🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
248. باب وَقْتِ الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ
باب: عید کے لیے نکلنے کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَ:" خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ".
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
جناب یزید بن خمیر الرحبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے لیے تشریف لائے تو امام کے تاخیر کر دینے کو انہوں نے ناپسند کیا اور کہا: ”ہم تو اس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھے“ یعنی اشراق کے وقت۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 170 (1317)، (تحفة الأشراف: 5206) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
249. باب خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ
باب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ" قِيلَ: فَالْحُيَّضُ؟ قَالَ:" لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ:" تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں“، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔‏‏‏‏“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1136]
سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پردے میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو بھی عید کے دن ساتھ لے جائیں۔“ پوچھا گیا: جو ایام میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ ایک عورت کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! اگر کسی کے پاس (پردے کے لیے) چادر نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی سہیلی اسے اپنی چادر کا ایک حصہ اوڑھا دے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، والجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ 22 (390)، والعیدین 2 (1559)، 3 (1560)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: (18095، 18101، 18110، 18112، 18114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيَّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ" وَلَمْ يَذْكُرْ: الثَّوْبَ، قَالَ: وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ امْرَأَة تُحَدِّثُهُ، عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى، قَالَتْ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ.
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1137]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی، (محمد بن سیرین نے) کہا: ”اور ایام والی خواتین نماز کے مقام سے الگ رہیں“ اور کپڑے کا ذکر نہیں کیا۔ اور (حماد نے بواسطہ ایوب) حفصہ بنت سیرین سے، انہوں نے ایک خاتون سے، انہوں نے ایک دوسری خاتون سے روایت کیا، کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ اور کپڑے کے بارے میں موسیٰ بن اسماعیل کی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَتْ: وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہمیں حکم دیا جاتا تھا“ اور یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ ”حیض والیاں لوگوں کے پیچھے ہوں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1136، (تحفة الأشراف: 18095، 18114، 18128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (971) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1139
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، وَمُسْلِمٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ" وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ (آ کر) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1139]
اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن عطیہ اپنی دادی سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں تشریف لائے تو انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف بھیجا۔ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے، ہمیں سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرستادہ ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (عورتوں کو) عیدوں کے بارے میں حکم دیا کہ ”ایام والیوں اور نوخیز لڑکیوں کو بھی عید گاہ لے کر چلیں۔“ جمعہ ہم پر نہیں ہے اور جنازوں میں جانے سے ہمیں منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10680)، وقد أخرجہ: (5/85، 6/408) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1722 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
250. باب الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى، مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1140]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مروان نے عید کے روز منبر نکلوایا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ”اے مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے، عید کے روز منبر نکلوایا ہے جب کہ اس دن یہ نہ نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی ہے۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ فلاں بن فلاں ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(تم میں سے) جو کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے دور کر سکتا ہو تو ہاتھ سے دور کرے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے یہ کام کرے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔““ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011، 5012)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/10، 20، 49، 52، 53، 54، 92)، وأعادہ المصنف فی الملاحم (4340) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ". قَالَ: تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: فَتَخَتَهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
جناب عطاء، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ میں نے ان کو سنا بیان کرتے تھے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا فرمائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا۔ جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ عورتیں اس میں اپنے صدقات ڈالتی جاتی تھیں۔ کوئی اپنی انگوٹھی ڈالتی تھی، کوئی کچھ اور کوئی کچھ۔“ ابن بکر نے ”( «فتخها» کی بجائے) «فتختها» کا لفظ استعمال کیا۔ (یعنی انگوٹھی)“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العیدین 7 (961)، صحیح مسلم/العیدین (885)، (تحفة الأشراف: 2449)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 6 (1563)، 19 (1576)، مسند احمد (3/314، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (978) صحيح مسلم (884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ". قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ.
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ (اس میں یہ بھی ہے کہ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ (اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
جناب عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر شہادت دیتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے، نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔“ ابن کثیر نے کہا: ”شعبہ کا غالب گمان ہے کہ (ایوب نے یہ جملہ بھی کہا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو وہ (اپنے صدقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، والعیدین 16 (975)، 18 (977)، والزکاة 33 (1449)، والنکاح 125 (5249)، واللباس 56 (5880)، والاعتصام 16 (7325)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن النسائی/العیدین 13 (1570)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1273)، (تحفة الأشراف: 5883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 226، 243، 345، 346، 357، 368)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644)، و انظر ما یأتي برقم (1159) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
ایوب نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ عورتوں نے (آپ کا خطبہ) نہیں سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو کوئی بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالی ڈال رہی تھی تو کوئی اپنی انگوٹھی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَجَعَلَ بِلَالٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ، قَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی (صدقہ میں) دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1144]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں بیان کیا کہ ”کوئی عورت اپنی بالی دینے لگی اور کوئی اپنی انگوٹھی اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرتے جاتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو فقیر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1142، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں