الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ وَتَوَكَّلِهِ ﷺ وَطَهَارَةِ قَلْبِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
حدیث نمبر: 11210
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دور رضاعی مائیں ہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11210]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12126»
وضاحت: فوائد: … سید الاوّلین والآخرین نے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے لوہار کے گھر بھیج دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوہار کے گھر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہی بندگی ہے، یہی بندگی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَقَالَ لَهُ لَا تُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عینیہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے، جب انھوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے، تو کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بچے کو بوسہ نہ دیں، میرے تو دس بچے پیدا ہوئے ہیں، میں نے ان میں سے ایک کو بھیبوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11211]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5997،ومسلم: 2318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7121»
وضاحت: فوائد: … بندے کو نرم دل اور شفقت کرنے والا ہونا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفقت و رافت سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11212
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ ”إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی طور پر نہیں، بلکہ برسر عام فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک ابی فلاں کی آل میرے اولیاء نہیںہیں،میرے اولیاء تو اللہ تعالیٰ اور نیک مومن ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11212]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5990، ومسلم: 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17957»
وضاحت: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی طور پر نہیں، بلکہ برسر عام فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک ابی فلاں کی آل میرے اولیاء نہیںہیں،میرے اولیاء تو اللہ تعالیٰ اور نیک مومن ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11213
عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالُوا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمْتُ فَقُلْتُ أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ ”أَحْسَنْتِ“
یحییٰ بن جزار کہتے ہیں: کہ کچھ صحابہ کرام نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دارانہ امور کے بارے ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے، پھر انہیں اپنی اس بات پر ندامت ہوئی اور انھوں نے کہا: میں نے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رازفاش کر دیا ہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11213]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد ان صح سماع يحيي بن الجزار من الصحابة الذي ابھمھم، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27172»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے اندر راز دارانہ اور مخفی امور اور گھر سے باہر لوگوں کے سامنے انجام دیئے گئے اعلانیہ امور، دونوں ہی امت ِ مسلمہ کے لیے حجت ہیں، امہات المؤمنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان امور کا علم ہو گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے اندر سرانجام دیتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11214
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَنَادَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَدْرُونَ مَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ قَوْمٍ خَافُوا عَدُوًّا يَأْتِيهِمْ فَبَعَثُوا رَجُلًا يَتَرَاءَى لَهُمْ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ أَبْصَرَ الْعَدُوَّ فَأَقْبَلَ لِيُنْذِرَهُمْ وَخَشِيَ أَنْ يُدْرِكَهُ الْعَدُوُّ قَبْلَ أَنْ يُنْذِرَ قَوْمَهُ فَأَهْوَى بِثَوْبِهِ أَيُّهَا النَّاسُ أُوتِيتُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أُوتِيتُمْ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار پکار کر فرمایا: لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور تمہاری مثال ان لوگوں کی سی ہے جو اپنے اوپر حملہ آور دشمن سے خائف ہوںتو وہ کسی کو صورت احوال معلوم کرنے کے لیے بھیجیں، ابھی وہ ادھر جاہی رہا ہو کہ دشمن کو دیکھ لے، وہ قوم کو متنبہ کرنے کے لیے واپس لوٹے اور اسے ڈر ہو کہ اس کے قوم کے پاس پہنچنے سے اور خبر دار کرنے سے پہلے ہی دشمن اس کی قوم تک نہ پہنچ جائے، پس وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر کہے: لوگو! دشمن آگیا، دشمن تمہارے سرپر چڑھ آیا، (سنبھل جاؤ)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11214]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23336»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب اور بندے کو اس کی ناکامی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي زُهْدِهِ ﷺ فِي الدُّنْيَا بَعْدَ عَرَضِهَا عَلَيْهِ وَقَنَعِهِ بِالْقَلِيلِ مِنْهَا
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
حدیث نمبر: 11215
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو۔۔۔۔۔۔۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11215]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22543»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا فاَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَھُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلَی حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ الْحَصِیْرُ بِظَھْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کِسْرٰییَشْرَبُوْنَ فِی الذِّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَاَنْتَ ھٰکَذَا فَقَالَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّھُمْ عُجِّلَتْ لَھُمْ طَیِّبَاتُھُمْ فِی حَیَاتِھِمِ الدُّنْیَا)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
(مسند احمد: ۷۹۵۰، مسند بزار: ۳۶۷۶)
گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج مثال پر غور کریں:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنَ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
(مسند احمد: ۷۹۵۰، مسند بزار: ۳۶۷۶)
گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج مثال پر غور کریں:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنَ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11216
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحیی کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتاتھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11216]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17970»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11216M
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
۔(دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11216M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17925»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11217
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ“ إِنْ كَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ کو آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سونا بنا دیا جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو میں دو دینار بھی چھوڑ کر مروں،الایہ کہ ادائے قرض کے لیے دو دینار چھوڑ جاؤں تو الگ بات ہے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینار، درہم، غلام یا لونڈی وغیرہ چھوڑ کر نہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک زرہ چھوڑ کر دینا سے رخصت ہوئے، وہ بھی تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جو اہل خانہ کی خوراک کے لیے حاصل کیے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11217]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه الترمذي: 1214، والنسائي: 7/ 303، وابن ماجه: 2439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2109»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11218
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّيَادِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقٍ“ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ نَعَمْ
مالک بن عبداللہ زیادی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، انھوں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے کعب! عبدالرحمن کافی مال چھوڑ کر انتقال کر گئے ہیں۔ اس بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر وہ اس مال سے اللہ کے حقوق ادا کرتے تھے پھر تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنی لاٹھی اٹھا کر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو ماری اور کہا: میں نے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میںتویہ بھی پسند نہیں کرتا کہ یہ احد کا پہاڑ سونے کا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور میرا وہ صدقہ اللہ کے ہاں مقبول ہو اور میں اپنے لیے اس میں سے صرف چھ اوقیہ سونا باقی چھوڑ جاؤں۔ اے عثمان! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے رسول سے یہ حدیث سنی ہے؟ (یہ بات سیدناابو ذر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ دہرائی)، بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11218]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، وجھالة مالك بن عبد الله الزيادي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 453»
الحكم على الحديث: ضعیف