🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
255. باب الْجُلُوسِ لِلْخُطْبَةِ
باب: خطبہ سننے کے لیے لوگوں کا بیٹھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّا نَخْطُبُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1155]
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں عید میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”ہم خطبہ دیتے ہیں تو جو پسند کرے بیٹھ جائے اور جو جانا چاہے چلا جائے۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ حدیث (مرفوع صحیح نہیں، بلکہ) مرسل ہے اور عطاء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/العیدین 14 (1572)، سنن ابن ماجہ/إقامة 159 (1290)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1572 وسنده حسن) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح قوي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
256. باب يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي طَرِيقٍ
باب: عید کے لیے ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، ثُمَّ رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کو جانے کے لیے ایک راستہ اختیار فرمایا اور واپسی میں دوسرے راستے سے تشریف لائے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة 162 (1299)، (تحفة الأشراف: 7722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/109) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (1299 وسنده حسن) عبد الله بن عمر العمري عن نافع قوي، وثقه ابن معين في روايته عن نافع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
257. باب إِذَا لَمْ يَخْرُجِ الإِمَامُ لِلْعِيدِ مِنْ يَوْمِهِ يَخْرُجُ مِنَ الْغَدِ
باب: اگر عید کے دن امام عید کے لیے نہ نکل سکے تو دوسرے دن نکل کر عید پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ" فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ".
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1157]
جناب ابوعمیر بن انس اپنے چچوں سے، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک قافلے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے شہادت دی کہ ”ہم نے کل شام کو چاند دیکھا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ ”روزہ افطار کر لیں اور اگلے دن صبح کو عید گاہ میں پہنچیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/العیدین 1 (1558)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1653)، (تحفة الأشراف: 15603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/57، 58) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1450)
أخرجه النسائي (1558 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1653 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:" كُنْتُ أَغْدُو مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى، فَنَسْلُكُ بَطْنَ بَطْحَانَ حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَنُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعَ مِنْ بَطْنِ بَطْحَانَ إِلَى بُيُوتِنَا".
بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1158]
سیدنا بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عید الفطر اور عید الاضحی کے روز عید گاہ کو جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ وادی بطحان کے بطن سے گزرتے تھے، حتیٰ کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اسی وادی بطحان کے بطن سے گزر کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ آیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2026) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اسحاق بن سالم مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: ایک تو یہ حدیث ضعیف ہے دوسرے اس کا تعلق پچھلے باب سے ہے، سنن ابوداود کے بعض نسخوں میں پچھلے ہی باب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن سالم : مجهول الحال (تقريب التهذيب: 354)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
258. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعِيدِ
باب: نماز عید کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1159]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز نکلے (عید کی) دو رکعتیں پڑھیں، اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، پھر عورتوں کی طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (عورتوں) کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو کوئی اپنی بالی اتار رہی تھی اور کوئی اپنا ہار۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العیدین 8 (964)، 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن الترمذی/الجمعة 35 (537)، سنن النسائی/العیدین 29 (1588)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 160 (1291)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/355)، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646)، وانظر أیضاحدیث رقم: 1142) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (964) صحيح مسلم (884 بعد ح 890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
259. باب يُصَلَّى بِالنَّاسِ الْعِيدُ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا كَانَ يَوْمَ مَطَرٍ
باب: بارش کا دن ہو تو امام عید کی نماز لوگوں کو مسجد میں پڑھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1160
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ الْفَرَوِيِّينَ، وَسَمَّاهُ الرَّبِيعُ فِي حَدِيثِهِ عِيسَى بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، سَمِعَ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ" فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1160]
ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں فرویوں میں سے ایک آدمی نے بیان کیا، ربیع نے اس کا نام عیسیٰ بن عبدالاعلیٰ بن ابی فروہ لیا ہے، کہ انہوں نے ابویحییٰ عبیداللہ تیمی کو سنا، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ ”(ایک دفعہ) عید کے روز بارش ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد ہی میں نماز عید پڑھائی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة 167 (1313)، (تحفة الأشراف: 14120) (ضعیف) (عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول راوی ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ابن ماجه (1313)
عيسي بن عبدالأعلي مجهول (تق : 5305)
وللحديث شاهد ضعيف عند البيهقي(310/3)
وقول عمر رضي اللّٰه عنه يغني عنه،رواه البهيقي بسند قوي عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں