سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب مَا جَاءَ فِي الْمَشْىِ إِلَى الصَّلاَةِ فِي الظُّلَمِ
باب: اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْكَحَّالُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 561]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوشخبری دو قیامت کے روز کامل نور کی ان لوگوں کو جو اندھیروں میں مسجدوں کی طرف چل کر آتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 53 (223)، (تحفة الأشراف: 1946) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (721)
وله شاھد عند ابن خزيمة (1499) وسنده حسن
مشكوة المصابيح (721)
وله شاھد عند ابن خزيمة (1499) وسنده حسن
51. باب مَا جَاءَ فِي الْهَدْىِ فِي الْمَشْىِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کی طرف چلنے کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُمْ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ، أَدْرَكَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، قَالَ: فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ بِيَدَيَّ فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ".
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ثمامہ حناط نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد جا رہے تھے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راستہ میں پا لیا، تو دونوں ایک دوسرے سے ملے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کئے ہوئے پایا تو اس سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 562]
جناب ابوثمامہ حناط بیان کرتے ہیں کہ انہیں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے جبکہ وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ دونوں میں سے ایک نے دوسرے کو پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے پایا کہ میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈالے ہوئے تھا، تو انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا قصد کرے تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ہرگز نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11119)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 167 (386)، مسند احمد (4/241)، سنن الدارمی/الصلاة 121 (1444) (صحیح)»
وضاحت: مسجد کو آتے ہوئے انگلیوں کو ایک دوسری میں دینا، انہیں چٹحانا یا اس طرح کے دوسرے لایعنی عمل مثلاً دوڑنا، ادھر ادھر تاک جھانک، فضول گفتگو اور قہقہے لگانا وغیرہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کیونکہ آدمی حکماً نماز میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (994)
أخرجه أحمد (4/241) وسنده حسن وللحديث شواھد عند الترمذي (386)
مشكوة المصابيح (994)
أخرجه أحمد (4/241) وسنده حسن وللحديث شواھد عند الترمذي (386)
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہا ہوں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ جب بھی اپنا داہنا قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے، اور جب بھی اپنا بایاں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد سے قریب رہے اور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے، اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے جماعت سے نماز پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا اور اگر وہ مسجد میں اس وقت آیا جب کہ (جماعت شروع ہو چکی تھی اور) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ باقی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھیں اور جو رہ گئی تھیں بعد میں پوری کیں تو وہ بھی اسی طرح (اجر و ثواب کا مستحق) ہو گا، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ نماز ختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نماز پڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 563]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے کہا: ”میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور محض اجر کے لیے سناتا ہوں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ”جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح کرتا ہے پھر نماز کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور وہ بایاں قدم نہیں ٹکاتا کہ اللہ عزوجل اس کی ایک غلطی معاف کر دیتا ہے۔ تو جو چاہے (مسجد کے) قریب رہے یا بعید (تمہاری مرضی ہے)۔ اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ کچھ نماز پڑھ چکے تھے اور کچھ باقی تھے تو جو اسے مل گئی اس نے ان کے ساتھ پڑھی اور باقی کو پورا کر لیا تو ایسے ہی ہو گا۔ (یعنی اس کی بھی مغفرت ہو گی)۔ اور اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ نماز پڑھ چکے تھے پھر اس نے (اکیلے ہی) نماز پوری کی تو بھی ایسے ہی ہو گا۔ (یعنی بخشا جائے گا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود،(تحفة الأشراف: 15583) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معبد بن ھرمز مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
والحديث الآتي (الأصل : 564) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
إسناده ضعيف
معبد بن ھرمز مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
والحديث الآتي (الأصل : 564) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
52. باب فِيمَنْ خَرَجَ يُرِيدُ الصَّلاَةَ فَسُبِقَ بِهَا
باب: جو نماز کے ارادہ سے نکلا لیکن اس کی جماعت چھوٹ گئی۔
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 564]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا (یعنی سنت کے مطابق کامل وضو) پھر (مسجد کی طرف) گیا مگر لوگوں کو پایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اللہ عزوجل ایسے بندے کو بھی اتنا ہی اجر عنایت فرماتا ہے جتنا کہ اس کو جس نے جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھی ہو۔ اور یہ ان کے اجروں میں کسی کمی کا باعث نہیں ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 52 (856)، (تحفة الأشراف: 14281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1145)
مشكوة المصابيح (1145)
53. باب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 565]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو، لیکن انہیں چاہیئے کہ زیب و زینت کے بغیر نکلیں۔“ (یعنی سادہ کیفیت میں آئیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/438، 475)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1315) (حسن صحیح)»
وضاحت: یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1679 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (1679 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 566]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے منع نہ کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 166 (900)، والنکاح 116 (5238)، صحیح مسلم/الصلاة 30 (442)، سنن النسائی/المساجد 15 (705)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (16)، موطا امام مالک/القبلة 6 (12)، مسند احمد (2/16، 36، 43، 39، 90، 127، 140، 143، 145، 151)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1314) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (900) صحيح مسلم (442)
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 567]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو، مگر ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/76) (صحیح)»
وضاحت: یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
حبيب بن أبي ثابت مدلس و عنعن
و للحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي (3/ 131) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 185
سنده ضعيف
حبيب بن أبي ثابت مدلس و عنعن
و للحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي (3/ 131) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 185
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ، قَالَ: فَسَبَّهُ وَغَضِبَ، وَقَالَ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنُوا لَهُنَّ، وَتَقُولُ: لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ".
مجاہد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دے دیا کرو“، اس پر ان کے ایک لڑکے (بلال) نے کہا: قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں، قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: اس پر انہوں نے (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) (اپنے بیٹے کو) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے، پھر بولے: میں کہتا ہوں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم انہیں اجازت دو“، اور تم کہتے ہو: ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 568]
جناب مجاہد رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں جانے کی خاطر اجازت دے دیا کرو۔“ اس پر ان کے ایک صاحبزادے نے ان سے کہا: ”قسم اللہ کی! ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ وہ اسے (باہر نکلنے کا) ایک بہانہ بنا لیں گی۔ قسم اللہ کی! ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بہت سخت سست کہا اور ناراض ہو گئے۔ کہا کہ: ”میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ان کو اجازت دو۔“ اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 13(899)، صحیح مسلم/الصلاة 30(442)، سنن الترمذی/الصلاة 48 (570)، (تحفة الأشراف: 7385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/36، 43، 49، 98، 127، 143، 145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل لا رہے ہو، احمد کی ایک روایت (۲/۳۶) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اہم مسئلہ واضح فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فہم و استدلال کو اہمیت دے۔ قرآن مجید میں ہے «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللـه ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ”کسی بھی مومن مرد یا عورت کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار رہے“ (الاحزاب، ۳۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (442)
54. باب التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
باب: (عورتوں کا مسجد جانا) اس مسئلہ میں تشدید کا بیان
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ"، قَالَ يَحْيَى: فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ: أَمُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ چیزیں دیکھتے جو عورتیں کرنے لگی ہیں تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 569]
عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے مروی ہے انہوں نے بتلایا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ صورت حال دیکھ لیتے جو عورتوں نے اپنائی ہے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔“ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ سے کہا: ”کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو اس سے روک دیا گیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 163 (869)، صحیح مسلم/الصلاة 30 (445)، (تحفة الأشراف: 17934)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 6 (15)، مسند احمد (6/91، 193، 235، 232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (869) صحيح مسلم (445)
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 570]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں صحن کے بجائے کمرے کے اندر زیادہ افضل ہے، بلکہ کمرے کی بجائے (اندرونی) کوٹھری میں زیادہ افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 18 (1173ببعضہ)، (تحفة الأشراف: 9529) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
ولأصل الحديث شواھد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
َدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ،قَالَ:
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
ولأصل الحديث شواھد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
َدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ،قَالَ: