سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
251. باب يَخْطُبُ عَلَى قَوْسٍ
باب: کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1145
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نُوِّلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر (ٹیک لگا کر) خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1145]
جناب یزید بن براء رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے روز کمان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سہارے خطبہ دیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1961)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/282، 304) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو جناب ضعيف و صرح بالسماع
والحديث السابق (الأصل : 1096) يغني عن حديثه ھذا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
إسناده ضعيف
أبو جناب ضعيف و صرح بالسماع
والحديث السابق (الأصل : 1096) يغني عن حديثه ھذا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
252. باب تَرْكِ الأَذَانِ فِي الْعِيدِ
باب: عید میں اذان نہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ" فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں (یعنی بالیوں اور ہاروں) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر (صدقہ لے کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1146]
جناب عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، اگر مجھے آپ کے ساتھ تعلق و مرتبہ حاصل نہ ہوتا تو بچپنے کے باعث میں آپ کے قریب نہ ہو سکتا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کسی اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور اپنی گردنوں کی طرف اشارہ کرنے لگیں۔ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ ان (عورتوں) کے پاس گئے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، العیدین 16 (975)، 81 (977)، النکاح 125 (5249)، الاعتصام 125 (5249)، سنن النسائی/العیدین 18 (1576)، (تحفة الأشراف: 5816) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (863)
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ". وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، أَوْ عُثْمَانَ، شَكَّ يَحْيَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1147]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید (کی نماز) اذان اور اقامت کے بغیر پڑھائی اور (ایسے ہی) ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی۔“ یحییٰ کو شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 8 (962)، 19 (978)، التفسیر 3 (4895)، صحیح مسلم/العیدین 8 (884)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1274)، (تحفة الأشراف: 5698) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج مدلس وعنعن في ھذا اللفظ
وحديث ابن ماجة (1274) وأحمد (227/1 ح2004) والبخاري (962) ومسلم (884) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
إسناده ضعيف
ابن جريج مدلس وعنعن في ھذا اللفظ
وحديث ابن ماجة (1274) وأحمد (227/1 ح2004) والبخاري (962) ومسلم (884) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
حدیث نمبر: 1148
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:"صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں (بارہا) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1148]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے ایک دو بار نہیں بلکہ کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز پڑھی ہے، اذان اور اقامت کے بغیر۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العیدین (887)، سنن الترمذی/الصلاة 267 (الجمعة 32) (532)، (تحفة الأشراف: 2166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/94، 107) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (887)
253. باب التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1149
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1149]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 156 (1280)، (تحفة الأشراف: 16425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/65، 70) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی سارے محدثین، امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا مذہب ہے، لیکن امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ ملا کر ہیں، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قیام کے علاوہ، اور امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ زائد سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ زائد پانچ تکبیرات (اور سبھی کے نزدیک یہ تکبیریں دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی)، امام ابوحنیفہ کے نزدیک پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، لیکن اس کے لئے کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (1151)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (1151)
حدیث نمبر: 1150
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ".
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے`، اس میں ہے (یہ تکبیریں) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1150]
جناب خالد بن یزید نے ابن شہاب سے مذکورہ سند کے ساتھ اور اس کے ہم معنی بیان کیا، مزید کہا: ”رکوع کی تکبیر کے علاوہ۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (1151)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (1151)
حدیث نمبر: 1151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" التَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى، وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر (زوائد) کے بعد ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1151]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز عید الفطر میں تکبیریں پہلی رکعت میں سات ہیں اور دوسری میں پانچ اور قراءت ان دونوں کے بعد ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 156 (1278)، (تحفة الأشراف: 8728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1441)
عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي حسن الحديث وللحديث شاھد حسن عند أحمد (2/357) ابن لھيعة حدث به قبل اختلاطه
مشكوة المصابيح (1441)
عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي حسن الحديث وللحديث شاھد حسن عند أحمد (2/357) ابن لھيعة حدث به قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 1152
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ الْأُولَى سَبْعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا:" سَبْعًا وَخَمْسًا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر ”الله أكبر“ کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1152]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”عید الفطر کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے، پھر قراءت کرتے، پھر تکبیر کہتے (رکوع کے لیے)، پھر (دوسری رکعت میں) کھڑے ہوتے اور چار تکبیریں کہتے، پھر قراءت کرتے، پھر (اس کے بعد) رکوع کرتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”وکیع اور ابن مبارک نے یہ حدیث روایت کی تو ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں بیان کی ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1151، (تحفة الأشراف: 8728) (حسن صحیح)» (لیکن «أربعاً» کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ «خمساً» ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح دون قوله أربعا والصواب خمسا كما يأتي من المؤلف معلقا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو خالد الاحمر سليمان بن حيان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
إسناده ضعيف
أبو خالد الاحمر سليمان بن حيان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
حدیث نمبر: 1153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ"، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: صَدَقَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ، وقَالَ أَبُو عَائِشَةَ: وَأَنَا حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ.
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس (گفتگو کے وقت) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1153]
جناب سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید الاضحی اور عید الفطر میں تکبیریں کیسے کہا کرتے تھے؟ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہا کرتے تھے جیسے کہ جنازے میں ہوتی ہیں۔“ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”انہوں نے سچ کہا ہے۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں جب بصرہ میں لوگوں پر امیر تھا تو ایسے ہی تکبیریں کہا کرتا تھا۔“ اور ابوعائشہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3393)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/416) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1046/م)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو عائشة مجهول كما قال ابن حزم و ابن القطان وغيرھما انظر التحرير (8202)
والحديث خالفه مكحول أحد رواته،انظر العيدين للفريابي (122) و مصنف ابن أبي شيبة (175/2 حديث 5714)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
إسناده ضعيف
أبو عائشة مجهول كما قال ابن حزم و ابن القطان وغيرھما انظر التحرير (8202)
والحديث خالفه مكحول أحد رواته،انظر العيدين للفريابي (122) و مصنف ابن أبي شيبة (175/2 حديث 5714)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51
254. باب مَا يُقْرَأُ فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ
باب: عید الاضحی اور عیدالفطر میں کون سی سورتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1154
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ قَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1154]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا قراءت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ” ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1] ۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العیدین 3 (891)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33)، (534، 535)، سنن النسائی/العیدین 11 (1568)، سنن ابن ماجہ/إقامة 157 (1282)، (تحفة الأشراف: 15513)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ العیدین 4 (8)، مسند احمد (5/217، 218، 219) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (891)