🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب إِمَامَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ:" قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا"، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.
ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا“۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لونڈی) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 591]
سیدہ ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے گئے تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے ساتھ جانے کی اجازت دیجیے، میں آپ کے مریضوں کا علاج معالجہ اور خدمت کروں گی اور شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب فرما دے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں ٹھہرو، اللہ تعالیٰ تمہیں شہادت کی موت دے گا۔“ چنانچہ یہ ”شہیدہ“ کے لقب سے پکاری جانے لگی اور انہوں نے قرآن پاک پڑھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن رکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ انہوں نے ایک غلام اور ایک لونڈی کو مدبر بنایا تھا (یعنی اس کی موت کے بعد آزاد ہوں گے)۔ یہ دونوں ایک رات ان کی طرف اٹھے اور ایک چادر سے ان کا منہ بند کر دیا، حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئیں اور خود بھاگ گئے۔ صبح کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جسے ان کے بارے میں کچھ علم ہو یا انہیں دیکھا ہو تو انہیں لے آئے، چنانچہ ان کے بارے میں حکم دیا اور وہ دونوں سولی چڑھا دیے گئے اور یہ مدینہ میں پہلے آدمی تھے جن کو سولی دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/405) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی ولید کی دادی اور عبدالرحمن بن خلاد دونوں مجہول ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہیں، ابن خزیمہ نے حدیث کو صحیح کہا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 3؍142)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1676 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا.
اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 592]
جناب عبدالرحمن بن خلاد سے روایت ہے، انہوں نے سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث بیان کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ اس میں ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ان کے گھر میں ملنے کے لیے آیا کرتے تھے اور ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا تھا جو ان کے لیے اذان دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو) حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کرایا کریں۔“ عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا تھا جو بہت بوڑھا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18364) (حسن)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو حدیث سابق)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. باب الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ
باب: آدمی لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلَاةً: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 593]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تین شخصوں کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی (ایک) وہ شخص جو کسی قوم کے آگے ہو اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، (دوسرا) وہ شخص جو نماز کے لیے جماعت نکل جانے کے بعد دیر سے آتا ہو، اور (تیسرا) وہ شخص جس نے کسی آزاد شخص کو اپنا غلام بنا لیا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 43 (970)، (تحفة الأشراف: 8903) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی عبدالرحمن افریقی اور عمران ضعیف ہیں، مگر اس کا پہلا جزء شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا الشطر الأول فصحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (970)
عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي ضعيف
وعمران بن عبد ٍالمعافري : ضعيف (تقريب : 5160)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. باب إِمَامَةِ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ
باب: نیک اور فاجر کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 594]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14619) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علاء بن حارث مختلط ہو گئے تھے اور مکحول کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مكحول لم يسمع من أبي هريرة رضي اللّٰه عنه كما سيأتي(2533)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. باب إِمَامَةِ الأَعْمَى
باب: نابینا کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 595]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(اپنے سفر غزوہ کے موقع پر) سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا تھا اور یہی لوگوں کو امامت کراتے تھے اور یہ نابینا تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/192) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: نابینے شخص کی امامت بلا کراہت جائز ہے بشرطیکہ اس میں صلاحیت ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1121)
وله شاھد عند ابن حبان (370 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. باب إِمَامَةِ الزَّائِرِ
باب: زائر کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ، فَقَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ".
بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، (ایک بار) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 596]
جناب ابوعطیہ نے بیان کیا کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں اسی جگہ، جہاں ہم نماز پڑھتے ہیں، آیا کرتے تھے۔ چنانچہ نماز کی اقامت کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: ”آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں۔“ انہوں نے کہا: ”کوئی اپنا آدمی آگے کرو جو تمہیں نماز پڑھائے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں اس وقت کیوں نماز نہیں پڑھاتا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو شخص کسی قوم کو ملنے کے لیے جائے تو ان کی امامت نہ کرائے بلکہ انہی میں کا کوئی شخص امامت کرائے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 148 (356)، سنن النسائی/الإمامة 9 (788)، (تحفة الأشراف: 11186)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/436)، (صحیح)» ‏‏‏‏ (مالک بن حویرث کے قصہ کے بغیر حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اگر خوشی و رضا مندی سے لوگ زائر کو امام بنانا چاہیں اور وہ امامت کا مستحق بھی ہو تو اس کا امام بننا جائز ہے، کیونکہ ابومسعود کی ایک روایت میں «إلا بإذنه» کا اضافہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1120)
أبو عطية: حسن الحديث، وثقه ابن خزيمة (1520) والترمذي (356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. باب الإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ
باب: امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي.
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن (کوفہ کے پاس ایک شہر ہے) میں ایک چبوترہ (اونچی جگہ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی (اور لوگ نیچے تھے)، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں (نیچے) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 597]
جناب ہمام سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کرا رہے تھے کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو قمیص سے پکڑ کر کھینچ لیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ لوگوں کو اس سے منع کیا جاتا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تو مجھے بھی یاد آ گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3388) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ"، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، قَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَيَّ.
عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 598]
جناب عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ وہ مدائن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ نماز کی اقامت کہی گئی تو عمار رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے جبکہ دوسرے لوگ ان سے نیچے تھے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پیچھے ہٹتے آئے حتیٰ کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نیچے اتار دیا۔ جب عمار رضی اللہ عنہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جب کوئی امامت کرائے تو دوسرے لوگوں سے اونچا کھڑا نہ ہو۔“ یا کچھ ایسے ہی فرمایا۔“ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اسی لیے تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹ آیا تھا جب آپ نے میرے ہاتھ پکڑے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3396) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کا جتنا حصہ پچھلی حدیث کے موافق ہے اتنا اس سے تقویت پاکر درجہ حسن تک پہنچ جاتا ہے باقی باتیں سند میں ایک مجہول راوی (رجل) کے سبب ضعیف ہیں اس میں امام عمار رضی اللہ عنہ کو اور کھینچنے والا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بنا دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو خالد والرجل الذي حدث عدي بن ثابت : مجهولان لا يعرفان أصلاً،انظر تقريب التهذيب (8075)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. باب إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلاَةَ
باب: جو شخص نماز پڑھ چکا ہو کیا وہ وہی نماز دوسروں کو پڑھا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 599]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور انہیں وہی نماز پڑھاتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2391)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (700)، والأدب 74 (6106)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، والافتتاح 63 (985)، 70 (998)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 48 (986)، مسند احمد (3/ 299، 308، 369)، سنن الدارمی/ الصلاة 65 (1333)، ویأتي برقم: (790) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (مؤلف کی سند سے حسن صحیح ہے ورنہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست اور صحیح ہے کیونکہ معاذ رضی اللہ عنہ فرض نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، اور واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، معاذ رضی اللہ عنہ کی دوسری نماز نفل ہوتی اور مقتدیوں کی فرض ہوتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 600]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو امامت کراتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة (36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 41 (836)، (تحفة الأشراف: 2533) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (700، 701) صحيح مسلم (465)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں