🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
باب: (عورتوں کا مسجد جانا) اس مسئلہ میں تشدید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَهَذَا أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو زیادہ اچھا ہو)“۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم » کے بجائے «قال عمر» (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 571]
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہم یہ دروازہ عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (انہی کے لیے مخصوص کر دیں تو بہت بہتر ہو)۔“ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مرتے دم تک اس دروازے سے مسجد میں نہیں آئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7588) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
َدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب السَّعْىِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے دوڑ کر آنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٌ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،: وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، وقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَحْدَهُ، فَاقْضُوا، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَتِمُّوا، وَابْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ، قَالُوا: فَأَتِمُّوا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 572]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت ہو جائے تو تم اس کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آیا کرو بلکہ چلتے ہوئے آؤ اور اطمینان و سکون اختیار کرو۔ تو جو مل جائے پڑھ لو، اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے «وَفَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا» ”جو تم سے رہ جائے اسے مکمل کر لو۔“ کے لفظ روایت کیے ہیں، مگر اکیلے ابن عیینہ نے زہری سے «فَاقْضُوا» ”قضا دو۔“ بیان کیا ہے، اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «فَأَتِمُّوا» روایت کیا ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ سبھی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «فأتمُّوا» کا لفظ بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، (تحفة الأشراف: 13371، 15323)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 18 (908)، سنن الترمذی/الصلاة 132 (327)، سنن ابن ماجہ/المساجد 14 (775)، موطا امام مالک/الصلاة 1(4)، مسند احمد (2/270، 282، 318، 387، 427، 452،460، 473، 489، 529، 532، 533)، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (636) صحيح مسلم (602)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلْيَقْضِ، وَكَذَا قَالَ أَبُو رَافِعٍ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو ذَرٍّ رَوَى عَنْهُ، فَأَتِمُّوا وَاقْضُوا، وَاخْتُلِفَ عَنْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کر لو“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ «وليقض» سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: «فأتموا واقضوا» روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 573]
ابوسلمہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے آؤ تو اطمینان و سکون سے آؤ۔ جو پالو پڑھ لو اور جو پڑھی جا چکی ہو اس کی قضاء دو۔“ (یعنی پورا کر لو)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسی طرح ابن سیرین نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «وَلْيَقْضِ» روایت کیا ہے۔ ایسے ہی ابورافع نے بھی (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت کیا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے «فَأَتِمُّوا» اور «اقْضُوا» مروی ہے، اور اس میں اختلاف کیا گیا ہے (یعنی بعض ان سے «أَتِمُّوا» کا لفظ بیان کرتے ہیں اور بعض «اقْضُوا» کا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/382، 386) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیح روایتوں سے معلوم ہوا کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں بعد میں پڑھنے سے نماز پوری ہو جاتی ہے، اور مقتدی جو رکعت پاتا ہے وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہیں، بقیہ کی وہ تکمیل کرتا ہے، فقہاء کی اصطلاح میں قضا نماز کا اطلاق وقت گزرنے کے بعد پڑھی گئی نماز پر ہوتا ہے، احادیث میں قضا و اتمام سے مراد اتمام و تکمیل ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب فِي الْجَمْعِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ
باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ”کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 574]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، ایک آدمی اکیلے ہی نماز پڑھ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی آدمی اس پر صدقہ نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے؟“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 50 (220)، (تحفة الأشراف: 4256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/64، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 98 (1408) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جامع ترمذی میں درج ذیل حدیث کا عنوان ہے: جس مسجد میں ایک بار (باجماعت) نماز ہو چکی ہو اس میں جماعت کا بیان۔ درج ذیل صحیح حدیث سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے (ابن ابی شیبہ)۔ اکیلے نماز پڑھنے والے کو اپنا امام بنا لینا جائز ہے۔ اگرچہ دوسرے نے اپنی نماز پڑھ لی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1146)
صححه ابن خزيمة (1632 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. باب فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ
باب: جو شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہو پھر وہ جماعت پائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟ قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ".
یزید بن الاسودخزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 575]
جناب جابر بن یزید بن اسود اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی جبکہ وہ نوجوان تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو دیکھا کہ دو آدمی مسجد کی ایک جانب میں موجود ہیں اور انہوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ انہیں آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے پٹھے کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا رکاوٹ تھی کہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کیا کرو۔ جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 49 (219)، سنن النسائی/الإمامة 54 (859)، (تحفة الأشراف: 11822)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/160، 161)، سنن الدارمی/الصلاة 97 (1407) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جس نے اکیلے نماز پڑھی ہو پھر اس کو جماعت مل جائے تو وہ امام کے ساتھ مل کر دوبارہ نماز پرھے۔ خواہ نماز کوئی سی ہو۔ ظاہر الفاظ حدیث سے اس کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ شرعی سبب کے باعث فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اکیلے کی نماز ہو جاتی ہے اگرچہ جماعت سے پڑھنا ضروری ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ پہلی نماز فرض اور دوسری نفل ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1152)
صححه ابن خزيمة (1279 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًى، بِمَعْنَاهُ.
یزید بن اسود خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 576]
جناب جابر بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی۔“ اور اوپر والی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11822) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (1279 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ: أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ: إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ".
یزید بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں (مسجد) آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے (یزید بن عامر کو) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟“، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 577]
سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، میں بیٹھ گیا، ان کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو ہماری طرف رخ کیا اور مجھے بیٹھے دیکھا تو پوچھا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہوئے ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کیا ہوا کہ تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوئے؟“ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ کر آیا ہوں اور میرا خیال تھا کہ شاید آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ مل کر پڑھو اگرچہ اکیلے پڑھ چکے ہو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی اور وہ (پہلی نماز) فرض۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود،(تحفة الأشراف: 11831) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے ایک راوی نوح بن صعصعة مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نوح بن صعصعة : مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان و ضعفه الإمام الدار قطني،وقال في التقريب: ’’مستور‘‘ (7208)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ:حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ".
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 578]
جناب عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا کہ ہم میں سے ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے اور پھر مسجد میں آتا ہے اور نماز کی اقامت ہو جاتی ہے تو میں ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیتا ہوں مگر اس سے میرے دل میں کچھ کھٹک سی ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے جماعت کا ایک حصہ ہے۔““ (یعنی اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث ثواب ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3501)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 3(11) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عفیف لین الحدیث ہیں اور رجل مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني أسد: مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. باب إِذَا صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً أَيُعِيدُ
باب: جب کوئی جماعت سے نماز پڑھ چکا ہو پھر وہ دوسری جماعت پائے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ يَعْنِي مَوْلَى مَيْمُونَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں: میں بلاط میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 579]
سلیمان یعنی مولیٰ میمونہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیٹھک پر آیا، وہاں لوگ نماز پڑھ رہے تھے (اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نماز میں شریک نہ تھے) میں نے ان سے کہا: ”کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے؟“ انہوں نے کہا: ”میں پڑھ چکا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ایک نماز کو ایک دن میں دو بار مت پڑھو۔“” [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 56 (861)، (تحفة الأشراف: 7094)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/19، 41) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اس کا مطلب ہے کہ اپنے طور پر بغیر کسی سبب کے ایک نماز کو دوبارہ نہ پڑھو۔ تاہم کوئی سبب ہو تو دوبارہ پڑھنا جائز ہے۔ جیسے کسی نے پہلے اکیلے نماز پڑھی ہو پھر جماعت پائے یا کسی اکیلے کے ساتھ بطور صدقہ نماز میں شریک ہو تو جائز ہے۔ (سنن ابوداود، حدیث ۵۷۴) یا کسی کی امامت کرائے تو بھی جائز ہے۔ (سنن ابوداود، حدیث ۵۹۹) ان صورتوں میں دوسری مرتبہ پڑھی گئی نماز اس کے لیے نفلی نماز ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1157)
صححه ابن خزيمة (1641 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. باب فِي جِمَاعِ الإِمَامَةِ وَفَضْلِهَا
باب: امامت اور اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ:سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِر، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہو گا ان (مقتدیوں) پر نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 580]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص لوگوں کی امامت کرائے اور بروقت کرائے تو یہ اس کے لیے، اور نمازیوں کے لیے باعثِ اجر ہے اور جس نے اس میں کوئی کمی کی تو اس کا گناہ امام پر ہے نمازیوں پر نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 47 (983)، (تحفة الأشراف: 9912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/145، 154، 156) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں