🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَمُرَةَ بْن فَاتِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11746
عَنْ يُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نِعْمَ الْفَتَى سَمُرَةُ لَوْ أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ“ فَفَعَلَ ذَلِكَ سَمُرَةُ أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ عَنْ مِئْزَرِهِ
سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمرہ ایک اچھا آدمی ہے،کاش وہ اپنے سر کے بال ذرا چھوٹے کرلے اور اپنی چادر کو ٹخنوں سے اوپر رکھے۔ یہ سن کر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فوراً دونوں باتوں پر عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے بال چھوٹے کر لیے اور چادر بھی اوپر کر لی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11746]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن لولا عنعنة ھشيم، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 4/177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17941»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاندھوں کو مس کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے لمبے بال ناپسند کیے، اس کی کوئی خاص وجہ ہو گی، جیسے وہ اتنے خوبصورت لگتے ہوں کہ ان کی وجہ سے خود پسندی اور بڑائی میں مبتلا ہو جانا ممکن ہو۔
تہبند کا معاملہ واضح ہے کہ مرد کو تہبند میں ٹخنے چھپانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن لولا عنعنة ھشيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ مَا جَاءَ فِي صُهَيْبِ بْنِ سِنَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11747
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِصُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيكَ لَمْ يَكُنْ بِكَ بَأْسٌ قَالَ وَمَا هُنَّ فَوَاللَّهِ مَا نَرَاكَ تَعِيبُ شَيْئًا قَالَ اكْتِنَاؤُكَ بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَادِّعَاؤُكَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْكَنُ وَأَنَّكَ لَا تُمْسِكُ الْمَالَ قَالَ أَمَّا اكْتِنَائِي بِأَبِي يَحْيَى فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي بِهَا فَلَا أَدَعُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ وَأَمَّا ادِّعَائِي إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ فَإِنِّي امْرُؤٌ مِنْهُمْ وَلَكِنْ اسْتُرْضِعَ لِي بِالْأَيْلَةِ فَهَذِهِ اللُّكْنَةُ مِنْ ذَاكَ وَأَمَّا الْمَالُ فَهَلْ تَرَانِي أُنْفِقُ إِلَّا فِي حَقٍّ
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کے اندر تین خصلتیں نہ ہوں تو آپ میں کوئی حرج نہیں ہو گا، انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی ہیں؟ اللہ کی قسم! آپ کو کسی چیز کی عیب جوئی کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک تو یہ کہ آپ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ آپ کی اولاد نہیں، دوسرے یہ کہ آپ نمر بن قاسط جیسے عظیم شخص کی طرف انتساب کرتے ہیں، جبکہ آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت ہے اور تیسری بات یہ کہ آپ کے پاس جتنی بھی دولت آجائے آپ اسے خرچ کر ڈالتے ہیں، اسے جمع نہیں رکھتے۔ یہ سن کر انہوں نے جواباً کہا:جہاں تک میری کنیت کا تعلق ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری یہ کنیت رکھی ہے اور اب میں آپ سے ملاقات تک یعنی مرتے دم تک اس کنیت کو ترک نہیں کروں گا۔دوسری بات کہ میں نمر بن قاسط کی طرف انتساب کرتا ہوں تو میں چونکہ انہی لوگوں میں سے ہوں، تو ان کی طرف نسبت کیوں نہ کروں؟ البتہ حقیقت یہ ہے کہ میری رضاعت أیلہ میں ہوئی ہے، یہ لکنت اسی کا اثر ہے اور باقی رہا مال کو جمع رکھنے کی بجائے خرچ کر ڈالنا۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اسے ناحق خرچ کرتا ہوں؟ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11747]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي اضطراب في متنه، زيد بن اسلم لم يدرك عمر بن الخطاب، اخرجه الطبراني في الكبير: 7297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19150»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف علي اضطراب في متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11748
عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صُهَيْبًا كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَيَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَتَقُولُ إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُهَيْبٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي النَّسَبِ فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَوْصِلِ وَلَكِنِّي سُبِيتُ غُلَامًا صَغِيرًا قَدْ غَفَلْتُ أَهْلِي وَقَوْمِي وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي الطَّعَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”خِيَارُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَرَدَّ السَّلَامَ“ فَذَلِكَ الَّذِي يَحْمِلُنِي عَلَى أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یحییٰ تھی، نیز وہ خود کو عربوں کی طرف منسوب کیا کرتے تھے اور وہ لوگوں کو کثرت سے کھانا کھلایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب! آپ کی تو اولاد ہی نہیں، آپ نے ابو یحییٰ کنیت کیوں اختیار کی ہوئی ہے؟ اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اصلاً عرب ہیں اور آپ دوسروں کو کثرت سے کھانا کھلاتے ہیں،یہ تو مال کا ضیاع ہے؟ یہ سن کر سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی ہے، باقی رہا آپ کا میرے نسب کے متعلق اظہار خیال تو میں خاندانی طور پر اہل موصل کے رئیس نمر بن قاسط کے خاندان سے ہوں، البتہ میں چھوٹا بچہ تھا کہ مجھے قیدی بنا لیا گیا اور میں اپنے اہل اور قوم کو بھول بیٹھا، باقی رہا میرے کھانے کھلانے کے بارے میں آپ کی بات تو یاد رکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے، جو دوسروں کو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے۔ یہی چیز مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میں دوسروں کو کھانا کھلاؤں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11748]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل ولجھالة حمزه بن صھيب، علي اضطراب في متنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24422»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل ولجھالة حمزه بن صھيب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11749
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُكَ يَا ضِرَارُ“
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام کی بیعت کروں، پھر میں نے آپ کی خدمت میں یہ اشعار پڑھے: میں نے قسمت آزمائی والے تیر اور گانے والیوں کے گانے گناہوں کی معافی لینے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے اظہار کے لیے ترک کر دیے۔ اور اپنے محبّر نامی گھوڑے پر سوار ہو کر جاہلی قتل و غارت بھی ترک کر دی اور اب میں مشرکین کے خلاف حملے کرتا ہوں۔ اے رب میں اپنے اس سودے میں خسارانہ پاؤں، میں نے اپنا مال اور سب اہل و عیال اسلام کی خاطر چھوڑ دیئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرار! تم نے اپنی اس تجارت میں خسارے والا کام نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11749]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن سعيد الباھلي، قال ابو حاتم: منكر الحديث، مضطرب الحديث، ووھاه ابو زرعة، فقال: ليس بشيء اخرجه الطبراني في الكبير: 8132، والحاكم: 3/620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16823»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ مَا جَاءَ فِي ضِمَادِ نِ الْأَزْدِئُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ضماد ازدی رضی اللہ عنہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11750
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أُعَالِجُ مِنَ الْجُنُونِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ قَالَ فَقَالَ رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ وَالْعِيَافَةَ وَالْكَهَانَةَ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ ”عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ“ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي قَالَ فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا فَقَالُوا هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ رُدُّوهَا قَالَ فَرَدُّوهَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ضماد ازدی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ لڑکے آپ کو تنگ کرتے ہوئے آپ کا پیچھا کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے محمد! میں پاگل پن کا علاج کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ خطبہ پڑھا: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہ۔ یہ الفاظ سن کر ضماد نے عرض کیا کہ (براہِ کرم) آپ یہ کلمات مجھے دوبارہ سنا دیں، اس نے دوبارہ یہ کلمات سن کر کہا:میں شعر،فال بازی، جادو اور نجامت وغیرہ سن چکا ہوں اور جانتا بھی ہوں، میں نے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادا کیے ہوئے) ان کلمات جیسے با مقصد اور جامع کلمات آج تک نہیں سنے، یہ تو سمندر کی تہ تک پہنچنے والے کلمات ہیں، میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ کلمہ پڑھ کر وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گیا۔ وہ مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قبول اسلام اور اعتراف تمہاری اور تمہاری قوم کی طرف سے ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں یہ میری اور میری قوم کی طرف سے ہے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا ایک دستہ ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم کے پاس سے گزرا اور انہوں نے اس قوم کا کچھ سامان برتن وغیرہ لو ٹ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ضماد کی قوم ہے، ان کو ان کا سامان وا پس کر دو۔ پس صحابۂ کرام نے ان لوگوں کو ان سے لوٹا ہوا سامان واپس کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11750]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2749»
وضاحت: فوائد: … اہل مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت جسمانی اور ذہنی ایذائیں دیتے تھے، لوگ اور بچے آپ کو پاگل کہتے ہوئے آپ کے پیچھے لگے رہتے اور آپ کو پریشان کرتے تھے، سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ نے بھییہی سمجھاکہ نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاگل ہیں، سو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علاج کرنے کے لیے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کے سامنے ان کا معالجہ دم توڑ گیا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 868
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمْرَةَ بْن ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11751
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ”يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ“ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ“ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو یمنی لباس کے دو بیش قیمت خوبصورت کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ضمرہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں لے جائیں گے؟ یہ سن کر سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں تو میں جب تک ان کو اتار نہ دوں میں بیٹھوں گا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: یا اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کی مغفرت فرما۔ تو انہوں نے جلدی سے جا کر ان کپڑوں کو اتار دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11751]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، فانه كان يدلس عن الضعفاء ويدلس تدليس التسوية، اخرجه البزار: 2470، والطبراني في الكبير: 8158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19188»
وضاحت: فوائد: … ایک مسلمان کو بیش قیمت اور فاخرانہ لباس کی بجائے سادہ لباس پہننا چاہیے، ممکن ہے کہ سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ والے لباس کی وجہ سے خودپسندی اور فخر میںمبتلا ہو جانا ممکن ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11752
عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْتُ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ ثَلَاثًا وَأَرْبَعِينَ مِنْ غَزْوَةٍ إِلَى سَرِيَّةٍ
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہے اور میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ادوار میں۳۳یا۳۴ لڑائیوں میں شرکت کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11752]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19036»
وضاحت: فوائد: … سیدنا طارق بن شہاب احمسی رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ثابت ہے، البتہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث براہ راست نہ سن سکے، اہل علم کے راجح قول کے مطابق ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے، ۸۳ھ میں ان کا انتقال ہوا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ مَا جَاءَ في طَلْحَةَ بن عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11753
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ ”أَوْجَبَ طَلْحَةُ حِينَ صَنَعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ“ يَعْنِي حِينَ بَرَكَ لَهُ طَلْحَةُ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلحہ نے رسول اللہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس وجہ سے اس نے اپنے حق میں (جنت کو) ثابت کر لیا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پشت پر چڑھ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11753]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 1692، 3738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1417»
وضاحت: فوائد: … احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چٹان پر چڑھنا چاہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو زرہیں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چٹان پر نہ چڑھ سکے، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قدم رکھا، یہاں تک کہ چٹان پر چڑھ گئے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11754
عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ قَيْسٌ: رَأَيْتُ طَلْحَةَ يَدُهُ شَلَّاءُ، وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا ہاتھ شل ہو چکا تھا، انہوں نے اس کے ذریعے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آنے والے تیروں کو روکا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11754]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1385»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4063
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11755
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَهُوَ عَمُّ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا ”انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ“ قَالَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
سیدنا دہر اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا،یہ سلمہ بن عمرو بن اکوع کے چچا تھے اور اکوع کا نام سنان تھا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اکوع کے بیٹے! ادھر آکر ہمیں اپنے کلام میں سے حدی سناؤ۔ چنانچہ انہوں نے نیچے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش پر یہ رجز پڑھے:
وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اہْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَیْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
فَـأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا
اللہ کی قسم اگر اللہ کی رحمت اور توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پا سکتے، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے، ہم وہ لوگ ہیں کہ جب لوگ ہم پر ظلم کریں یا ہم پر زیادتی کرنے کا ارادہ کریں تو ہم ان کے ایسے رویہ کو برداشت نہیں کرتے۔ یا اللہ! تو ہم پر سکینت اوراطمینان نازل فرما اور اگر دشمن سے ہماری مڈ بھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11755]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي الھيثم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15641»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال ابي الھيثم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں