الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
حدیث نمبر: 11229
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ فِي ظِلِّ دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ أَمْشِي خَلْفَهُ فَقَالَ ادْنُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ أُمِّ سَلَمَةَ أَوْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ وَعَلَيْهَا الْحِجَابُ فَقَالَ أَعِنْدَكُمْ غَدَاءٌ فَقَالُوا نَعَمْ فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى نَقِيٍّ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ أُدُمٍ فَقَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ هَاتُوهُ فَأَتَوْهُ بِهِ فَأَخَذَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقُرْصًا بَيْنَ يَدَيَّ وَكَسَرَ الثَّالِثَ بِاثْنَيْنِ فَوَضَعَ نِصْفًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفًا بَيْنَ يَدَيَّ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے گھر کے سائے میں بیٹھا تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میں لپک کر آپ کی طرف گیا اور آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب آجاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا،یہاں تک کہ آپ اپنی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر چلے گئے اور پھر مجھے بھی اندر آنے کی اجازت دے دی۔ میں اندر گیا تو وہ پردہ میں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تین روٹیاں پیش کی گئیں اور ان کو دستر خوان پر رکھ دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کوئی سالن ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ سر کے کے علاوہ تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ۔ پس انہوں نے وہی پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے اور ایک میرے سامنے رکھی اور تیسری کے دو ٹکڑے کرکے ایک اپنے اور ایک میرے سامنے رکھ دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11229]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15124»
وضاحت: فوائد: … میزبانی کا یہ سادہ سا انداز تھا، لیکن اس میں جو کچھ ہوتا تھا، وہ بلا تکلف پیش کر دیا جاتا تھا، یہی برکت ہے، یہی سعادت ہے۔ کاش ہم بھی ذاتی معرفت کے بغیر مہمان کی قدر و قیمت کو سمجھ جاتے اور حسب ِ استطاعت اس کی میزبانی کا حق ادا کرتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2052
حدیث نمبر: 11230
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ ابْنِ عَابِدٍ الْمَرْزُبَانِ فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفَلِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ قَالَ فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ فَسَأَلَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے دن ابن عابد مرزبان کی تلوار مجھے ملی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ مجاہدین کے پاس جو جو چیز ہے وہ واپس کر دیں،تو میں وہ تلوار لے آیا اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز طلب کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکار نہ فرماتے تھے۔سیدنا ارقم بن ابی ارقم مخزومی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو پہچان لیااور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ مانگ لی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اسی کو عطا فرما دی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11230]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وله اسنادان، الاسناد الاول منقطع، لان عبد الله بن ابي بكر لم يدرك ابا اسيد، والاسناد الثاني ضعيف لابھام الراوي عن ابي اسيد، ووالد يعقوب لم يسمع ھذا الحديث من ابن اسحاق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16153»
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف
حدیث نمبر: 11231
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ مانگنے کے لیے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دوپہاڑوں کے درمیان وادی میں جتنی بکریاں تھیں، وہ سب اس کو دے دیں، اس نے اپنی قوم سے جا کر کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ وہ فقر و فاقہ کی بھی پروا نہیں کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہونے آتا اور اس کا مقصد حصول دنیا ہی ہوتا، شام ہونے سے پہلے پہلے دین اس کی نظر میں دنیا بھر کی دولت سے بھی بڑھ کر عزیز تر اور محبوب تر ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11231]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12821»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کا مقصد یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں سخاوت، سماحت، انس اور تالیف قلبی ہے، اس لیےیہی دین اختیار کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2312
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي شُجَاعَتِهِ ﷺ وَوَفَائِهِ بِالْعَهْدِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
حدیث نمبر: 11232
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا قَدِ اسْتَبْرَأَ لَهُمُ الصَّوْتَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا وَقَالَ لِلْفَرَسِ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ قَالَ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ حسین و جمیل، سب سے بڑھ کر سخی اور بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ کسی وجہ سے گھبرا گئے اور خوف زدہ سے ہوگئے، لوگ صورت حال معلوم کرنے کے لیے جس سمت سے آواز آئی تھی، اُدھر روانہ ہو گئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اُدھر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار تھے، وہ ننگا تھا، اس پر زین نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آنے والی آواز کا جائزہ لے کر آرہے تھے، آپ کی گردن میں تلوار تھی اور آپ بآواز بلند لوگوں سے فرما رہے تھے: گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر کی طرح پایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس سے قبل یہ گھوڑا انتہائی سست رفتار تھا، اس کے بعد وہ کبھی دوسرے گھوڑوں سے پیچھے نہ رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2820، 2866،ومسلم: 2307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12522»
