سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْحَسَنِ هُوَ مُهَاجِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ الظُّهْرَ، فَقَالَ: أَبْرِدْ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: أَبْرِدْ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، مؤذن نے ظہر کی اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ظہر) ٹھنڈی کر لو“، پھر اس نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈی کر لو“، اسی طرح دو یا تین بار فرمایا یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے سے ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 401]
جناب زید بن وہب کہتے تھے، میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈک ہونے دو۔“ اس نے پھر اذان کہنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈک ہونے دو۔“ دو دفعہ یا تین دفعہ یہی ہوا، حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے، پھر فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔ جب گرمی شدید ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 9 (535)، صحیح مسلم/المساجد 32 (616)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (158)، (تحفة الأشراف: 11914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/155، 162، 176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (535) صحيح مسلم (616)
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ"، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، (ابن موہب کی روایت میں «فأبردوا عن الصلاة» کے بجائے «فأبردوا بالصلاة» ہے)، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 402]
جناب سعید بن مسیب اور ابوسلمہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی شدید ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔“ ابن موہب (یعنی یزید بن خالد) کے الفاظ «عَنِ الصَّلَاةِ» کی بجائے «بِالصَّلَاةِ» تھے۔ ”تحقیق گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 9 (536)، صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن النسائی/المواقیت 4 (501)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 4 (678)، (تحفة الأشراف: 13226، 15237)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (28،29)، مسند احمد (2/229، 238، 256، 266، 348، 377، 393، 400، 411)، سنن الدارمی/الصلاة 14 (1243)، الرقاق 119 (2887) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی میں لینا زیادہ صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم کی (متفق علیہ) حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ نے اللہ رب العزت سے شکایت کی کہ میرے بعض حصے گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں، تو اللہ رب العزت نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک جاڑے کے موسم میں، اور ایک گرمی کے موسم میں، جہنم جاڑے میں سانس اندر کو لیتی ہے، اور گرمی میں باہر کو، اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنا جلدی پڑھنے سے بہتر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک مثل کے بعد پڑھے، اس سے مقصود صرف اتنا ہے کہ بہ نسبت دوپہر کے کچھ ٹھنڈک ہو جائے اور جب سورج زیادہ ڈھل جاتا ہے تو دوپہر کی بہ نسبت کچھ ٹھنڈک آ ہی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (536) صحيح مسلم (615)
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،" أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 403]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب سورج ڈھل جاتا تھا تو بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان کہتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2149)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 33 (618)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 3 (673)، مسند احمد (5/106) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم
5. باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا (عصر پڑھ کر) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 404]
ابن شہاب، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے جبکہ سورج سفید، اونچا اور زندہ ہوتا تھا۔ اور جانے والا بالائے مدینہ (کی آبادی) کی طرف جاتا اور سورج اونچا ہوتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن النسائی/المواقیت 7 (508)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 13 (550)، والاعتصام 16 (7329)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(11)، مسند احمد (3/223)، سنن الدارمی/الصلاة 15 (1244) (صحیح)»
وضاحت: یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں عصر پڑھ لیا کرتے تھے جس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ ایک مثل سایہ سے عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ سورج زندہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس کی گرمی و حرارت محسوس کریں۔ مدینہ کے جنوب مشرق کی جانب کی آبادیوں کو «عوالی» (بالائی علاقے) اور شمال کی جانب کے علاقے کو «سافلہ» (نشیبی علاقہ) کہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (621)
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: أَوْ أَرْبَعَةٍ.
زہری کا بیان ہے کہ عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 405]
زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”بالائے مدینہ کی آبادیاں دو یا تین میل تک ہوتی تھیں“ اور کہا: ”میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ یا چار میل تک ہوتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19378) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا.
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
جناب خثیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”سورج زندہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس کی گرمی و حرارت محسوس کریں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18618) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
جناب عروہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو ”دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی اور دیوار پر نہ چڑھی ہوتی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (544)، والخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، (تحفة الأشراف: 16596)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 6 (109)، سنن النسائی/المواقیت 7 (506)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (683)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(2) (صحیح)»
وضاحت: حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوار پر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں نماز عصر پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (522) صحيح مسلم (611)
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ:" قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
جناب یزید بن عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان اپنے والد سے، وہ اپنے دادا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو (دیکھا کہ) آپ عصر کو مؤخر کرتے تھے جب تک کہ سورج سفید اور صاف ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 10019) (ضعیف)» (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن يزيد اليمامي وشيخه يزيد بن عبد الرحمٰن: مجهولان (تقريب: 6404،7747)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
إسناده ضعيف
محمد بن يزيد اليمامي وشيخه يزيد بن عبد الرحمٰن: مجهولان (تقريب: 6404،7747)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ”ہم کو انہوں نے (یعنی کافروں نے) نماز وسطیٰ (یعنی عصر) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
جناب محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ عبیدہ رحمہ اللہ سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق والے دن کہا: ”ان لوگوں نے ہمیں درمیانی (یا افضل) نماز، نمازِ عصر سے روکے رکھا، «مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا» ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 98 (2931)، والمغازي 29 (4111)، وتفسیر البقرة (4533)، والدعوات 58 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، 36 (627)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 42 (2984)، سنن النسائی/الصلاة 14 (474)، (تحفة الأشراف: 10232)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (684)، مسند احمد (1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1286) (صحیح)»
وضاحت: یہ حدیث آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”نمازوں کی محافظت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ“۔ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم و شفیق شخصیت کی زبان مبارک سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ نماز کا بروقت ادا کرنا کتنا اہم ہے ہمیں بھی ہر نماز بروقت ادا کرنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2931) صحيح مسلم (627)
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهُ قَالَ:" أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0، ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ۲؎، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 410]
جناب ابو یونس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ انہیں قرآن مجید لکھ دوں اور فرمایا: ”جب تم آیت کریمہ ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتلانا۔“ چنانچہ جب میں اس آیت کریمہ پر پہنچا تو انہیں خبر دی۔ تو انہوں نے مجھے یہ آیت اس طرح لکھوائی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ ”نمازوں کی پابندی کرو اور درمیانی نماز (یا افضل) نماز عصر کی، اور اللہ کے لیے با ادب ہو کر کھڑے ہوؤ۔“ پھر انہوں نے کہا: ”میں نے یہ (آیت ان الفاظ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 36 (629)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2982)، سنن النسائی/الصلاة 14 (473)، (تحفة الأشراف: 17809)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (25)، مسند احمد (6/73) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز وسطیٰ (درمیانی نماز) نماز عصر نہیں کوئی اور نماز ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے اس سے استدلال صحیح نہیں، یا یہ عطف عطف تفسیری ہے۔
۲؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔
۲؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ثم
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (629)