الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11200
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قُومُوا بِنَا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَامُ إِلَيَّ إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ اٹھو تاکہ اس منافق کے بارے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد حاصل کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدد طلب کرنے کے لیے میرا ارادہ نہیں کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولابھام الراوي عن عبادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23082»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ یہ منافق، صحابۂ کرام کو اذیت پہنچاتا ہو، اس حدیث میں کھڑا ہونے کا مقصد مدد طلب کرنا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی متواضع اور منکسرالمزاج شخصیت کے حامل تھے، آپ اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہوتے تھے، بلکہ اپنی تعریف میں مبالغہ سن کر تعریف کرنے والے کو منع فرماتے اور کہتے کہ میں تو محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي حِلْمِهِ وَعَفْوِهِ وَحَيَاتِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بردباری، معافی اور حیاء کا بیان
حدیث نمبر: 11201
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ النَّاسُ هَلَكُوا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ قبیلہ دوس اللہ کا نافرمان ہے اور انہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بددعا فرمائیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کر لیا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شروع کی، لوگوں نے سوچا کہ اب قبیلۂ دوس تباہ ہو جائے گا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بد دعا کرنے لگے ہیں)۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت عطا فرما، اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ،یا اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11201]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2937، 6397،ومسلم: 2524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7313»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دشمنوں کے لیے رشد و ہدایت کی دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت کی وجہ سے یہ قبیلہ مسلمان ہو گیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11202
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ فَحَبَسَهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يَقُولُ؟“ قَالَ فَجَعَلْتُ أُعَرِّضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا فَيَدْعُوَ عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا أَبَدًا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهِ حَتَّى فَهِمَهَا فَقَالَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهَا مِنْهُمْ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری قوم کے کچھ لوگ تہمت کے جرم میں پکڑ کر قید کر دئیے، پھر ہماری قوم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے محمد! آپ نے میرے پڑوسیوں کو قید کیوں کر رکھا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خاموشی اختیار کی، وہ پھر کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شر سے منع کرتے ہیں، جبکہ آپ تو شرّ پھیلا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا کہتا ہے؟ سیدنا معاویہ کہتے ہیں:میں نے دونوں کے درمیان بات کو واضح نہ ہونے دیا، ڈر یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سن لیں اورمیری قوم پر بددعا کر دیں، پھر میری قوم کبھی بھی فلاں نہیں پا سکے گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ لگے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کوسمجھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ان لوگوں نے یہ تہمت والی بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں وہ کام کر دوں، جس سے میں نے منع کیا ہے، تو اس کا بوجھ مجھ پر ہو گا، تم اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11202]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3630، والترمذي: 1417، والنسائي: 8/ 66، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20268»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم کی کہ معاملہ واضح ہونے تک متعلقہ افراد کو قید کرنا جائز ہے، دراصل یہ کوئی سزا نہیں ہے، بلکہ جرم کی تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ فرد مجرم ہے یا نہیں اور اس کا جرم حد یا تعزیر کے قابل ہے یا نہیں، اس لیے اس قید کے دوران کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، دیکھیں حدیث نمبر (۶۷۹۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11203
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْرَائِيلَ قَالَ سَمِعْتُ جَعْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى رَجُلًا سَمِينًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُومِئُ إِلَى بَطْنِهِ بِيَدِهِ وَيَقُولُ ”لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ“ قَالَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ فَقَالُوا هَذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَمْ تُرَعْ لَمْ تُرَعْ وَلَوْ أَرَدْتَ ذَلِكَ لَمْ يُسَلِّطْكَ اللَّهُ عَلَيَّ“
سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا تو آپ اپنے ہاتھ سے اس کے بطن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ موٹاپا پیٹ کی بجائے کسی دوسرے حصہ میں ہوتا تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ جعدہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ڈرو نہیں، خوف زدہ مت ہو، اگر تم نے مجھے قتل کرنے کا پرورگرام بنایا تھا،تو اللہ تعالیٰ نے تجھے مجھ پر مسلط نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11203]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو اسرائيل، اخرجه القصة الاولي الطبراني في الكبير: 2185، والحاكم: 4/ 121، وأخرجه القصة الثانية النسائي في الكبري: 10903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15962»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11204
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَعْدَةَ وَهُوَ مَوْلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ يَقُصُّ عَلَيْهِ رُؤْيَا وَذَكَرَ سِمَنَهُ وَعِظَمَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا كَانَ خَيْرًا لَكَ“
سیدنا جعدہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو آپ سے اپنا خواب بیان کر رہا تھا،اور راوی نے اس کے موٹاپے کو بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا:اگر یہ اس کے علاوہ میں ہوتا تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11204]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15964»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11205
حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ“ فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نجد کی جانب ایک غزوہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس ہوئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بھی لوگوں کے ساتھ واپس آئے، واپسی پر دوران سفر قافلہ ایک ایسی وادی میں ٹھہرا جہاں خاردار درخت بکثرت تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ نزول فرما ہوئے اور لوگ خاردار درختوں کے نیچے سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اپنی اپنی جگہ جا کر سو گئے، اتنے میں ہم نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں پکار رہے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبآئے تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک بدو بیٹھا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، اس نے آکر میری تلوار سونت لی، میں بیدارہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں لہرا رہی تھی،یہ کہنے لگا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ تو میں نے کہا، مجھے تیرے شرسے اللہ بچائے گا، اس نے پھر کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہاکہ اللہ تعالی۔ اس نے تلوار کو واپس نیام میں رکھ دیا اور بیٹھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ نہ کہا حالانکہ وہ اتنا بڑا کام کر چکا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11205]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2910، 4139، ومسلم: ص 1786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14387»
وضاحت: فوائد: … اس قدر برے فعل کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11206
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عادۃًیا تکلفاً بد کلام نہ تھے، نہ ہی بازاروں میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھی، نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، لیکن معاف فرما دیتے اور در گزر فرما دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11206]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25931»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11207
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی بات نا پسند ہوتی تو اسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے پہچان لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11207]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3562، 6102،ومسلم: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11884»
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ وَتَوَكَّلِهِ ﷺ وَطَهَارَةِ قَلْبِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
حدیث نمبر: 11208
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَائِضِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بعض کام ایسے ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر دائمی عمل کرنا چاہتے تو تھے، لیکن محض اس لیے اسے ترک کر دیتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور اللہ کی طرف سے اسے ان پر فرض ہی کر دیا جائے، اللہ کے فرائض میں سے لوگوں پر جو تخفیف کر دی جاتی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11208]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1128، ومسلم: 718، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24557»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ لوگ کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن ان کو مشقت بھی نہ کرنا پڑے، حقیقت ِ حال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری کی ساری شریعت آسانی پر مشتمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11209
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ فَانْتَقَمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ بِأَيْسَرِهِمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَأْثَمًا فَإِنْ كَانَ مَأْثَمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا اہلیہ کو کبھی نہیں مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد کے علاوہ کبھی بھی کسی کو اپنے ہاتھ سے ضرب نہیں لگائی اور اگر کسی نے کبھی آپ سے کوئی بد سلوکی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اس کا بدلہ نہیں لیا، الایہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پامالی ہوتی ہو اور جب بھی آپ کو دو سے کسی ایک بات کو منتخب کرنے کی پیش کش کی جاتی اور ان میں سے ایک صورت دوسری کی نسبت آسان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں میں سے اس کا انتخاب کرتے جو زیادہ آسان ہوتی، الایہ کہ کوئی گناہ کی بات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا انتخاب نہ فرماتے، اگر وہ بات گناہ والی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11209]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24535»
الحكم على الحديث: صحیح