وضاحت: فوائد: … سمندر کی طرح پایا ہے، تشبیہ کی دو وجوہات کے لحاظ سے ہو سکتی ہیں: (۱) جیسے سمندر کا پانی ختم نہیں ہوتا، اس طرح یہ گھوڑا رکتا اور تھکتا نہیں ہے، بلکہ مسلسل چلتا رہتا ہے، اور (۲) اس کے چلنے میں وسعت ہے، جیسے سمندر کا پانی وسیع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از حد بہادر، جری اور دلیر تھے، جرأت و شجاعت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے توکل پر ہے، جبکہ یہ صفت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بدرجۂ اتم و اکمل پائی جاتی تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2820
حدیث نمبر: 11233
عَنْ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف کی صورت حال تھی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ہمارا مندوب نامی گھوڑا عاریۃً لیا اور واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے خوف کی کوئی بات نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12882»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12882
حدیث نمبر: 11234
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ نَاسًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ بنو قیس کے ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرار نہیں ہو ئے تھے، دراصل بنو ہوازن ماہر تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ تتر بترہو گئے۔ ہم اموالِ غنیمت جمع کرنے لگے، انہوں نے تیروں کے ذریعے ہمارا سامنا کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ کو تھامے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رجز کہتے جاتے تھے۔ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11234]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2864، 4317، ومسلم: 1776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18667»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۰۴) والا باب۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2864
حدیث نمبر: 11235
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوۂ بدر کے دن جب معرکہ بپا ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے پناہ ڈھونڈنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے قوی بہادر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ مشرکین کے قریب ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11235]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابويعلي: 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1042»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11236
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
۔(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے صحابہ کو بدر کے دن دیکھا کہ ہم اللہ کے رسول کے ذریعے پناہ ڈھونڈھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب سے زیادہ مشرکین کے قریب تھے اور آپ نے اس دن سب سے بڑھ کر لڑائی لڑی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11236]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 654»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 654
حدیث نمبر: 11237
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کے پاس لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں۔ تم لوٹ جاؤ اور اگر دل میں وہی (قبولیتِ اسلام کی چاہت) رہی، جو اب ہے تو لوٹ آنا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11237]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24358»
وضاحت: فوائد: … مسلمان اور کافر، دونوں سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقامِ حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ سے طے پانے والے معاہدے کا لحاظ کیا اور سیدنا ابو رافع کو واپس کر دیا۔ سنن ابی داود میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق چلے گئے تھے، بعد میں آ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسلام، کافروںکے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی کس قدر پاسداری کا قائل ہے، مسلمان کی شان کا اندازہ خود لگا لینا چاہیے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلامِهِ ﷺ وَصَمْتِهِ وَمَزَاحِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
حدیث نمبر: 11238
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوتی تھی کہ اسے ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3567،ومسلم: 2493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25591»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگ گفتگو کرتے وقت اتنا رک رک کر بولتے ہیں کہ سامعین اکتاہٹ اور بوریت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیز تیز نہ بولنے سے مراد اس طرح رک رک کر بولنا نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو میں اعتدال ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لفظوں کو جلد بازی سے ادا کرتے تھے کہ ان میں التباس پیدا ہو جائے اور نہ اتنا ٹھہر ٹھہر کو بولتے تھے کہ سامعین کو اگلے کلمے کا انتظار رہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3567