🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب أَخْذِ الأَجْرِ عَلَى التَّأْذِينِ
باب: اذان دینے پر اجرت لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ:" أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 531]
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجیے،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو اور ان کے ضعیف ترین کی اقتداء (رعایت) کرنا اور مؤذن ایسا مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأذان 32 (673)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد (4/217)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 37 (468)، سنن الترمذی/الصلاة 41 (209) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون الاتخاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (668)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب فِي الأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ
باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، زَادَ مُوسَى: فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 532]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”جاؤ اور اعلان کرو کہ خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔ خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ موسیٰ نے اضافہ کیا، چنانچہ انہوں نے جا کر اعلان کیا: ”خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو ایوب سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی نے روایت نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (203)
رجالة ثقات ولكن اتفق أئمة الحديث علي أن حمادًا أخطأ في رفعه،انظر فتح الباري (103/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ،أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا (جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 533]
جناب نافع رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن سے روایت کرتے ہیں جس کا نام مسروح تھا، کہ انہوں نے (ایک بار) فجر (صادق) سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، اور مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”حماد بن زید نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے یا کسی دوسرے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور دراوردی نے اسے عبیداللہ سے، وہ نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن کا نام مسعود تھا۔“ اور اس کے مثل بیان کیا اور یہ اس سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسروح مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا: وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا.
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 534]
شداد مولیٰ عیاض بن عامر، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”جب تک فجر اس طرح نمایاں نہ ہو جایا کرے، اذان نہ کہا کرو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافِ عرض میں اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر اشارہ فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شداد مولیٰ عیاض نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2034) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی شدّاد مجہول ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں مقبول یرسل کہا ہے، لیکن اس کی تقویت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو مسند احمد: 5/171- 172، وصحیح ابی داود: 3/45)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنده مرسل،شداد مولي عياض لم يدرك بلا لاً كما قال أبو داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب الأَذَانِ لِلأَعْمَى
باب: نابینا آدمی کی اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ كَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے اور وہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 535]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے اور نابینا تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 5 (381)، (تحفة الأشراف: 16907) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: نابینے شخص کا اذان دینا یا امامت کا اہل ہونے کی صورت میں امامت کرانا بالکل صحیح اور جائز ہے اور اذان کے بارے میں ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا ہی اس کی رہنمائی کرے گا اور آج کل تو ایسی گھڑیاں بھی ایجاد ہو چکی ہیں جن سے ایسے لوگوں کو وقت معلوم کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (381)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الأَذَانِ
باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ رَجُلٌ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر (مسجد سے باہر) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) کی نافرمانی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 536]
جناب ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ مؤذن نے عصر کی اذان کہی تو اس کے بعد ایک شخص مسجد سے نکل گیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 45 (655)، سنن الترمذی/الصلاة 36 (204)، سنن النسائی/الأذان 40 (685)، سنن ابن ماجہ/الأذان 7 (733)، (تحفة الأشراف: 13477)، مسند احمد (2/410، 416، 417، 506، 537)، سنن الدارمی/الصلاة 12 (1241) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اذان ہو جانے کے بعد معقول شرعی وجہ کے بغیر مسجد سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (655)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب فِي الْمُؤَذِّنِ يَنْتَظِرُ الإِمَامَ
باب: مؤذن اذان کے بعد امام کا انتظار کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، أَقَامَ الصَّلَاةَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 537]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے، پھر ذرا دیر رکتے، جب دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں تو اقامت کہتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 34 (202)، (تحفة الأشراف: 2137)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 29 (606)، مسند احمد (5/76، 78، 95، 104، 105) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ثابت ہوا کہ اقامت کہنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے امام اپنے مصلے پر کھڑا ہو تب ہی اقامت کہی جائے بلکہ امام کو آتا دیکھ کر بھی تکبیر کہنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (606)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب فِي التَّثْوِيبِ
باب: تثویب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ،قَالَ:" اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ".
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 538]
جناب مجاہد کہتے ہیں کہ میں (ایک بار) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں «التَّثْوِيبُ» (یعنی اذان کے بعد دوبارہ اعلان کیا) کی تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہاں سے لے چلو، بیشک یہ بدعت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 7395) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اذان کے بعد دوبارہ نماز کے لئے اعلان کرنے کا نام ” تثویب “ ہے، اور ” تثویب “ کا اطلاق اقامت پر بھی ہوتا ہے۔ تثویب سے مراد ایک تو وہ کلمہ ہے جو فجر کی اذان میں کہا جاتا ہے یعنی «الصلاة خير من النوم» یہ حق اور مسنون ہے، مگر یہاں اس سے مراد وہ اعلانات وغیرہ ہیں جو اذان ہو جانے کے بعد لوگوں کو مسجد میں بلانے کے لیے کہے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کچھ حیلہ بھی کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہیں درود شریف پڑھا جاتا ہے اور کہیں تلاوت قرآن کی جاتی ہے اور کہیں صاف سیدھا اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ جماعت میں اتنے منٹ باقی ہیں تو ایسی کوئی صورت بھی جائز نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے اس لیے انہوں نے اپنے قائد سے کہا کہ مجھے یہاں سے لے چلو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بدعت اور بدعتیوں سے انتہائی نفرت کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اتباع سنت کا شوق مثالی تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
قال أحمد بن حنبل في أبي يحيي القتات: ’’ واما حديث سفيان عن عنه فمقاربة‘‘ (الضعفاء الكبير للعقيلي: 2/ 330، سنده صحيح/ معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب فِي الصَّلاَةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، وَقَالَا فِيهِ: حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے (آتا) نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہوا کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 539]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت کہہ دی جائے تو جب تک مجھے (آتا) نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہوا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے ایسے ہی روایت کیا ہے (یعنی صیغہ «عن» کے ساتھ) اور ہشام دستوائی نے کہا: یحییٰ نے مجھے لکھا، اور اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے یحییٰ سے روایت کیا، ان دونوں نے اس روایت میں کہا: ”(اس وقت تک کھڑے نہ ہو) جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو اور آرام و سکون اختیار کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 22 (637)، 23 (638)، والجمعة 18 (909)، صحیح مسلم/المساجد 29 (604)، سنن الترمذی/الصلاة 298 (592)، سنن النسائی/الأذان 42 (688)، والإمامة 12 (791)، (تحفة الأشراف: 12106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/304، 307، 308)، سنن الدارمی/الصلاة 47 (1296) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: معلوم ہوا کہ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بھی اقامت کہہ دی جاتی تھی، جب کہ آپ کو پہلے جماعت کا وقت ہونے کی اطلاع دی جاتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (637) صحيح مسلم (604)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ قَدْ خَرَجْتُ إِلَّا مَعْمَرٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، لَمْ يَقُلْ فِيهِ: قَدْ خَرَجْتُ.
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے ”یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے «قد خرجت» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے «قد خرجت» نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 540]
یحییٰ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، انہوں نے کہا کہ: ”(اس وقت تک کھڑے نہ ہو) حتیٰ کہ مجھے دیکھ لو کہ میں گھر میں سے نکل آیا ہوں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ «قد خرجت» کے الفاظ صرف معمر رحمہ اللہ نے روایت کیے ہیں۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے روایت کیا تو اس میں «قد خرجت» کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 12106) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (637) صحيح مسلم (604)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں