الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11190
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11190]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء اليي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ قَالَ فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا قَالَ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] قَالَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے بازار میں ایک یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے، اس کے یہ الفاظ سن کر غیرت کے مارے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے تمہیںیہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ وہ یہودی شکایت لے کر رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: {وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌیَنْظُرُونَ} … اور صور پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں کی مخلوق بے ہوش ہو جائے گی سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہئے گا۔ پھر اس میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو سب لوگ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت سب سے پہلے میں ہوش میں آکر سر اٹھاؤں گا، لیکن دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک پائے کو پکڑ کر کھڑے ہوں گے، مجھے اس چیز کا علم نہیں ہو گا کہ انھوں نے مجھ سے پہلے ہوش میں آکر سراٹھایا ہو گا یا وہ بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ ہونے والوں میں سے ہوں گے۔ اور (یاد رکھو کہ) جس نے یوں کہا کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یونس بن متی سے افضل ہوں تو اس نے غلط کہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11191]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9820»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ علی الاطلاق تمام انبیاء و رسل سے افضل ہیں، مگر کسی نبی کا نام لے کر کہناکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں نبی سے افضل، اشرف اور برتر ہیں، ایسا کہنے کی اجازت نہیں، اس طرح ایک طرح سے اس نبی کی بے ادبی کا پہلو نکل سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11192
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْكِبْرِ فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ قَالَ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ دَفَنْتُمْ هَاهُنَا الْيَوْمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ ذَلِكَ قَالَ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلِمَ فَعَلْتَ قَالَ لَيُخَفَّفَنَّ عَنْهُمَا قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ قَالَ غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ وَلَوْلَا تَمْرِيغُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو (کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیےکیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیاتیا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11192]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني أخرجه الطبراني في الكبير: 7869، ورواه ابن ماجه: 245 مختصرا باوله الي قوله: لئلا يقع في نفسه شيء من الكبر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22648»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبر کرنے سے معصوم تھے، لیکن بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے اسباب کو بھی ردّ کر دیا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11193
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی طرف جانے کے لیے نکلتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11193]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ماجه: 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14285»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11194
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَرْقَعُ ثَوْبَهُ
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر آکر کس قسم کے کام کیا کرتے تھے؟ (یعنی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت کیا ہوتی تھی؟) انھوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر آتے تو ایسے ہی کام کیا کرتے تھے) جیسے تم کرتے ہو، مثلا اپنے جوتے کی مرمت کر لیتے اور کپڑا سی لیتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11194]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 4876، وابن حبان: 5677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25256»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11195
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ
۔(دوسری سند) عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جوتے کو مرمت کر لیتے، کپڑے کو سلائی کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جیسے تم میںسے کوئی اپنے گھر میں کام کاج کرتا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11195]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25855»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11196
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
قاسم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ گھر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا مصروفیت ہوتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی بشر ہی تھے، اس لیے (عام دوسرے انسانوں کی طرح) اپنے کپڑوں کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں جوئیں دیکھتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام کر لیتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 5675، وابويعلي: 4847، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26724»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور عاجزی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے طرزِ حیات بھی قرار دیا ہے۔ اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کا اہتمام کرنے لگے تو اس کی زندگی کئی مشاکل اور تکلّفات سے پاک ہو سکتی ہے۔ ایسے امور کو سر انجام دینے والا آدمی تکبر سے پاک ہو جائے گا اور اس کی عاجزی و فروتنی میں اضافہ ہو گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) (الصحیحۃ: ۲۲۱۸) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگوں کو باندھ کر اس کو دوہا۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11197
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا أَنَّ خَيَّاطًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کی روٹی اور بو دار سالن کی دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ راوی حدیث ابان نے ایک دفعہ یوں ذکر کیا کہ دعوت دینے والا شخص درزی تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11197]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13896»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11198
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّى فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّيْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11198]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد، أخرجه ابن ماجه: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19623»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11199
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11199]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد دون قوله: انھم كذبوا علي انبيائھم الي آخر الحديث۔ وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه، اخرجه البزار: 1461، والحاكم: 4/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19624»
الحكم على الحديث: صحیح