🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْن خَبَّابِ بن الأرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11776
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مَعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ قَالَ دَخَلُوا قَرْيَةً فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالُوا لَمْ تُرَعْ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي قَالُوا أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُنَاهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي قَالَ فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَاكَ فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ قَالَ أَيُّوبُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ قَالُوا أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهْرِ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ مَا ابْذَقَرَّ وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا
حمید بن ہلال سے روایت ہے، وہ قبیلہ عبد القیس کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، جو شروع میں خوارج کے ساتھ تھا، پھر ان سے الگ ہو گیا تھا، اس سے مروی ہے کہ خوارج ایک بستی میں داخل ہوئے، سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے خوف زدہ سے ہو کر اس بستی سے باہر نکل گئے۔ خوارج نے ان سے کہا: آپ پریشان نہ ہوں، آپ گھبرائیں نہیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ خوارج نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی خباب رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، خوارج نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہو، جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوں، براہ کرم آپ ہمیں وہ حدیث تو بیان کر دیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے اپنے والد کو سنا، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا کہ اس فتنہ کے دوران کھڑے آدمی کی بہ نسبت بیٹھا رہنے والا اور چلنے والے کی نسبت کھڑا رہنے والا اور فتنہ میں دوڑنے والے کی بہ نسبت عام رفتار سے چلنے والابہتر ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا اس قسم کے حالات سے سامنا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ حدیث کے راوی حمید کے شاگرد ایوب نے کہا: مجھے یقین ہے کہ حمید بن ہلال نے اس سے آگے یہ بھی بیان کیا کہ تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ خوارج نے پوچھا:کیا آپ نے یہ حدیث برا ہ راست اپنے والد سے سنی ہے کہ وہ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل، عبدالقیس کا ایک فرد بیان کرتا ہے کہ یہ حدیث سننے کے باوجود انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہر (دریا) کے کنارے لے جا کر ان کی گردن اڑا دی اور ان کا خون دریا کے پانی میں اس طرح چلا گویاکہ وہ جوتے کا تسمہ ہے، (یعنی وہ پانی کے اندر حل نہ ہوا اور دھاگے یا تسمے کی مانند پانی میں بہتا رہا۔) اور ان ظالموں نے ان کی ام ولد کا پیٹ بھی پھاڑ ڈالا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11776]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، والرجل المبھم الذي روي عنه حميد ان كان ثقة عنده فالاسناد صحيح، والله تعاليٰ اعلم، اخرجه الطبراني في الكبير: 3630، وابويعلي: 7215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21378»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11777
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَا ابْذَقَرَّ يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ وَقَالَ لَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ وَكَذَلِكَ قَالَ بَهْزٌ أَيْضًا
حمید بن ہلال سے ان کے دوسرے شاگرد سلیمان نے بھی یہ حدیث ان سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ انہوں نے ما ابذعر کی بجائے ما ابذ قر کا لفظ بیان کیا، تاہم دونوں کامعنی و مفہوم ایک ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کا قاتل بندہ نہ بننا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11777]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21065»
وضاحت: فوائد: … سیدناعبد اللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو بعض حضرات نے تابعین میں شمار کیا ہے،لیکن صحابہ کے تذکروں پر مشتمل کتب الاصابہ وغیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تابعی نہیں بلکہ صحابی ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21065
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11778
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْبِجَادَيْنِ ”إِنَّهُ أَوَّاهٌ“ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جسے ذوالبجادین کہا جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا: و ہ اَوّاہ ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہو جاتی ہے، وہ شخص کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرکے اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کیا کرتا اور بلند آواز سے دعائیں کیا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11778]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17592»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11779
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ“ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ“ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ
