الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9055
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَنِي وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَنِي أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9055]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6700»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مدد گار ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9056]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7979»
وضاحت: فوائد: … گرم راکھ چبوانے کامطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس برتاؤ کی وجہ سے گویا شدید نفسیاتی اور معاشرتی تکلیف سے دو چار کرنے کا انداز ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9057
عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9057]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27980»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9058
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 1/ 397،و الطبراني في الكبير: 3126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15394»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9059
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9059]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 4015، وفي الاوسط: 3303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23927»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9060
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5983، ومسلم: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23935»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9061
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9061]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2355، والترمذي: 658، وابن ماجه: 1844، والنسائي: 5/ 92، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18029»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9062
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا: جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9062]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا ابو يعلي: 4530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»
وضاحت: فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سےیوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَفَالَةِ الْيَتیْمِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ، وَمَسْحٍ رَأْسِهِ وَالشَّهْرِ عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے¤اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9063
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ إِذَا اتَّقَى اللَّهَ وَأَشَارَ مَالِكٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9063]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8868»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9064
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9064]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20597»
الحكم على الحديث: صحیح