سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
239. باب إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو اور آدمی مسجد میں داخل ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ" أَصَلَّيْتَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ پڑھا؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
جناب اعمش، ابوسفیان سے، وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش، ابوصالح سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، دونوں کا بیان ہے کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم نے کوئی نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مختصر سی دو رکعتیں پڑھ لو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (875)
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1117]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ جناب سلیک آئے۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ مزید یہ کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ مختصر سی دو رکعتیں پڑھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2339)، مسند احمد (3/297) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1117)
انظر الحديث السابق (1117)
240. باب تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خطبہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ".
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1118]
ابوالزاہریہ بیان کرتے ہیں کہ ایک (بار) جمعہ کے دن ہم سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جمعہ کے روز ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”بیٹھ جاؤ تم نے اذیت دی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 20 (1400)، (تحفة الأشراف: 5188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (1400 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1811 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (1400 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1811 وسنده صحيح)
241. باب الرَّجُلِ يَنْعَسُ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام کے خطبہ کے دوران آدمی کو اونگھ آئے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1119]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کسی کو اونگھ آنے لگے اور وہ مسجد میں ہو تو چاہیے کہ اپنی جگہ بدل کر کسی اور جگہ بیٹھ جائے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 262 (الجمعة 27) (526)، (تحفة الأشراف: 8406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/22، 32، 135) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1394)
أخرجه الترمذي (526 وسنده حسن) ابن صرح بالسماع عند أحمد (2/135)
مشكوة المصابيح (1394)
أخرجه الترمذي (526 وسنده حسن) ابن صرح بالسماع عند أحمد (2/135)
242. باب الإِمَامِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام بات چیت کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، لَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَهُ مُسْلِمٌ أَوْ لَا، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْزِلُ مِنْ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي". قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ ثَابِتٍ هُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (خطبہ دے کر) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کر لیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1120]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے اور کوئی شخص اپنی ضرورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے، حتیٰ کہ وہ اپنی ضرورت پوری کر لیتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مصلے پر) کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ثابت سے یہ حدیث معروف نہیں ہے۔ جریر بن حازم اس بیان میں منفرد ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 256 (الجمعة 21) (517)، سنن النسائی/الجمعة 36 (1420)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 89 (1117)، (تحفة الأشراف: 260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 127) (ضعیف) (والصحیح ہو الحدیث رقم: 201)» (جریر بن حازم سے وہم ہوا ہے، اصل واقعہ عشاء کا ہے نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ حدیث نمبر: 201 میں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (517) نسائي (1420) ابن ماجه (1117)
رجاله ثقات،ولكن الحديث ضعفه البخاري والجمهور وھو حديث معلل انظر سنن الترمذي (517) فالقول قولھم
وحديث مسلم (876) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
ضعيف
ترمذي (517) نسائي (1420) ابن ماجه (1117)
رجاله ثقات،ولكن الحديث ضعفه البخاري والجمهور وھو حديث معلل انظر سنن الترمذي (517) فالقول قولھم
وحديث مسلم (876) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
243. باب مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً
باب: جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پائی اس نے جمعہ پا لیا۔
حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1121]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 29 (580)، صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن النسائی/المواقیت 30 (554)، (تحفة الأشراف: 15243)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة 3 (15)، دی/الصلاة 22(1256، 1257) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سنن ابن ماجہ میں باب «ماجاء فیمن أدرک من الجمعۃ رکعۃ» کے تحت تین حدیثیں ہیں، پہلی بسند «ابن ابی ذئب عن الزہری عن ابی سلمہ وسعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم » کا لفظ یہ ہے: «من أدرك من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى» اور دوسری حدیث بطریق «ابن عیینہ عن الزہری عن ابی سلمۃ عن ابی ہریرۃعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم » مثل سیاق ابی داود مروی ہے، اورتیسری روایت بسند «یونس بن یزید الأیلی عن الزہری عن سالم عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم » ہے اور اس کا سیاق یہ ہے: «من أدرك ركعة من صلاة الجمعة أو غيرها فقد أدرك الصلاة» اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت سے کم پائے گا تو اس کی جمعہ کی نماز فوت ہو جائے گی، یعنی وہ جمعہ کے بدلے ظہر کی چار رکعتیں پڑھے گا، یہی جمہور کا مذہب ہے، اور ابوداود اور ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر پوری ایک رکعت نہ پائے، مثلاً: دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، اور بعض کے نزدیک جمعہ میں شامل ہو نے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: «ما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا» (کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کر لو) تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے، اور اس کی تائید مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذی علی سنن الترمذی حدیث رقم: ۵۲۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (580) صحيح مسلم (607)
244. باب مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، قَالَ: وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَقَرَأَ بِهِمَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑ جاتا تو (بھی) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1122]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ کی نماز میں سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] تلاوت فرمایا کرتے تھے۔“ بیان کیا کہ ”بعض اوقات عید اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے تو بھی یہی سورتیں پڑھتے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33) (533)، سنن النسائی/الجمعة 39 (1425)، والعیدین 31 (1591)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 90 (1120)، 157 (1281)، (تحفة الأشراف: 11612)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد (4/270، 271، 273، 276، 277)، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (878)
حدیث نمبر: 1123
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ: مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1123]
جناب ضحاک بن قیس نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز سورہ ﴿الْجُمُعَةِ﴾ [سورة الجمعة] کی تلاوت کے بعد کون سی سورت پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ” ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] (یعنی دوسری رکعت میں) پڑھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن النسائی/الجمعة 39 (1424) سنن ابن ماجہ/الإقامة 90 (1119)، (تحفة الأشراف: 11634)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد (4/270، 277)، دی/الصلاة 203 (1607، 1608) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (878)
حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو (پہلی رکعت میں) سورۃ الجمعہ اور دوسری میں «إذا جاءك المنافقون» پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے (نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1124]
ابن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ پڑھایا تو انہوں نے سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ [سورة المنافقون: 1] کی تلاوت کی۔ ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ نماز کے بعد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: ”آپ نے جو سورتیں تلاوت کی ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں یہی پڑھا کرتے تھے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ بھی جمعہ کے روز (نماز جمعہ میں) یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (877)، سنن الترمذی/الصلاة 257 (الجمعة 22) (519)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 90 (1118)، (تحفة الأشراف: 14104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (877)
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1125]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں ” ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَىٰ﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] “ پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 39 (1423)، (تحفة الأشراف: 4615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/7، 13، 14، 19) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (1423 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (1423 وسنده صحيح)