سیدنا ابن الادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ نے مجھے دیکھاتو میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ جہراً قرأت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی دکھلاوا کرنے والا ہو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو جہراًتلاوت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر فرمایا: تم کوشش کرکے بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ ابن الادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ پھر میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا کہ آپ کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو جہراً تلاوت کرتے ہوئے نمازا دا کررہا تھا۔ میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ دکھلاوا کرنے والا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا شخص ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ ذوالبجا دین رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11779]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به ھشام بن سعد، وھو ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19180»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا لقب ذوالبجادین تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے اسلام قبول کیا تو ان کے والد نے ان کے سارے کپڑے اتروا کر انہیں برہنہ کر دیا،یہ اسی طرح والدہ کے پاس پہنچے۔تو اس نے ان کو ایک بڑا کپڑا دیا اس کے دو حصے کرکے انہوںنے ایک تو بطور تہبند اور دوسرے کو جسم کے اوپر والے حصہ پر اوڑھ لیا۔ اس لیے ان کا لقب ذوالبجادین پڑ گیا۔ بِجَاد کے لفظی معانی دھاری دار چادر کے ہیں۔ زیادہ مشہور روایتیہ ہے کہ یہیتیم تھے اور ان کے چچا نے ان کی پرورش کی۔ جب یہ مسلمان ہوئے تو چچا نے ان سے ہر چیز چھین لی حتی کہ جسم کے کپرے بھی اتروا لیے۔ [الاصابۃ: ۲/ ۳۳۸] (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11780
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يُرَغِّبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تُبَاهِي بِهَا الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کی کسی دوست سے ملاقات ہوتی تو اس سے کہتے: آؤ کچھ دیر بیٹھ کر اپنے رب پر ایمان لے آئیں (یعنی رب کی باتیں کرکے اپنے ایمان کو تازہ کر لیں) اسی طرح انہوں نے ایک آدمی سے یہی بات کہہ دی تو وہ غضب ناک ہوگیا۔ اس نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن رواحہ کو دیکھیں کہ وہ آپ کے ایمان سے اعراض کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے ایمان کی طرف جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن رواحہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ ایسی مجالس کو پسند کرتا ہے جن پر فرشتوں خوش ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11780]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمارة بن زاذان وزياد بن عبد الله النميري متكلم فيھما، وقد تفردا بھذا الحديث بھذه السياقة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13832»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11781
عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَائِمًا فِي قَصَصِهِ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ يَعْنِي ابْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو كِتَابَهُ، إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ اللَّيْلِ سَاطِعٌ، يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ، إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ، أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعٌ
سنان بن ابی سنان کہتے تھے کہ انھوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کھڑے ہو کر وعظ و نصیحت فرما رہے تھے، بیچ میں انھوں نے کہا: تمہارے بھائی ابن رواحہ رضی اللہ عنہ فضول اشعار نہیں کہتے تھے، انہوں نے تو اپنے اشعار میں اس قسم کی باتیں کہی ہیں:
وَفِینَا رَسُولُ اللّٰہِ یَتْلُو کِتَابَہُ، إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ اللَّیْلِ سَاطِعُ
یَبِیتُ یُجَافِی جَنْبَہُ عَنْ فِرَاشِہِ، إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْکَافِرِینَ الْمَضَاجِعُ
أَرَانَا الْہُدٰی بَعْدَ الْعَمٰی فَقُلُوبُنَا، بِہِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ
اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں، وہ اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب رات کا معروف حصہ گزر جاتا ہے۔
یہ رات اس حال میں بسر کرتا ہے کہ اس کا پہلو بستر سے الگ ہوتا ہے۔ جبکہ کافر اپنے بستروں پر بوجھ بنے ہوئے یعنی سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری گمراہی کے بعد ہمیں ہدایت دکھائی، ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں سچ ہے اور پورا ہونے والا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11781]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15829»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن رواحہ خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ سابقین میں سے ہیں، بیعت عقبہ میں یہ بھی موجود تھے، یہ بنو حارث بن خزرج کے نقیب تھے، غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، حدیبیہ، غزوۂ خیبر اور عمرۂ قضا میں انھوں نے شرکت کی، جمادی الثانیہ (۸) سن ہجری میں غزوۂ موتہ میں یہ شہید ہو گئے، جبکہ یہ اس لشکر کے تیسرے نمبر کے امیر تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11782
عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمَّةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَارَكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں ان کو حمل ہو گیا تھا، یہ بچہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہتی ہیں: جب ایام حمل پورے ہو چکے تھے کہ تو میں مکہ سے روانہ ہو کر مدینہ منورہ کی طرف چل دی اورقباء میں آکر ٹھہری اور میں نے ان کو وہیں جنم دیا اور اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب دہن گیا تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گھٹی دی، اس کے حق میں دعا فرمائی اور برکت کی دعا بھی کی، اسلام میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔! اس سے مراد یہ ہے کہ مدینہ میں مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والا یہ پہلا بچہ تھا۔ ورنہ مہاجرین کا مدینہ کے علاوہ پہلا بچہ عبداللہ بن جعفر تھا جو حبشہ میں پیدا ہوا اور ہجرت کے بعد انصار کے ہاں پہلا بچہ مسلمہ بن مخلد تھا۔ [فتح الباری: ج۷، ص ۲۴۸] (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11782]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3909، 5469،ومسلم: 2146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27477»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3909
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11783
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ فَقَالَ: ”هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور فرمایا: اس کا نام عبداللہ ہے اور (عائشہ!) تم ام عبداللہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11783]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4970 وقولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
وضاحت: فوائد: … یہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی اولاد نہیں تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بھانجے کے نام پہ ان کی کنیت رکھی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بن سَلَام رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11784
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَةَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: ”سَلْ“، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمِنْ أَيْنَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا، قَالَ ذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَهُ الْوَلَدِ أَبَاهُ وَأُمَّهُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ إِلَيْهِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَيْهَا“، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي يَبْهُتُونِي عِنْدَكَ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي أَيُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: ”أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ?“، قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَهُنَا وَابْنُ أَفْقَهِنَا، قَالَ: ”أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ?“، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا، فَقَالَ: ابْنُ سَلَامٍ هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ان باتوں کو صرف نبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پوچھو۔ انہوں نے کہا: علامات قیامت میں سب سے پہلی علامت کیا ہے، اہل جنت سب سے پہلے کون سی چیز کھائیں گے اور بچے کی اپنے ماں باپ سے مشابہت کیوں کر ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان باتوں کے متعلق جبریل علیہ السلام ابھی ابھی مجھے بتلا کر گئے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ فرشتہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی اولین نشانی وہ آگ ہے، جو مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو جمع کرتی ہوئی مغرب کی طرف لائے گی،اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی اس کے باپ یا ماں کے ساتھ مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ ماں کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ یہ جوابات سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔)پھر سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ بہتان طراز قسم کے لوگ ہیں، اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پتہ چل گیا تو آپ کے پاس آکر وہ مجھ پر بہتان باندھیں گے، آپ ان کے ہاں پیغام بھیج کر ان سے میرے متعلق دریافت کرلیں کہ ان کے ہاں ابن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں ابن سلام کا کیا مقام ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ ہم سے بہت اچھا ہے اور بہت اچھے آدمی کا بیٹا ہے، وہ ہمارا عالم ہے اور ہمارے ایک بڑے عالم کا بیٹا ہے، وہ ہم میں سے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والا اور سب سے زیادہ دین کو سمجھنے والے کا بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بتلاؤ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم مسلمان ہو جاؤ گے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اسے اس کام سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ سامنے آگئے اور پکار کر کہا: اَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں۔)یہ سن کر یہودی اسی وقت کہنے لگے: یہ تو ہم میں سب سے برا ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے، یہ تو ہم میں سے جاہل اور جاہل آدمی کا بیٹا ہے، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسی بات سے ڈرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11784]
تخریج الحدیث: «اخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 3329، 3938، 4480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12080»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو قینقاع سے تھا، یہ بنو خزرج کے حلیف تھے، ایک قول کے مطابق دورِ جاہلیت میں ان کا نام حصین تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبد اللہ رکھا، مذہباً یہودی تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت یہ مسلمان ہو گئے،یہ (۴۳) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 3329
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11785
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَيٍّ مِنَ النَّاسِ يَمْشِي أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا کسی بھی زندہ شخص کے متعلق نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا ہو کہ وہ جنتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11785]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3812،ومسلم: 2483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1453»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف صحابہ کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی ہے، ممکن ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ان واقعات کا علم نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں