَكُمْ عَرَبِيًّا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل کرو اور نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش بنواؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7986]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الازھر بن راشد البصري، أخرجه النسائي: 8/ 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11976»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی سے قبل عربوں کے ہاں کسی قسم کا نقش معروف نہیں تھا، اس لیے عربی نقش سے مراد محمد رسول اللہ کے الفاظ ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الازھر بن راشد البصري
حدیث نمبر: 7987
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ
۔ حماد بن سلمہ کہتے ہیں: میں نے ابن ابی رافع کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، جب میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7987]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الترمذي: 1744، وابن ماجه: 3647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1746»
وضاحت: فوائد: … بعض روایات میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا بھی ذکر ہے، اس لیے بائیں ہاتھ میں بھی پہننا درست ہے، مگر ترجیح دائیں ہاتھ کو ہے، کیونکہ یہ اکثر روایات میں ہے اور زینت کے مناسب بھی دایاں ہاتھ ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح