🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9045
۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ رضی اللہ عنہ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ( (مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ،یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰی یُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔) )
۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9045]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن ابي حميد الانصاري المدني، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26516 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9046
۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہُ قَالَ: ( (مَنْ کَانَ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلٰی لَاْوَائِھِنَّ وَضَرَّائِھِنَّ، وَسَرَّائِھِنَّ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُنَّ۔) ) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ ثِنْتَانِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ( (اَوْ ثِنْتَانِ۔) ) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ وَاحِدَۃٌ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قال: ( (اَوْ وَاحِدَۃٌ۔) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگدستی اور خوشحالی پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ ان بچیوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ اس نے پھر کہا: اور اگر ایک ہو اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک بھی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9046]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 176، وابن ابي شيبة: 8/ 552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8425 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9047
۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا، اِنَّ امْرَاَۃً دَخَلَتْ عَلَیْھَا، ومَعَھَا اِبْنَتَانِ لَہَا، قَالَتْ: فَاَعْطَیْتُھَا تَمْرَۃً فَشَقَّتْھَا بَیْنَھُمَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ( (مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ فَاَحَسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میں نے اس کو ایک کھجور دی اور اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیا، پھر جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا، لیکن اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9047]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1418، ومسلم: 2629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24055 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9048
۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّھَا قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ مِسْکِیْنَۃٌ تَحْمِلُ ابْنَتَیْنِ لَھَا، فَاَطْعَمْتُھَا ثَـلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُمَا تَمْرَۃً، وَرَفَعَتْ اِلٰی فِیْھَا تَمْرَۃً لِتَاْکُلَھَا، فَاسْتَطْعَمَتْھَا ابْنَتَاھَا فَشَقَّتِ التَّمْرَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ تُرِیْدُ اَنْ تَاْکُلَھَا بَیْنَہُمَا، قَالَتْ: فَاَعْجَبَنِیْ شَاْنُھَا، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ الَّذِیْ صَنَعَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ( (اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ وَاَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ۔) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی، اس نے دو بچیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور ایک خود کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھائی، لیکن اس کی دونوں بیٹیوں نے وہ کھجور بھی ا س سے لینا چاہی، پس اس نے اس کھجور کے ٹکڑے کیے اور ان دونوں کو دے دیے، مجھے اس کی اس کاروائی نے تعجب میں ڈال دیا اور جب میں نے اس کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ہے اور جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9048]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24611 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! اگر بچیاںیا بہنیں مل جائیں تو جنت کو حاصل کرنا کتنا آسان ہو جاتا ہے۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ان کا رحمت ہونے کااس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ باپ ان کے ساتھ حسن صحبت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلا شک و شبہ ہر معاشرے میں اور ہر دور میں بیٹوں کی تمنائیں کی جاتی رہیں، لیکن اگر ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنی تمنا سے زیادہ حکمت و دانائی والا سمجھ کر بیٹیوں پر مکمل رضامندی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔
ہاںیہ علیحدہ بات ہے کہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹیوں کا اتنا لحاظ نہ کیا جائے کہ انھیں وقت ضائع کرنے کے لیے اور ان کے طبعی شرم و حیا کو متاثر کرنے کے لیے انٹر نیٹ، کیبل نیٹ ورک، وی سی آر، موبائل اور سی ڈی پلیرکی صورت میں بے حیائی کے تمام مواقع مہیا کئے جائیں۔ والدین کا امتیاز اس میں ہے ان کی بیٹیاں نیکی و پارسائی اور تقوی وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں۔
اگریہ ایجادات کسی بچی کی ضرورت بن جائیں تو اس کی تربیت کرنا، اس کے نقصان دہ پہلو سے اس کو آگاہ کرنا اور حسب ِ استطاعت اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے، کوئی مانے یا مانے نیٹ لیکنیہ حقیقت ہے کہ موبائل کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9049
۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ( (مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9049]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البزار: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1213 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … ایک طرف تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَائَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} … اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۳۴)
دوسری طرف یہ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ تقوی اور صلہ رحمی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے، جمع و تطبیق کی درج ذیل دو صورتیں ہیں:
۱۔ عمر کی زیادتی سے مراد بابرکت زندگی ہے، یعنی تقوی اختیار کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا مسلمان اپنی مختصر زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی اطاعت کے اتنے امور سرانجام دے لیتا ہے کہ عام لوگ اتنا کچھ کر سکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
۲۔ زیادتی سے مراد زیادتی ہی ہے، لیکن اس کا تعلق عمر سے متعلقہ فرشتے سے ہے، یعنی اس فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں آدمی صلہ رحمی اختیار کرے تو اس کی عمر نوے برس ہو گی، وگرنہ ساٹھ برس، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس بندے نے صلہ رحمی اختیار کرنی ہے یا نہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9050
۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِثْلُہُ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9050]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13401 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9051
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9051]

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9052
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْشَأَةٌ فِي أَثَرِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9052]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8855»
وضاحت: فوائد: … نسب کے علم کے ذریعے ہی پتہ چلے گا کہ کون قریبی رشتہ دار ہے اور کون دور کا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَالرَّحِمُ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9053]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6494»
وضاحت: فوائد: … آسمانوں والوں سے مراد فرشتے ہیں اور ان کی رحمت سے مقصود رحمت کی دعا کرنا ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9054
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمایہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/539، وابن حبان: 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6524»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِی وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِی قَطَعَہُ اللّٰہُ)) … رشتہ داری عرش کے ساتھ معلق ہے اور وہ کہتی ہیں: جس نے مجھے ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے اور جس نے مجھے توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے۔ (صحیح مسلم: ۴۶۳۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں