سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِي الصَّلاَةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو. ح وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 541]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر تشریف لانے سے پہلے ہی اپنی جگہیں لے چکے ہوتے تھے۔ (یعنی صفیں برابر کر چکے ہوتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 235، (تحفة الأشراف: 15200) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (640) صحيح مسلم (605)
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ".
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 542]
جناب حمید کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ کوئی آدمی اقامت ہو جانے کے بعد کسی سے کوئی بات کرے (تو کیسا ہے؟) تو انہوں نے مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنائی کہ ”(ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کچھ دیر کے لیے) روکے رکھا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، 28 (643)، والاستئذان 48 (6292)، (تحفة الأشراف: 395)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (376)، سنن النسائی/الإمامة 13 (792)، مسند احمد (3/101، 114، 182) (صحیح)»
وضاحت: اقامت اور تکبیر تحریمہ میں فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اور مناسب بات کر لینا بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (643)
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ، قَالَ: قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ بِمِنًى وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: هَذَا السُّمُودُ؟ فَقَالَ لِي الشَّيْخُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، قَالَ: وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا".
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی «سمود» ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 543]
کہمس کہتے ہیں کہ وادی منٰی میں ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور امام نہیں پہنچا تھا، تو ہم میں سے کچھ بیٹھ گئے۔ مجھ سے کوفہ کے ایک شخص نے کہا: ”تم کیوں بیٹھ گئے ہو؟“ میں نے کہا: ”ابن بریدہ کہتے ہیں کہ یہ کیفیت (کھڑے منہ اٹھائے دیکھنا) «سمود» ہے۔ (اور یہ کوئی اچھی بات نہیں)“ تو اس شیخ نے مجھ سے کہا: ”مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تکبیر تحریمہ کہے جانے سے پہلے لمبی دیر تک کھڑے رہا کرتے تھے۔“ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ پہلی صفوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں، اللہ عزوجل ان پر رحمت نازل کرتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اس قدم سے بڑھ کر اور کوئی قدم محبوب نہیں جس سے وہ چل کر آتا اور صف کو ملاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 1777) (ضعیف)» (اس کی سند میں شیخ من أہل الکوفة مبہم راوی ہے)
وضاحت: ۱؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔
۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ من أھل الكوفة لم أعرفه
وحديث (664،الأصل) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
إسناده ضعيف
شيخ من أھل الكوفة لم أعرفه
وحديث (664،الأصل) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 544]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک جانب میں (کسی کے ساتھ) سرگوشی میں مشغول رہے اور نماز کے لیے آئے تو لوگوں کو نیند آ رہی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، صحیح مسلم/الحیض 33(376)، (تحفة الأشراف: 1035) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (642) صحيح مسلم (376)
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَآهُمْ قَلِيلًا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى".
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 545]
سالم ابوالنصر رحمہ اللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کہے جانے کے بعد مسجد میں حاضرین کو کم محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے اور نماز نہ پڑھاتے اور جب دیکھتے کہ جمع ہو گئے ہیں، تو نماز پڑھا دیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف)» (یہ روایت مرسل ہے، سالم ابوالنضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
و السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (546)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
و السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (546)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ،أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِثْلَ ذَلِكَ.
اس سند سے ابومسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 546]
نافع بن جبیر، ابومسعود زرقی سے، وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف)» (اس کے راوی ابو مسعود زرقی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج صرح بالسماع عند البيھقي (20/2) ولكن في السند إليه عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد مدلس وعنعن(راجع الفتح المبين ص 55)
وانظر الحديث السابق (545)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
إسناده ضعيف
ابن جريج صرح بالسماع عند البيھقي (20/2) ولكن في السند إليه عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد مدلس وعنعن(راجع الفتح المبين ص 55)
وانظر الحديث السابق (545)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
47. باب فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ"، قَالَ زَائِدَةُ: قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ: الصَّلَاةَ فِي الْجَمَاعَةِ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے“۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 547]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، فرماتے تھے: ”جس کسی گاؤں یا بستی میں تین فرد بھی ہوں اور ان میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہو، تو شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو۔ بھیڑیا ہمیشہ دور رہنے والی اکیلی بکری ہی کو کھاتا ہے۔“ جناب زائدہ بیان کرتے ہیں کہ سائب نے کہا: ”جماعت سے مراد باجماعت نماز ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 48 (848)، مسند احمد (5/196، 6/446)، (تحفة الأشراف: 10967) (حسن)»
وضاحت: ”جماعت کو لازم پکڑو“ کی تاکید سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ نماز باجماعت کا اہتمام ہے۔ اس جملے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اجتماعیت کا التزام رکھو اور کوئی عقیدہ یا عمل ایسا اختیار نہ کرو جو جماعت صحابہ کے عقیدہ و عمل کے برعکس ہو۔ جماعت اور اجتماعیت میں عدد اور گنتی کی اہمیت نہیں ہے۔ کیونکہ دین اسلام کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر ہے۔ اس کے اختیار کرنے ہی میں اجتماعیت ہے خواہ افراد کتنے ہی کم ہوں اور اس اصل کو چھوڑنے میں افتراق ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ دیکھئیے ابراہیم علیہ السلام کو اکیلے ہوتے ہوئے بھی امت قرار دیا گیا ہے۔ «إن إبراهيم كان أمة قانتا للـه حنيفا ولم يك من المشركين» (النحل ۱۲۰)۔ ”بلاشبہ ابراہیم ایک امت تھے اللہ کے مطیع، یکسو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے“۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1067، 184)
مشكوة المصابيح (1067، 184)
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سوچا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 548]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور خود ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز (کی جماعت) میں حاضر نہیں ہوتے اور میرے ساتھ کچھ لوگ ہوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 17 (791)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 1 (3)، (تحفة الأشراف: 12527)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، 34 (657)، والخصومات 5 (2420)، والأحکام 52 (7224)، صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن الترمذی/الصلاة 48 (217)، سنن النسائی/الإمامة 49 (849)، مسند احمد (2/244، 376، 489، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (657) صحيح مسلم (651)
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ"، قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ: يَا أَبَا عَوْفٍ، الْجُمُعَةَ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا، قَالَ: صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں“۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 549]
جناب یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھے اکٹھے کریں، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اپنے گھروں میں نمازیں پڑھتے ہیں، حالانکہ انہیں کوئی عذر نہیں ہے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔“ (یزید بن یزید نے کہا) میں نے (اپنے شیخ) یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! اس سے آپ کی مراد جمعہ (کی نماز) تھی یا کچھ اور؟ انہوں نے کہا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔ انہوں نے جمعہ یا دوسری نماز کا ذکر نہیں کیا۔ (یعنی کوئی تخصیص نہیں، جمعہ سمیت تمام نمازوں کی جماعت کا مسئلہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن الترمذی/الطہارة 48 (271)، (تحفة الأشراف: 14819) (صحیح)» حدیث میں واقع یہ اضافہ: «ليست بهم علة» صحیح نہیں ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ليست بهم علة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (651)
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" حَافِظُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَفَرْتُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 550]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ان پانچوں نمازوں کی حفاظت اور پابندی اختیار کرو جہاں کہیں ان کے لیے اذان کہی جائے، کیونکہ نمازوں کی (باجماعت) پابندی ”سنن ہدی“ میں سے ہے (یعنی حق و ہدایت کی راہ ہے)۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کی سنتیں مشروع کی ہیں۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ واضح اور کھلے منافق کے علاوہ کوئی بھی جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ ایک آدمی کو دو دو افراد سہارا دے کر لاتے تھے اور اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا اور تم ہو کہ ہر ایک نے اپنے گھر ہی میں مسجد بنا رکھی ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھنے لگو اور مسجدوں کو چھوڑ دو، تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے۔ اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو کافر ہو جاؤ گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 44 (654) بلفظ: ’’ضللتم‘‘، سنن النسائی/الإمامة 50 (850)، (تحفة الأشراف: 9502)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 14 (781)، مسند احمد (1/382، 414) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م بلفظ لضللتم وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (654)