الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي زُهْدِهِ ﷺ فِي الدُّنْيَا بَعْدَ عَرَضِهَا عَلَيْهِ وَقَنَعِهِ بِالْقَلِيلِ مِنْهَا
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
حدیث نمبر: 11219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ قَالَتْ وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ قَالَتْ فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا قَالَتْ فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ قَالَتْ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ ”مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ؟“ قَالَ أَوْ السَّبْعَةُ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ قَالَتْ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ ”مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ“
ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے کہا: کاش کہ تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرض الموت کے دوران دیکھتے، میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھ (یا سات) دینار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں تقسیم کردوں، آپ کی بیماری نے مجھے مشغول رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ان کی بابت پوچھا اور فرمایا: ان چھ دینار وں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں آپ کی بیماری میں مصروف رہی اور تقسیم نہ کر سکی۔ آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا: اللہ کے نبی کا کیا حال ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں جا ملے کہ یہ دولت اس کی ملکیت ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11219]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، تفرد به موسي بن جبير، اخرجه البيهقي: 6/ 356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25240»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11220
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،، وہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیلے میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم لائے گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11220]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27108»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۵) والا اور اس کے بعد والا باب۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
حدیث نمبر: 11221
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتَاهَا قَالَ سَهْلٌ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ قَالُوا نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدَيَّ فَجِئْتُ بِهَا لِأَكْسُوَكَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَسَّهَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاهُ فَقَالَ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”نَعَمْ“ فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهَا وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ قَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بُنی ہوئی ایک حاشیہ دار چادر لے کر حاضر ہو ئی۔ پھر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ آیا تم جانتے ہو کہ بردۃ کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، چادر کو کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے،اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ہاتھ سے یہ چادر بن کر حاضر ہوئی ہوں تاکہ آپ کے پہننے کے لیے اسے آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند کرتے ہوئے قبول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زیب تن کیا اور ہمارے پاس تشریف لائے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کا نام لے کر بیان کیا کہ اس نے اس چادر کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور کہا: یہ کتنی عمدہ چادر ہے، اے اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس کی طرف بھجوا دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے یہ اچھا کام نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ چادر پہننے کے لیے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پسند بھی آئی تھی، لیکن تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مانگ لی، جبکہ تم جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سائل کو خالی واپس نہیں لوٹاتے۔اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے یہ چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی، میں نے تو صرف اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں گا تو یہ چادر میرا کفن ہو گی۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوا تو وہ چادر اس کا کفن بنائی گئی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11221]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1277، 2093، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23213»
وضاحت: فوائد: … جو لباس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی، وہ بھی کسی کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11222
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ قَالَ عَفَّانُ يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلاتِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ قَالَ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَجَعَلَتْ تَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ أَوْ كَمَا قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكِ كَذَا وَكَذَا“ وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ وَيَقُولُ ”لَكِ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ حَتَّى أَعْطَاهَا فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ”عَشْرَ أَمْثَالِهَا“ أَوْ قَالَ ”قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا“ أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی اپنے باغات میں سے حسب توفیق کھجوروں کے کچھ درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کرتا تھا یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نصیر پر فتح پا لی گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ان کی طرف سے دی گئی کھجوریں لوٹانے لگے، میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے کہا کہ انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوریں دی ہوئی ہیں، وہ سب یا ان میں سے کچھ واپس مانگوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کھجوریں ام ایمن رضی اللہ عنہا کو یا کسی دوسرے کو دے چکے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھجوروں کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وہ کھجوریں دے دیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں اور انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور بولیں: ہر گز نہیں، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اللہ کے نبی وہ کھجوریں مجھے دے چکے ہیں، اب وہ تمہیں نہ دیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کو اس کے عوض اتنی اتنی کھجوریں دے دیتا ہوں۔ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، آپ فرماتے رہے کہ میں تمہیں مزید اتنی کھجوریں دیتا ہوں۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کو وہ دے دیں، معتمر کے والد سلیمان بن طرخان کا بیان ہے کہ میں نے شمار کیا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصل تعداد سے دس گنا زائد یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11222]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3128، 4030، ومسلم: 1771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13324»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11223
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی کوئی چیز طلب کی گئی ہو اور آپ نے جواباً نہیں فرمایا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11223]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6034،ومسلم: 2311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14345»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11224
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِقْدَادِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ قَالَ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلَاثُ أَعْنُزٍ وَفِي رِوَايَةٍ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا“ قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ قَالَ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الْأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَاشْرَبْهَا قَالَ مَا زَالَ يُزَيِّنُ لِي حَتَّى شَرِبْتُهَا فَلَمَّا وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَرَفَ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ قَالَ نَدَّمَنِي فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ شَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ وَلَا يَرَاهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكَ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ قَالَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ مِنْ صُوفٍ كُلَّمَا رَفَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَتْ قَدَمَايَ وَإِذَا أَرْسَلْتُ عَلَى قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي وَجَعَلَ لَا يَجِيءُ لِي نَوْمٌ قَالَ وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَأَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ قُلْتُ الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي“ قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ فَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْأَعْنُزِ أَجُسُّهُنَّ أَيُّهُنَّ أَسْمَنُ فَأَذْبَحُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْلِبُوا فِيهِ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً أُخْرَى أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ الرَّغْوَةُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَمَا شَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ يَا مِقْدَادُ؟“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَأَخَذْتُ مَا بَقِيَ فَشَرِبْتُ فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ فَأَصَابَتْنِي دَعْوَتُهُ ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا صَنَعْتُ كَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا كَانَتْ هَذِهِ إِلَّا رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي نُوقِظُ صَاحِبَيْكَ هَذَيْنِ فَيُصِيبَانِ مِنْهَا“ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ (وَفِي لَفْظٍ إِذَا أَصَابَتْنِي وَإِيَّاكَ الْبَرَكَةُ فَمَا أُبَالِي مَنْ أَخْطَأَتْ)
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرے دو ساتھی اس حال میں آئے کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے ہمارے کان اور آنکھیں کام کرنے سے جواب دے چکے تھے (ایک روایت میں ہے کہ ہم شدید بھوک سے دو چار تھے) ہم اپنے آپ کو صحابہ کرام کے سامنے پیش کرنے لگے (تاکہ کوئی ہمیں اپنامہمان بنالے) لیکن کوئی بھی ہمیں بطورِ مہمان لے جانے کے لیے تیار نہ ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے، وہاں تین (اور ایک راویت کے مطابق چار) بکریاں موجود تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے درمیان تقسیم کرو۔ پس ہم دودھ دوہتے اور ہر آدمی اپنا حصہ نوش کر لیتا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بچا رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کسی وقت تشریف لاتے تو اس قدر آواز سے سلام کہتے کہ کسی سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور جاگتا آدمی سن لیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز والی جگہ پر تشریف لاتے، نماز ادا فرماتے، پھر آپ دودھ والی جگہ جا کر دودھ نوش فرماتے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات شیطان نے میرے دل میں وسوسہ ڈالا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو انصارکے ساتھ جاتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحائف پیش کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں سے کچھ نہ کچھ کھا پی آتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان چند گھونٹوں کی چنداں حاجت نہیں ہوتی۔میں یہ پی لوں تو اس سے کیا ہو گا؟ وہ بار بار مجھے یہ خیال دلاتا اور اس بات کو میرے لیے خوش نما کرتا رہا، حتی کہ میں وہ دودھ پی گیا۔ جب دودھ میرے پیٹ میں پہنچ گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب اس کے نکلنے کی کوئی بھی صورت نہیں تو شیطان مجھے چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ اور کہہ گیا کہ تجھ پر افسوس ہے۔ یہ تو نے کیا کیا؟ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے کا دودھ پی گئے، وہ آکر دودھ نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تم ہلاک ہو جاؤ گے، تمہاری تو دنیا بھی تباہ اور آخرت بھی برباد ہو جائے گی، میرے اوپر ایک چھوٹی سی ادنی چادر تھی، میں اسے سر پر ڈالتااتو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں پر ڈالتا تو سر چادر سے باہر نکل آتا،بس میں اسی کشمکش میں رہا اور مجھے نیند نہ آئی، میرے دونوں ساتھی آرام سے سوئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور حسب معمول سلام کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی جگہ پر نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپ دودھ کے پاس گئے۔ ڈھکنا اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں کچھ نہ پایا۔ آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، میں نے سوچا کہ اب آپ مجھ پر بد دعا کریں گے اور میں تباہ و برباد ہو جاؤں گا۔ مگر آپ نے فرمایا: اَللّّٰہُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِی وَاسْقِ مَنْ سَقَانِی (یا اللہ! جس نے مجھے کھانا کھلایا تو اسے کھانا عطا فرما اور جس نے مجھے کچھ پلایاتو اسے پلا)۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے چادر کھینچ کر اپنے اوپر کس لی اور چھری سنبھالی اور میں بکریوں کو ٹٹولنے لگا کہ دیکھوں ان میں سے کونسی بکری زیادہ موٹی تازی ہے کہ تاکہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ذبح کروں۔ میں نے دیکھا تو ان سب کے تھن دودھ سے لبریز تھے، میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادہ کے ایک ایسے برتن کا قصد کیا، جس میں دودھ دوھنے کی انہیں امید نہ تھی۔1 میں نے اس میں دودھ دوہایہاں تک کہ اس پر جھاگ آگئی، پھر میں وہ دودھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: مقداد! کیا آج رات آپ لوگوں نے دودھ نوش نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نوش فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ پیا! یعنی اتنا زیادہ دودھ نہیں ہوتا تھا کہ ان کو امید ہو کہ اس برتن میں بھی دودھ ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو گی گویا وہ دودھ والا برتن زائد پڑا رہتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
اور پھر مجھے عنایت فرمایا۔ میں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مزید پئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما کر برتن مجھے تھما دیا، اس کے بعد جو بچاوہ میں نے پیا، جب مجھے یقین ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب سیر ہو چکے ہیں اور میں آپ کی دعا کا حق دار بن چکا ہوں۔ میں اس قدر ہنسا کہ ہنستے ہنستے زمین پر لیٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقداد! یہ تمہاری ایک نا مناسب حرکت ہے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو آج یہ معاملہ پیش آیا اور میں یہ کام کر بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی رحمت تھی (اور دوسری روایت کے لفظ ہیں: یہ آسمان سے نازل شدہ برکت تھی) تم نے پہلے مجھے کیوں نہ بتلایا، ہم تمہارے ان دونوں ساتھیوں کو بھی بیدار کر لیتے اور وہ بھی اس سے فیضیاب ہو جاتے۔ مقداد کہتے ہیں:میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے!جب آپ اور آپ کے ساتھ میں اس برکت کو حاصل کر چکا ہوں تو اب مجھے اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ کسی اور کو ملی ہے یا نہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ جب آپ کو اور مجھے یہ برکت نصیب ہو چکی ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں کہ کون اس سے محروم رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11224]
اور پھر مجھے عنایت فرمایا۔ میں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مزید پئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما کر برتن مجھے تھما دیا، اس کے بعد جو بچاوہ میں نے پیا، جب مجھے یقین ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب سیر ہو چکے ہیں اور میں آپ کی دعا کا حق دار بن چکا ہوں۔ میں اس قدر ہنسا کہ ہنستے ہنستے زمین پر لیٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقداد! یہ تمہاری ایک نا مناسب حرکت ہے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو آج یہ معاملہ پیش آیا اور میں یہ کام کر بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی رحمت تھی (اور دوسری روایت کے لفظ ہیں: یہ آسمان سے نازل شدہ برکت تھی) تم نے پہلے مجھے کیوں نہ بتلایا، ہم تمہارے ان دونوں ساتھیوں کو بھی بیدار کر لیتے اور وہ بھی اس سے فیضیاب ہو جاتے۔ مقداد کہتے ہیں:میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے!جب آپ اور آپ کے ساتھ میں اس برکت کو حاصل کر چکا ہوں تو اب مجھے اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ کسی اور کو ملی ہے یا نہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ جب آپ کو اور مجھے یہ برکت نصیب ہو چکی ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں کہ کون اس سے محروم رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11224]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24313»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ پی گئے تھے اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء پہنچائی تھی، اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا کے خطرے کی وجہ سے پریشان تھے،لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سیراب ہو گئے ہیں اور ان کے لیے دعا بھی کر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہو رہی ہے تو وہ خوشی کی وجہ سے اتنا ہنسے کہ زمین پر گر پڑے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11225
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْهُ أَيْضًا) عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ فَانْطَلَقَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَعِنْدَهُ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ فَقَالَ ”لِي يَا مِقْدَادُ جَزِّئْ أَلْبَانَهَا بَيْنَنَا أَرْبَاعًا“ فَكُنْتُ أُجَزِّئُهُ بَيْنَنَا أَرْبَاعًا فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَى بَعْضَ الْأَنْصَارِ فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ فَلَوْ شَرِبْتُ نَصِيبَهُ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
۔(دوسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرے ساتھ دو دوست، ہم سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں پہنچے، ہمیں شدید بھوک لگی ہوئی تھی، ہم لوگوں کے سامنے گئے مگر کسی نے ہماری مہمانی نہ کی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چار بکریاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مقداد! تم ان بکریوں کا دودھ ہمارے درمیان چار حصوں میں تقسیم کرو۔ پس میں اس دودھ کو ان چاروں کے درمیان تقسیم کرتا تھا۔ ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں مصروف ہوگئے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے ہوں گے، آپ نے ان کے ہاں سیر ہو کر کھا پی لیا ہوگا، اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے کا دودھ پی لوں تو کچھ نہیں ہوگا۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانندہی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11225]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24311»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11226
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلْنَا الْمَدِينَةَ عَشَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَشَرَةً يَعْنِي فِي كُلِّ بَيْتٍ قَالَ فَكُنْتُ فِي الْعَشَرَةِ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا شَاةٌ نَتَحَرَّى لَبَنَهَا قَالَ فَكُنَّا إِذَا أَبْطَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبْنَا وَبَقَّيْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَلَيْنَا قَالَ يَعْنِي الْمِقْدَادَ وَثَبْتُ وَأَخَذْتُ السِّكِّينَ وَقُمْتُ إِلَى الشَّاةِ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ قُلْتُ أَذْبَحُ قَالَ لَا ائْتِنِي بِالشَّاةِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَخَرَجَ شَيْئًا ثُمَّ شَرِبَ وَنَامَ
۔(تیسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم مدینہ منورہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے دس دس آدمیوں کو ایک ایک گھرانے کا مہمان بنا دیا، میں ان دس آدمیوں کے گروہ میں تھا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تھے، ہمارے پاس صرف ایک بکری تھی، ہم اسی کے دودھ کے منتظر رہتے تھے، اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیر ہو جاتی تو ہم دودھ پی لیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ان کا حصہ رکھ دیتے۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فی دیر تک تشریف نہ لائے۔ (اس کے بعد حدیث، گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس طریق میں ہے:) سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے چھری لی اور بکری کی طرف چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میں اسے ذبح کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اسے ذبح نہ کرو، اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں کو ہاتھ لگایا، پھر اس سے کچھ دودھ نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دودھ پی کر سو گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11226]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24319»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11227
عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَجِدْهُ فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَمْرًا وَعَصَدَتْ لَنَا عَصِيدَةً إِذْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ فَقَالَ هَلْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ دَفَعَ رَاعِي الْغَنَمِ فِي الْمُرَاحِ عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ قَالَ هَلْ وَلَدَتْ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاذْبَحْ لَنَا شَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ لَا تَحْسَبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا يَحْسَبَنَّ إِنَّا ذَبَحْنَا الشَّاةَ مِنْ أَجْلِكُمَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ عَلَيْهَا فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً أَمَرْنَاهُ بِذَبْحِ شَاةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْثَرْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ،جو کہ بنومنتفق کے وفد میں شامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اور میرا ایک دوست اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لیکن ہماری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور آٹے اور گھی کا حلوہ بھی پیش کیا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جواں مردوں کی طرح چلتے تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آتے ہی دریافت فرمایا کہ کیاآپ لوگوں نے کچھ کھایا پیا بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں ہم وہیں بیٹھے تھے کہ بکریوں کا چرواہا باڑے میں اپنے ہاتھ پر بکری کا بچہ لیے کھڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بکری نے بچہ جنم دیا ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اب تم ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہم آپ کی خاطر بکری ذبح کر رہے ہیں، ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں، ہم اس سے زیادہ نہیں چاہتے، جب بھی بکریوں میں سے کوئی بکری بچہ جنتی ہے تو ہم اس چرواہے کو ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔ سیدنا صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں وضوء کے مسائل سے آگاہ فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو تمام اعضاء کو اچھی طرح دھوؤ، انگلیوں کا خلال کیا کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو خوب مبالغہ کیا کرو، الایہ کو تم روزے کی حالت میں ہو (یعنی روزے کی حالت میں وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھانے میں زیادہ مبالغہ نہ کرو)۔ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایکبیوی بڑی بدزبان ہے اور مجھے ایذاء پہنچاتی رہتی ہے۔ (میں کیا کروں؟) وہ ایک عرصہ سے میرے ساتھ رہ رہی ہے اور بچوں کی ماں بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے قابو رکھو اور اسے سمجھاتے رہو، اگر اس میں کچھ خیر ہوئی تو سمجھ جائے گی اور اگر اسے مارنا پڑ جائے تو اس طرح نہ مارنا جیسے لونڈیوں کو مارتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11227]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
وضاحت: فوائد: … بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال کی بڑی بڑی مقداریں ہوتی تھیں، جیسے اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سو بکریاں تھیں، لیکنیہ مقداریں جلد ہی سخاوت کی نظر ہو جاتی تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11228
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى صَارَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ بغض تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے دن مجھے اس قدر دیا اور عنایت فرماتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11228]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15378»
الحكم على الحديث: صحیح