🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلامِهِ ﷺ وَصَمْتِهِ وَمَزَاحِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11239
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا يَتَبَسَّمُ
سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے، صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اشعار اور اپنے امور سے متعلقہ باتوں کا ذکر کر کے ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات تبسم فرماتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 670، 2322، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21095»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ عام دنیوی قانون یہی ہے کہ وہی سربراہ اپنی عوام کے ہاں معزز قرار پاتا ہے، جو کم از کم سنجیدہ اور باوقار ہو، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت و سربراہیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کا اندازہ ہو جانا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہمیشہ موڈ میں رہتے تھے اور نہ مکمل گھل مل کر ہر خوشی اور لطف اندوزی کے معاملے میں شریک ہوتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11240
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11240]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البيھقي: 10/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8462»
وضاحت: فوائد: … اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا:
أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11241
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْمَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4998، والترمذي: 1991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13853»
وضاحت: فوائد: … مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۹۱۰) والا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11242
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ وہ اپنے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11242]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 3443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23567»
وضاحت: فوائد: … ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔ خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔
دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11243
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ شَاةً طُبِخَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ قَالَ ”أَمَّا إِنَّكَ لَوْ الْتَمَسْتَهَا لَوَجَدْتَهَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بکری کا گوشت پکایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ذراع (اگلی ٹانگ)کا گوشت لا دو۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لادی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دوسری اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ انہوں نے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لا کر دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے اس کی اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ اب کی بار سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی اگلی تو دوہی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر تم تلاش کرتے تو تمہیں اور بھی مل جاتی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11243]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد،اخرجه ابن حبان: 6484، والنسائي في الكبري: 6659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10717»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صُنِعَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَاۃٌ مَصْلِیَّۃٌ فَأُتِیَ بِہَا فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ فَقَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلشَّاۃِ إِلَّا ذِرَاعَانِ، فَقَالَ: ((لَوْ سَکَتَّ لَنَاوَلْتَنِی مِنْہَا مَا دَعَوْتُ بِہِ۔)) قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُعْجِبُہُ الذِّرَاعُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لایا گیا، سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑائو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے وہ بھی پکڑا دی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں دستی طلب کرتا رہتا، تو مجھے پکڑاتا رہتا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔(مسند احمد: ۲۴۳۶۰، معجم کبیر طبرانی: ۲۳۸۵۹) یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ہنڈیا سے دو سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِنَايَةِ اللَّهِ بِهِ وَحِفْظِهِ مِنْ نَقْصٍ الْجَاهِلِيَّةِ وَعِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11244
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَامَ فَقَالَ ”إِزَارِي إِزَارِي“ فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب (قبل از نبوت) کعبہ کی تعمیر کی گئی تو عباس رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پتھر لانے لگے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ پتھروں کی تکلیف سے بچنے کے لیے تہبند اتار کر گردن پر رکھ لیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات مان لی، لیکن ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورفرمایا: میری چادر، میری چادر مجھے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور چادر باندھ لی۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد کبھی بھی آپ کوبرہنہ حالت میںنہیں دیکھا گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1582،ومسلم: 340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14187»
وضاحت: فوائد: … طبرانی اور بزار کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا ازار لیا اور فرمایا: مجھے ننگا چلنے سے منع کیا گیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو چھپاتا تھا کہ کہیں لوگ یہ کہہ دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجنون ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ظاہر کر دیا۔
یہ روایت مسند بزار (۱۲۹۵) اور بیہقی کی دلائل النبوہ (ج۲، ص ۳۳) میں عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے ننگا چلنے سے روکا گیا ہے والی بات چھپانے والے عباس رضی اللہ عنہ ہیں، جابر رضی اللہ عنہ نہیں۔ جابر انصاری صحابی ہیں بنیانِ کعبہ میں عباس شامل تھے، جابر نہیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11245
عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ ”أَيْ خَدِيجَةُ وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ أَبَدًا“ قَالَ فَتَقُولُ خَدِيجَةُ خَلِّ الْعُزَّى قَالَ كَانَتْ صَنَمَهُمُ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ
عروہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک ہمسائے نے ہمیں بیان کیا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: خدیجہ! اللہ کی قسم! میں لات اور عزی کی عبادت نہیں کرتا، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کروں گا۔ سیدہ نے جواباً کہا: آپ چھوڑیں اس عزی کی عبادت کو (اور پریشان نہ ہوں)۔ راوی کہتے ہیں: عزی ان کا ایک بت تھا، عرب لوگ اس کی عبادت کرکے سویا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11245]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18111»
وضاحت: فوائد: … اس مختصر باب سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمت، عصمت اور عنایت حاصل تھی کہ قبل از نبوت بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی آرائش اور عبادت اصنام سے محفوظ رکھا۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیائے کرام hکو معائب و نقائص سے پاک کرنا اور پاک رکھنا، اس کا اندازہ درج مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَکُونُوْا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسٰی فَبَرَّأَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا} [الأحزاب: ۶۹] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ کَانُوْا یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی سَوْاَۃِ بَعْضٍ) وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْہُ الْحَیَائُ وَ السِّتْرُ، وَ کَانَ یَتْسَتِرُ اِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوْا فِیْہِ بِعَوْرَۃٍ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! مَا یَمْنَعُ مُوْسٰی اَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا اِلَّا اَنَّہُ آدَرُ) قَالَ: فَبَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ یَغْتَسِلُیَوْمًا وَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَۃُ بِثِیَابِہِ، فَاَتْبَعَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ضَرْبًا بِعَصَاہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! حَتَی انْتَھٰی بِہِ اِلٰی مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ تَوَسَّطَھُمْ فَقَامَتْ (اَیْ: اَلصَّخْرَۃُ) وَ اَخَذَ نِبِیُّ اللّٰہِ ثِیَابَہُ فَنَظُرْوُا فَاِذَا اَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَ اَعْدَلُھُمْ صُوْرَۃً، فَقَالَتْ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَ: قَاتَلَ اللّٰہُ اَفَّاکِی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَکَانَتْ بَرَائَ تُہُ الَّتِیْ بَرَّاَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا۔)) … … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا۔ } … اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی حضرت موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے یہ نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اس کو اپنی لاٹھی سے مارا اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹)
موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11246
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ“ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُوَ قَالَ ”نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاںعطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11246]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 763»
وضاحت: فوائد: … زمین کی چابیاں ملنے سے مراد فتوحات ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11247
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسَ وَالْأَسْوَدَ الْجِنَّ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو نہیںدی گئیں، دشمن پر میری ہیبت اور رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے، اس لیے دشمن مجھ سے ایک ماہ کی مسافت پر ہی مرعوب ہو جاتا ہے۔میرے لیےساری زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنایا گیا ہے، میرے لیے اموال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا، مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو ئی دعا کریں جو مانگیں گے ملے گا، لیکن میں نے اس دعا کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں سفارش کے طور پر محفوظ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم میں سے جس آدمی نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا، اسے اس دعا (شفاعت) کا فائدہ ہوگا۔ اعمش راوی کہتے ہیں کہ مجاہد کہا کرتے تھے: سرخ و سیاہ میں سرخ سے انسان اور سیاہ سے مراد جن ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11247]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21624»
وضاحت: فوائد: … ہر نبی کو اس کی مرضی کے مطابق ایک دعا قبول کروانے کا اختیار ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ اختیار قیامت والے دن استعمال کریں گے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال شفقت کی علامت ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو عطا نہیں کی گئیں تھیں، میں اس کا اظہار فخر کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی نعمت اور احسان کے طور پر کر رہا ہوں۔ مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے،ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب و ہیبت دشمن پر طاری کرکے میری مدد کی گئی ہے،اموال غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے غنیمت کے اموال کسی کے لیے بھی حلال نہیں کیے گئے تھے، میرے لیے ساری زمین کو نماز کیجگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے اس دعا کو اپنی امت کے ایسے لوگوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے، جو اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11248]
تخریج الحدیث: «حسن، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 402، والبزار: 3460، والطبراني: 11047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2742»
وضاحت: فوائد: … سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے مخصوص عبادت خانوں اور گرجا گھروں میں عبادت کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیےیہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی مسجد میں نہیں جا سکتا تو وہ زمین کے کسی بھی خطے میں نماز ادا کر سکتا ہے اور اگر وضو اور غسل جنابت کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں